مادہ پرستی،کریںٔرازم اور اسلام
03 جون، 2026
مال کمانے کی خواہش ہر فرد کی ایک ایسی صفت ہے جو تقریباً ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔ مادہ پرستی کہتے ہیں، دنیاوی زندگی کی آسائشوں کو پانے میں اس قدر منہمک ہو جانا کہ انسان اپنے آپ کو بھول جائے۔ حتیٰ کہ اپنے خالق و مالک اور رب کو بھی بھلا بیٹھے۔ جب انسان اپنی زندگی میں اولین ترجیح مال و اسباب جمع کرنے کو بنا لیتا ہے تو وہ ایک مادہ پرست شخص بن جاتا ہے۔ جبکہ اصل ترجیح انسان کو اخروی زندگی کو دینا چاہئے جو ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی ہے۔ مادیّت ہی جب مقصدِ حیات بن جائے تو رب کو بھلا دینا فطری امر ہے۔ ایسا شخص مادیت کی پرستش میں ہر کچھ کر گزر جانا چاہتا ہے۔ انسان بھلا دیتا ہے کہ وہ اس دنیا میں کیوں آیا ہے اور اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ وہ صحیح اور غلط کی تمیز نہیں کر پاتا۔ جبکہ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے، "تمہاری دولت اور اولاد کچھ نہیں سوائے آزمائش کے اور اللہ کے پاس اجرِ عظیم ہے۔"
مذکورہ بالا آیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان کو دولت اور مادی وسائل حاصل نہیں کرنا چاہیے یا دنیاوی زندگی سے منہ موڑ لینا چاہیے۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مادی اشیا کو اللہ نے ایک آزمائش بنایا ہے۔ اس لئے اس میں گم ہو جانا اور دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں فوقیت دینا اور اس کو اپنی منزلِ مقصود سمجھ لینا دراصل حماقت ہے۔ مادہ پرستی ایسا زہر ہے جس کے چکھنے سے پہلے اس کی بو سے ہی انسان ہلاکت کے دہانے تک پہنچ جاتا ہے۔ مادہ پرستی انسانوں میں حسد، جلن، کینہ اور بغض جیسے احساسات کو جنم دیتی ہے۔ یہ ایک ایسی صفت ہے جس کے باعث انسان ہی انسانوں سے دور ہو جاتا ہے۔ مادہ پرستی انسان میں خود غرضی کے جذبات کو جنم دیتی ہے۔ مادہ پرست شخص صرف اپنے ہی لیے جیتا ہے اور اپنے ہی لیے تمام طرح کے کام کرتا ہے۔
دورِ حاضر میں کریئرازم کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ ہر انسان پر کریئر کو بہتر بنانے کی دُھن سوار ہے۔ حقیقتاً کریئر کو پانے کی جدوجہد کرنا کوئی بری بات نہیں ہے، لیکن جب انسان حد سے زیادہ تجاوز کرنے لگ جائے تو کوئی بھی شے اس کے لئے باعثِ زوال بن جاتی ہے۔ اسلام میں اچھا کریئر چن کر پیسہ کمانے کی آزادی ہے مگر ہر کریئر میں انسان کو اس بات کی سوجھ بوجھ ہونا ضروری ہے کہ جس شعبے میں بھی وہ اپنا کریئر بنانا چاہتا ہے، کیا اس طریقے سے پیسہ کمانا حلال ہے؟ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "ایک وقت ایسا آئے گا جب انسان کو خبر بھی نہ ہوگی کہ مال حلال ہے یا حرام۔" اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کو ان تمام باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اگر اسلام میں اچھا کریئر منتخب کرنے یا پیسہ کمانے کی ممانعت ہوتی تو اس کی اجازت ہی نہیں دی جاتی اور پیسہ کمانے کو برا سمجھا جاتا۔ اگر ایسا ہوتا تو حضرت سلیمانؐ کو اللہ دولت اور حکومت سے نہ نوازتا۔ حضرت خدیجہؓ اتنی امیر اور بڑی تاجرہ نہ ہوتیں۔
اسلام میں اس بات کا حکم نہیں ملتا کہ تم اپنے دلوں سے مال کمانے اور اچھی زندگی کی خواہش کو جڑ سے نکال پھینکو۔ مادی آسودگی کی خواہش انسان کی فطرت میں شامل ہے اور اسلام نے انسانی فطرت کا خیال رکھا ہے۔ اسلام میں بہتر کریئر کا انتخاب کرنا اور اس کے ذریعہ مادی وسائل حاصل کرنا کوئی بُری بات نہیں ہے۔ لیکن ان مادی وسائل کو سب کچھ سمجھ لینا اور بحیثیت انسان جو ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں ان کی ادائیگی سے صرفِ نظر کرنا یہ زیادتی ہے۔
آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہر انسان مادیت اور دنیاوی عیش و آرام کی طرف دوڑ رہا ہے۔ اس دوڑ بھاگ میں انسان اپنے آپ سے اور اپنے خالق سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جب ہم اللہ سے دور ہو جاتے ہیں تو ناکامیاں ہمارا مقدر بن جاتی ہیں۔ہماری زندگیوں سے سکون ختم ہو جاتا ہے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ مال کے حصول کے لئے زندگی کو قربان کیا جائے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ سب کچھ قربان کر کے اللہ کو پا لیا جائے۔
یہ دنیا عارضی دنیا ہے، انسان کا مستقل ٹھکانہ آخرت کی زندگی ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ سکندر اور قارون جیسے لوگوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ کیسے وہ موت کے سامنے بے بس ہو کر رہ گئے۔ ان کے مال و اسباب اور سلطنت ان کے کسی کام نہ آئی۔ ایک با شعور اور عقل مند و عارف شخص کبھی بھی اپنے آپ کو مادہ پرستی میں ملوث نہیں ہونے دے سکتا۔ یوسفؐ کو اللہ نے مصر کا بادشاہ بنایا، حضرت عمرؓ اپنے وقت کی سب سے بڑی حکومت کے خلیفہ رہے، لیکن کیا یہ حضرات مادہ پرست تھے؟ ہرگز نہیں، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کی حقیقت سے واقف تھے اور اس کی حیثیت کو جانتے تھے۔ اس لئے انہوں نے بقدرِ ضرورت دنیا کو حاصل کیا اور باقی آخرت کے لئے قربان کر دیا۔
لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ دنیا کو پانے میں کس قدر منہمک ہیں۔ وہ تیزی سے اپنی قبروں کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن انہیں اس کا خیال نہیں۔ مادیت کی اس دوڑ میں انسانوں نے انسانیت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مادہ پرستی کے نتیجے میں زمین فساد سے بھر چکی ہے۔
اسلام مکمل نظامِ حیات ہے۔ اسلام انسان کو اس کی قدرت کے مطابق دنیا کمانے اور اس سے فائدہ حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن حد سے تجاوز کرنے سے روکتا ہے۔ اللہ نے جو حدود ہمارے لئے متعین کی ہیں وہ ہمارے ذہنوں پر پتھر کی لکیر کی طرح نقش ہو جانی چاہئیں۔ ہمیں دنیا کی متاع سے اتنا ہی فائدہ اٹھانا چاہئے جتنا کہ ایک راہ چلتا مسافر۔۔۔۔۔ انسان کے اندر آسودگی کی خواہش ہونا ایک فطری امر ہے، لیکن اس کے ساتھ اللہ کے احکامات کا پابند ہونا ہمارا اصل امتحان ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کو صرف کریئر کے پیچھے بھاگتے ہوئے نہیں گزارنی چاہئے بلکہ آخرت کی فکر کا احساس بھی ہمارے دل میں ہونا چاہئے۔ اسلام کی رو سے کامیاب شخص وہ نہیں جو اپنی زندگی کو مادہ پرستی کی بھینٹ چڑھا دے اور زندگی کی آسائشیں حاصل کرنے میں صرف کر دے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انسان اللہ کی مقرر کردہ حدود میں دنیا کی لذتیں بھی حاصل کرے اور اللہ اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرے اور مادہ پرستی کو اپنے اوپر قابض ہونے سے روکے رکھے۔ جب کسی انسان پر دنیا کی محبت اور طلب غالب آ جاتی ہے تو اس کا دل سخت ہو جاتا ہے۔ اس کے دل سے آخرت کی فکر نکال دی جاتی ہے۔
انسان میں مادہ پرستی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب وہ قناعت اور میانہ روی سے دور ہو جاتا ہے۔ قناعت پسندی کیا ہے، اللہ کے پہنچائے ہوئے رزق پر راضی ہونا اور فضول خرچی سے رک جانا۔ حضرت موسیٰ کی قوم پر من و سلوٰی اتار گیا لیکن جب اس قوم نے ناشکری کی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دے کر مادہ پرستی کو اپنایا تب اللہ کا عذاب ان پر نازل ہوا۔ بہت سے افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ قابیل نے ہابیل کو 'حسد' کی بنیاد پر قتل کیا تھا، حسد بنیادی طور پر مادہ پرستی کا ہی ایک مظہر ہے۔ جب انسان مادہ پرست ہونے لگتا ہے تو پھر وہ دوسروں کو دیکھ کر حسد کرتا ہے۔ اسلام کے نقطۂ نظر کے مطابق انسان کے لئے یہ دنیا امتحان گاہ ہے اور یہاں وہ جس طرح کے اعمال کرے گا اسی کے بقدر اخروی زندگی میں اسے بدلہ حاصل ہوگا۔
"ہم نے موت و حیات کی تخلیق اس لئے کی کہ دیکھیں کہ کون بہترین اعمال کرنے والا ہے۔" (سورۂ الملک)
اس اصول کے مطابق اگر انسان دنیا میں زندگی گزارتا ہے تو مادہ پرستی اور اس کی خباثتوں سے محفوظ ایک خوش و خرم اور مثالی زندگی گزار سکتا ہے۔
وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ۔*مادہ پرستی،کریںٔرازم اور اسلام*
از قلم صباحت فردوس
مال کمانے کی خواہش ہر فرد کی ایک ایسی صفت ہے جو تقریباً ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔ مادہ پرستی کہتے ہیں، دنیاوی زندگی کی آسائشوں کو پانے میں اس قدر منہمک ہو جانا کہ انسان اپنے آپ کو بھول جائے۔ حتیٰ کہ اپنے خالق و مالک اور رب کو بھی بھلا بیٹھے۔ جب انسان اپنی زندگی میں اولین ترجیح مال و اسباب جمع کرنے کو بنا لیتا ہے تو وہ ایک مادہ پرست شخص بن جاتا ہے۔ جبکہ اصل ترجیح انسان کو اخروی زندگی کو دینا چاہئے جو ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی ہے۔ مادیّت ہی جب مقصدِ حیات بن جائے تو رب کو بھلا دینا فطری امر ہے۔ ایسا شخص مادیت کی پرستش میں ہر کچھ کر گزر جانا چاہتا ہے۔ انسان بھلا دیتا ہے کہ وہ اس دنیا میں کیوں آیا ہے اور اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ وہ صحیح اور غلط کی تمیز نہیں کر پاتا۔ جبکہ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے، "تمہاری دولت اور اولاد کچھ نہیں سوائے آزمائش کے اور اللہ کے پاس اجرِ عظیم ہے۔"
مذکورہ بالا آیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان کو دولت اور مادی وسائل حاصل نہیں کرنا چاہیے یا دنیاوی زندگی سے منہ موڑ لینا چاہیے۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مادی اشیا کو اللہ نے ایک آزمائش بنایا ہے۔ اس لئے اس میں گم ہو جانا اور دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں فوقیت دینا اور اس کو اپنی منزلِ مقصود سمجھ لینا دراصل حماقت ہے۔ مادہ پرستی ایسا زہر ہے جس کے چکھنے سے پہلے اس کی بو سے ہی انسان ہلاکت کے دہانے تک پہنچ جاتا ہے۔ مادہ پرستی انسانوں میں حسد، جلن، کینہ اور بغض جیسے احساسات کو جنم دیتی ہے۔ یہ ایک ایسی صفت ہے جس کے باعث انسان ہی انسانوں سے دور ہو جاتا ہے۔ مادہ پرستی انسان میں خود غرضی کے جذبات کو جنم دیتی ہے۔ مادہ پرست شخص صرف اپنے ہی لیے جیتا ہے اور اپنے ہی لیے تمام طرح کے کام کرتا ہے۔
دورِ حاضر میں کریئرازم کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ ہر انسان پر کریئر کو بہتر بنانے کی دُھن سوار ہے۔ حقیقتاً کریئر کو پانے کی جدوجہد کرنا کوئی بری بات نہیں ہے، لیکن جب انسان حد سے زیادہ تجاوز کرنے لگ جائے تو کوئی بھی شے اس کے لئے باعثِ زوال بن جاتی ہے۔ اسلام میں اچھا کریئر چن کر پیسہ کمانے کی آزادی ہے مگر ہر کریئر میں انسان کو اس بات کی سوجھ بوجھ ہونا ضروری ہے کہ جس شعبے میں بھی وہ اپنا کریئر بنانا چاہتا ہے، کیا اس طریقے سے پیسہ کمانا حلال ہے؟ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "ایک وقت ایسا آئے گا جب انسان کو خبر بھی نہ ہوگی کہ مال حلال ہے یا حرام۔" اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کو ان تمام باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اگر اسلام میں اچھا کریئر منتخب کرنے یا پیسہ کمانے کی ممانعت ہوتی تو اس کی اجازت ہی نہیں دی جاتی اور پیسہ کمانے کو برا سمجھا جاتا۔ اگر ایسا ہوتا تو حضرت سلیمانؐ کو اللہ دولت اور حکومت سے نہ نوازتا۔ حضرت خدیجہؓ اتنی امیر اور بڑی تاجرہ نہ ہوتیں۔
اسلام میں اس بات کا حکم نہیں ملتا کہ تم اپنے دلوں سے مال کمانے اور اچھی زندگی کی خواہش کو جڑ سے نکال پھینکو۔ مادی آسودگی کی خواہش انسان کی فطرت میں شامل ہے اور اسلام نے انسانی فطرت کا خیال رکھا ہے۔ اسلام میں بہتر کریئر کا انتخاب کرنا اور اس کے ذریعہ مادی وسائل حاصل کرنا کوئی بُری بات نہیں ہے۔ لیکن ان مادی وسائل کو سب کچھ سمجھ لینا اور بحیثیت انسان جو ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں ان کی ادائیگی سے صرفِ نظر کرنا یہ زیادتی ہے۔
آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہر انسان مادیت اور دنیاوی عیش و آرام کی طرف دوڑ رہا ہے۔ اس دوڑ بھاگ میں انسان اپنے آپ سے اور اپنے خالق سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جب ہم اللہ سے دور ہو جاتے ہیں تو ناکامیاں ہمارا مقدر بن جاتی ہیں۔ہماری زندگیوں سے سکون ختم ہو جاتا ہے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ مال کے حصول کے لئے زندگی کو قربان کیا جائے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ سب کچھ قربان کر کے اللہ کو پا لیا جائے۔
یہ دنیا عارضی دنیا ہے، انسان کا مستقل ٹھکانہ آخرت کی زندگی ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ سکندر اور قارون جیسے لوگوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ کیسے وہ موت کے سامنے بے بس ہو کر رہ گئے۔ ان کے مال و اسباب اور سلطنت ان کے کسی کام نہ آئی۔ ایک با شعور اور عقل مند و عارف شخص کبھی بھی اپنے آپ کو مادہ پرستی میں ملوث نہیں ہونے دے سکتا۔ یوسفؐ کو اللہ نے مصر کا بادشاہ بنایا، حضرت عمرؓ اپنے وقت کی سب سے بڑی حکومت کے خلیفہ رہے، لیکن کیا یہ حضرات مادہ پرست تھے؟ ہرگز نہیں، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کی حقیقت سے واقف تھے اور اس کی حیثیت کو جانتے تھے۔ اس لئے انہوں نے بقدرِ ضرورت دنیا کو حاصل کیا اور باقی آخرت کے لئے قربان کر دیا۔
لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ دنیا کو پانے میں کس قدر منہمک ہیں۔ وہ تیزی سے اپنی قبروں کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن انہیں اس کا خیال نہیں۔ مادیت کی اس دوڑ میں انسانوں نے انسانیت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مادہ پرستی کے نتیجے میں زمین فساد سے بھر چکی ہے۔
اسلام مکمل نظامِ حیات ہے۔ اسلام انسان کو اس کی قدرت کے مطابق دنیا کمانے اور اس سے فائدہ حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن حد سے تجاوز کرنے سے روکتا ہے۔ اللہ نے جو حدود ہمارے لئے متعین کی ہیں وہ ہمارے ذہنوں پر پتھر کی لکیر کی طرح نقش ہو جانی چاہئیں۔ ہمیں دنیا کی متاع سے اتنا ہی فائدہ اٹھانا چاہئے جتنا کہ ایک راہ چلتا مسافر۔۔۔۔۔ انسان کے اندر آسودگی کی خواہش ہونا ایک فطری امر ہے، لیکن اس کے ساتھ اللہ کے احکامات کا پابند ہونا ہمارا اصل امتحان ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کو صرف کریئر کے پیچھے بھاگتے ہوئے نہیں گزارنی چاہئے بلکہ آخرت کی فکر کا احساس بھی ہمارے دل میں ہونا چاہئے۔ اسلام کی رو سے کامیاب شخص وہ نہیں جو اپنی زندگی کو مادہ پرستی کی بھینٹ چڑھا دے اور زندگی کی آسائشیں حاصل کرنے میں صرف کر دے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انسان اللہ کی مقرر کردہ حدود میں دنیا کی لذتیں بھی حاصل کرے اور اللہ اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرے اور مادہ پرستی کو اپنے اوپر قابض ہونے سے روکے رکھے۔ جب کسی انسان پر دنیا کی محبت اور طلب غالب آ جاتی ہے تو اس کا دل سخت ہو جاتا ہے۔ اس کے دل سے آخرت کی فکر نکال دی جاتی ہے۔
انسان میں مادہ پرستی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب وہ قناعت اور میانہ روی سے دور ہو جاتا ہے۔ قناعت پسندی کیا ہے، اللہ کے پہنچائے ہوئے رزق پر راضی ہونا اور فضول خرچی سے رک جانا۔ حضرت موسیٰ کی قوم پر من و سلوٰی اتار گیا لیکن جب اس قوم نے ناشکری کی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دے کر مادہ پرستی کو اپنایا تب اللہ کا عذاب ان پر نازل ہوا۔ بہت سے افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ قابیل نے ہابیل کو 'حسد' کی بنیاد پر قتل کیا تھا، حسد بنیادی طور پر مادہ پرستی کا ہی ایک مظہر ہے۔ جب انسان مادہ پرست ہونے لگتا ہے تو پھر وہ دوسروں کو دیکھ کر حسد کرتا ہے۔ اسلام کے نقطۂ نظر کے مطابق انسان کے لئے یہ دنیا امتحان گاہ ہے اور یہاں وہ جس طرح کے اعمال کرے گا اسی کے بقدر اخروی زندگی میں اسے بدلہ حاصل ہوگا۔
"ہم نے موت و حیات کی تخلیق اس لئے کی کہ دیکھیں کہ کون بہترین اعمال کرنے والا ہے۔" (سورۂ الملک)
اس اصول کے مطابق اگر انسان دنیا میں زندگی گزارتا ہے تو مادہ پرستی اور اس کی خباثتوں سے محفوظ ایک خوش و خرم اور مثالی زندگی گزار سکتا ہے۔
وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ۔
مال کمانے کی خواہش ہر فرد کی ایک ایسی صفت ہے جو تقریباً ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔ مادہ پرستی کہتے ہیں، دنیاوی زندگی کی آسائشوں کو پانے میں اس قدر منہمک ہو جانا کہ انسان اپنے آپ کو بھول جائے۔ حتیٰ کہ اپنے خالق و مالک اور رب کو بھی بھلا بیٹھے۔ جب انسان اپنی زندگی میں اولین ترجیح مال و اسباب جمع کرنے کو بنا لیتا ہے تو وہ ایک مادہ پرست شخص بن جاتا ہے۔ جبکہ اصل ترجیح انسان کو اخروی زندگی کو دینا چاہئے جو ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی ہے۔ مادیّت ہی جب مقصدِ حیات بن جائے تو رب کو بھلا دینا فطری امر ہے۔ ایسا شخص مادیت کی پرستش میں ہر کچھ کر گزر جانا چاہتا ہے۔ انسان بھلا دیتا ہے کہ وہ اس دنیا میں کیوں آیا ہے اور اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ وہ صحیح اور غلط کی تمیز نہیں کر پاتا۔ جبکہ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے، "تمہاری دولت اور اولاد کچھ نہیں سوائے آزمائش کے اور اللہ کے پاس اجرِ عظیم ہے۔"
مذکورہ بالا آیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان کو دولت اور مادی وسائل حاصل نہیں کرنا چاہیے یا دنیاوی زندگی سے منہ موڑ لینا چاہیے۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مادی اشیا کو اللہ نے ایک آزمائش بنایا ہے۔ اس لئے اس میں گم ہو جانا اور دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں فوقیت دینا اور اس کو اپنی منزلِ مقصود سمجھ لینا دراصل حماقت ہے۔ مادہ پرستی ایسا زہر ہے جس کے چکھنے سے پہلے اس کی بو سے ہی انسان ہلاکت کے دہانے تک پہنچ جاتا ہے۔ مادہ پرستی انسانوں میں حسد، جلن، کینہ اور بغض جیسے احساسات کو جنم دیتی ہے۔ یہ ایک ایسی صفت ہے جس کے باعث انسان ہی انسانوں سے دور ہو جاتا ہے۔ مادہ پرستی انسان میں خود غرضی کے جذبات کو جنم دیتی ہے۔ مادہ پرست شخص صرف اپنے ہی لیے جیتا ہے اور اپنے ہی لیے تمام طرح کے کام کرتا ہے۔
دورِ حاضر میں کریئرازم کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ ہر انسان پر کریئر کو بہتر بنانے کی دُھن سوار ہے۔ حقیقتاً کریئر کو پانے کی جدوجہد کرنا کوئی بری بات نہیں ہے، لیکن جب انسان حد سے زیادہ تجاوز کرنے لگ جائے تو کوئی بھی شے اس کے لئے باعثِ زوال بن جاتی ہے۔ اسلام میں اچھا کریئر چن کر پیسہ کمانے کی آزادی ہے مگر ہر کریئر میں انسان کو اس بات کی سوجھ بوجھ ہونا ضروری ہے کہ جس شعبے میں بھی وہ اپنا کریئر بنانا چاہتا ہے، کیا اس طریقے سے پیسہ کمانا حلال ہے؟ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "ایک وقت ایسا آئے گا جب انسان کو خبر بھی نہ ہوگی کہ مال حلال ہے یا حرام۔" اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کو ان تمام باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اگر اسلام میں اچھا کریئر منتخب کرنے یا پیسہ کمانے کی ممانعت ہوتی تو اس کی اجازت ہی نہیں دی جاتی اور پیسہ کمانے کو برا سمجھا جاتا۔ اگر ایسا ہوتا تو حضرت سلیمانؐ کو اللہ دولت اور حکومت سے نہ نوازتا۔ حضرت خدیجہؓ اتنی امیر اور بڑی تاجرہ نہ ہوتیں۔
اسلام میں اس بات کا حکم نہیں ملتا کہ تم اپنے دلوں سے مال کمانے اور اچھی زندگی کی خواہش کو جڑ سے نکال پھینکو۔ مادی آسودگی کی خواہش انسان کی فطرت میں شامل ہے اور اسلام نے انسانی فطرت کا خیال رکھا ہے۔ اسلام میں بہتر کریئر کا انتخاب کرنا اور اس کے ذریعہ مادی وسائل حاصل کرنا کوئی بُری بات نہیں ہے۔ لیکن ان مادی وسائل کو سب کچھ سمجھ لینا اور بحیثیت انسان جو ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں ان کی ادائیگی سے صرفِ نظر کرنا یہ زیادتی ہے۔
آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہر انسان مادیت اور دنیاوی عیش و آرام کی طرف دوڑ رہا ہے۔ اس دوڑ بھاگ میں انسان اپنے آپ سے اور اپنے خالق سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جب ہم اللہ سے دور ہو جاتے ہیں تو ناکامیاں ہمارا مقدر بن جاتی ہیں۔ہماری زندگیوں سے سکون ختم ہو جاتا ہے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ مال کے حصول کے لئے زندگی کو قربان کیا جائے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ سب کچھ قربان کر کے اللہ کو پا لیا جائے۔
یہ دنیا عارضی دنیا ہے، انسان کا مستقل ٹھکانہ آخرت کی زندگی ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ سکندر اور قارون جیسے لوگوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ کیسے وہ موت کے سامنے بے بس ہو کر رہ گئے۔ ان کے مال و اسباب اور سلطنت ان کے کسی کام نہ آئی۔ ایک با شعور اور عقل مند و عارف شخص کبھی بھی اپنے آپ کو مادہ پرستی میں ملوث نہیں ہونے دے سکتا۔ یوسفؐ کو اللہ نے مصر کا بادشاہ بنایا، حضرت عمرؓ اپنے وقت کی سب سے بڑی حکومت کے خلیفہ رہے، لیکن کیا یہ حضرات مادہ پرست تھے؟ ہرگز نہیں، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کی حقیقت سے واقف تھے اور اس کی حیثیت کو جانتے تھے۔ اس لئے انہوں نے بقدرِ ضرورت دنیا کو حاصل کیا اور باقی آخرت کے لئے قربان کر دیا۔
لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ دنیا کو پانے میں کس قدر منہمک ہیں۔ وہ تیزی سے اپنی قبروں کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن انہیں اس کا خیال نہیں۔ مادیت کی اس دوڑ میں انسانوں نے انسانیت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مادہ پرستی کے نتیجے میں زمین فساد سے بھر چکی ہے۔
اسلام مکمل نظامِ حیات ہے۔ اسلام انسان کو اس کی قدرت کے مطابق دنیا کمانے اور اس سے فائدہ حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن حد سے تجاوز کرنے سے روکتا ہے۔ اللہ نے جو حدود ہمارے لئے متعین کی ہیں وہ ہمارے ذہنوں پر پتھر کی لکیر کی طرح نقش ہو جانی چاہئیں۔ ہمیں دنیا کی متاع سے اتنا ہی فائدہ اٹھانا چاہئے جتنا کہ ایک راہ چلتا مسافر۔۔۔۔۔ انسان کے اندر آسودگی کی خواہش ہونا ایک فطری امر ہے، لیکن اس کے ساتھ اللہ کے احکامات کا پابند ہونا ہمارا اصل امتحان ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کو صرف کریئر کے پیچھے بھاگتے ہوئے نہیں گزارنی چاہئے بلکہ آخرت کی فکر کا احساس بھی ہمارے دل میں ہونا چاہئے۔ اسلام کی رو سے کامیاب شخص وہ نہیں جو اپنی زندگی کو مادہ پرستی کی بھینٹ چڑھا دے اور زندگی کی آسائشیں حاصل کرنے میں صرف کر دے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انسان اللہ کی مقرر کردہ حدود میں دنیا کی لذتیں بھی حاصل کرے اور اللہ اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرے اور مادہ پرستی کو اپنے اوپر قابض ہونے سے روکے رکھے۔ جب کسی انسان پر دنیا کی محبت اور طلب غالب آ جاتی ہے تو اس کا دل سخت ہو جاتا ہے۔ اس کے دل سے آخرت کی فکر نکال دی جاتی ہے۔
انسان میں مادہ پرستی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب وہ قناعت اور میانہ روی سے دور ہو جاتا ہے۔ قناعت پسندی کیا ہے، اللہ کے پہنچائے ہوئے رزق پر راضی ہونا اور فضول خرچی سے رک جانا۔ حضرت موسیٰ کی قوم پر من و سلوٰی اتار گیا لیکن جب اس قوم نے ناشکری کی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دے کر مادہ پرستی کو اپنایا تب اللہ کا عذاب ان پر نازل ہوا۔ بہت سے افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ قابیل نے ہابیل کو 'حسد' کی بنیاد پر قتل کیا تھا، حسد بنیادی طور پر مادہ پرستی کا ہی ایک مظہر ہے۔ جب انسان مادہ پرست ہونے لگتا ہے تو پھر وہ دوسروں کو دیکھ کر حسد کرتا ہے۔ اسلام کے نقطۂ نظر کے مطابق انسان کے لئے یہ دنیا امتحان گاہ ہے اور یہاں وہ جس طرح کے اعمال کرے گا اسی کے بقدر اخروی زندگی میں اسے بدلہ حاصل ہوگا۔
"ہم نے موت و حیات کی تخلیق اس لئے کی کہ دیکھیں کہ کون بہترین اعمال کرنے والا ہے۔" (سورۂ الملک)
اس اصول کے مطابق اگر انسان دنیا میں زندگی گزارتا ہے تو مادہ پرستی اور اس کی خباثتوں سے محفوظ ایک خوش و خرم اور مثالی زندگی گزار سکتا ہے۔
وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ۔