*🎯 زندگی سے برکت ختم کرنے والی عادات*
کچھ عادتیں ایسی ہوتی ہیں جو آہستہ آہستہ انسان کے کام، رزق اور زندگی سے برکت ختم کر دیتی ہیں، انسان کو خود اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
*➊ ناشکری*
من لم يشْكُرِ الناسَ لم يشْكُرِ اللهَ (الترمذي : ١٩٥٥)
جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔
کمائی کی جگہ سے مسلسل شکوہ کرتے رہنا "ناشکری" ہے، محاورہ بولا جاتا ہے کہ اپنی ہی کشتی میں سوراخ کرنا، ناشکرا فرد ہر وقت اپنے کام، ادارے یا ذریعہ معاش سے ناراض اور شاکی رہتا ہے، وہ دل کی راحت اور رزق کی برکت دونوں کھو دیتا ہے، شکر، برکت کو بڑھاتا ہے جبکہ ناشکری انسان کو اندر سے بے سکون کر دیتی ہے، والد ماجد دامت برکاتہم اکثر کہتے ہیں کہ "وہ تاجر اور ملازم اپنے کام میں ترقی نہیں کرسکتا جس میں شکر کا مزاج نہ ہو" ... راقم نے کئی ملازمین کو تنزلی میں دیکھا، وجہ تھی کہ وہ ہر وقت ناشکری کا رونا روتے رہتے تھے۔
*➋ احساسِ مظلومیت*
المؤمنُ القويُّ خيرٌ وأحبُّ إلى اللهِ من المؤمنِ الضعيفِ وفي كلٍ خيرٌ (مسلم : ٢٦٦٤، مطولاً)
طاقتور مؤمن اللہ کے نزدیک کمزور مؤمن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے، اگرچہ دونوں میں بھلائی موجود ہے۔
ہر وقت خود کو مظلوم سمجھنا، یہ مزاج انسان کو رفتہ رفتہ احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیتا ہے، جو شخص ہر وقت خود پر ترس کھاتا رہے، وہ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کھونے لگتا ہے، مضبوط انسان وہ ہے جو مشکلات کو اپنی رکاوٹ نہیں بناتا بلکہ ان سے نکلنے کا راستہ تلاش کرتا ہے، مرشدی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ "آج ہر آدمی خود کو مظلوم سمجھ کر ترس کا مطالبہ کررہا ہے، حق کا مطالبہ کررہا ہے، جبکہ حقوق صرف لینے کا نام نہیں ہے بلکہ دینے کا بھی نام ہے۔" .... اپنے قدم جمائیں، کامیابی پاؤں تلے ہوگی۔
*➌ خود بے قدری*
إنَّ اللهَ يُحبُّ المؤمنَ المحتَرِفَ (الطبراني في المعجم الأوسط : ٨٩٣٤)
بے شک اللہ تعالیٰ ہنر مند (کام کرنے والا، محنت کرنے والا) مؤمن کو پسند فرماتا ہے۔
اپنے کام کی عزت نہ کرنا، اپنی محنت سے خوش نہ ہونا، یہ سوچنا کہ "میں تو کسی بڑے کام کے لئے بنا تھا، یہ کام میرے معیار کا نہیں ہے" ... یہ دراصل اپنے عمل سے بے زاری کی علامت ہے، جو شخص اپنے موجودہ کام اور ذمہ داری کی قدر نہیں کرتا، وہ اکثر ترقی کے اگلے دروازے بھی بند کر لیتا ہے، کام کام ہوتا ہے، آپ کی نیت اور محنت اس کو بڑا یا چھوٹا بناتی ہے، بس کام جائز ہونا چاہیئے۔
حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ بعض مرتبہ یہ سننے میں آتا ہے کہ لوگ علم کی قدر نہیں کرتے !! پھر فرمایا کہ "جب تک تم اپنے علم کی قدر نہیں کرو گے، دنیا اس کی قدر نہیں کرے گی۔"
حقیقت یہ ہے کہ برکت کسی منڈی میں نہیں ملتی کہ ایک دو کلو یا ایک دو من خرید لی جائے، نہ برکت زیادہ کمائی اور دولت کا نام ہے، یہ تو اطمینان قلب، شکر نعمت، عزت پیشہ و عمل اور مثبت تعلق کا نام بھی ہے