*حضرت نوحؑ کشتی __!!* 

جب حضرت نوحؑ کشتی بنا رہے تھے تو ایک مومنہ بوڑھی عورت روز اللہ کے نبی کے پاس اپنی گٹھڑی لے کر آتی اور عرض کرتی:

“اے اللہ کے نبی! کشتی کب روانہ ہوگی؟”

حضرت نوحؑ فرماتے:
“ابھی دیر ہے۔”

وہ بوڑھی عورت شام تک بیٹھی رہتی اور پھر واپس چلی جاتی۔

ایک دن حضرت نوحؑ نے اس سے فرمایا:
“اے عورت! جب روانگی کا وقت آئے گا تو تمہیں بتا دیا جائے گا۔”

چنانچہ وہ عورت اپنے گھر چلی گئی اور انتظار کرنے لگی کہ کب حضرت نوحؑ اسے بلائیں گے۔ اسی دوران اللہ کا عذاب آ گیا، طوفان برپا ہوا اور کشتی روانہ ہو گئی، مگر بظاہر حضرت نوحؑ کو اس عورت کو بلانا یاد نہ رہا۔

جب طوفان تھم گیا تو ایک دن حضرت نوحؑ کے دل میں خیال آیا کہ اس شہر کو دیکھوں جہاں سے میں نکلا تھا۔ جب وہ وہاں پہنچے تو حیران رہ گئے کہ ایک جھونپڑی میں چراغ جل رہا تھا۔

حضرت نوحؑ نے تکبیر کہی تو وہی بوڑھی عورت اپنی گٹھڑی لے کر باہر آ گئی اور کہنے لگی:

“یا نبی اللہ! کیا کشتی تیار ہو گئی؟ کیا اب ہمیں چلنا ہے؟”

حضرت نوحؑ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا:
“اے بوڑھی عورت! کیا تمہیں کچھ بھی خبر نہیں ہوئی؟”

اس نے عرض کیا:
“یا نبی اللہ! مجھے کیا خبر ہونی تھی؟”

حضرت نوحؑ نے فرمایا:
“اتنا بڑا سیلاب آیا، آسمان سے بارش برسی، لوگ ہلاک ہو گئے۔ کیا تمہیں کچھ بھی معلوم نہ ہوا؟”

بوڑھی عورت نے جواب دیا:
“یا نبی اللہ! مجھے تو صرف ایک دن بادلوں کی گرج سنائی دی تھی اور تھوڑی سی ہلکی پھوہار پڑی تھی، اس کے علاوہ کچھ محسوس نہیں ہوا۔”

حضرت نوحؑ یہ سن کر حیران ہوئے اور آسمان کی طرف دیکھ کر عرض کیا:

“اے میرے رب! یہ کیا راز ہے؟”

تب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کی طرف وحی فرمائی:

“اے میرے پیارے نبی! اس عورت کے دل میں تمہاری سچی محبت تھی۔ تم نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اسے نجات کی کشتی میں سوار کرو گے۔ اگرچہ تم سے بظاہر وہ وعدہ پورا نہ ہو سکا، لیکن میں تمہارے وعدے کا ذمہ دار تھا، اس لیے میں نے عذاب کو اس عورت تک پہنچنے ہی نہیں دیا۔”

✨ سبق:
اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جو دل سچے اخلاص اور محبت سے بھرے ہوں، اللہ ان کی حفاظت خود فرماتا ہے۔