Translation unavailable. Showing original.
بچوں پر غیر محسوس تعلیمی دباؤ
03 جون، 2026
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں بچوں کی قدر ان کی شخصیت، اخلاق یا صلاحیتوں سے نہیں بلکہ رپورٹ کارڈ کے نمبروں سے کی جاتی ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی ایک ایسی دوڑ میں دھکیل دیا جاتا ہے جس کی منزل اکثر خود اسے بھی معلوم نہیں ہوتی۔ اسے بار بار بتایا جاتا ہے کہ اگر وہ دوسروں سے آگے نہیں نکلا تو اس کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔
بدقسمتی سے بہت سے والدین اپنی ادھوری خواہشات اور ناکام خواب بچوں پر مسلط کر دیتے ہیں۔ بچے کی دلچسپی، ذہنی صلاحیت یا پسند ناپسند کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اسے ڈاکٹر، انجینئر یا ٹاپر بننے کا حکم تو دیا جاتا ہے، مگر یہ نہیں پوچھا جاتا کہ وہ خود کیا بننا چاہتا ہے۔ گویا بچے کو ایک انسان نہیں بلکہ ایک منصوبہ سمجھا جاتا ہے جسے ہر قیمت پر کامیاب بنانا ضروری ہے۔
تعلیمی ادارے بھی اس مسئلے میں برابر کے شریک ہیں۔ وہاں تعلیم سے زیادہ نمبروں کی اہمیت ہے، سمجھنے سے زیادہ رٹنے کی قدر ہے اور کردار سے زیادہ رینک کی عزت ہے۔ جو طالب علم اچھے نمبر لے آئے وہ ذہین قرار پاتا ہے، جبکہ باقی بچوں کو خاموشی سے کم تر سمجھ لیا جاتا ہے۔
اس مسلسل دباؤ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے ناکامی سے غیر معمولی خوف محسوس کرنے لگتے ہیں۔ وہ اپنی کامیابی کو اپنی انسانیت کی قیمت سمجھنے لگتے ہیں۔ ایک امتحان میں کم نمبر آ جائیں تو انہیں یوں محسوس کرایا جاتا ہے جیسے ان کی پوری شخصیت ناکام ہو گئی ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم بچوں کو تعلیم نہیں دے رہے، بلکہ انہیں ایک بے رحم مقابلے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ ہم ان کے ذہن بھر رہے ہیں لیکن ان کے دل اور جذبات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ہم ان سے بہترین کارکردگی کا مطالبہ کرتے ہیں مگر انہیں سکون، آزادی اور غلطی کرنے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔
اگر یہی صورتحال جاری رہی تو شاید ہم اعلیٰ نمبروں والے افراد تو پیدا کر لیں، لیکن پراعتماد، خوش اور متوازن انسان پیدا کرنے میں ناکام رہیں گے۔