اے زمانے…
تجھے شاید کبھی احساس نہ ہو کہ تُو انسان کے دل سے کیا کیا چھین لیتا ہے۔ تو صرف وقت نہیں بدلتا، بلکہ لوگوں کی سوچ، رشتوں کی مٹھاس اور دلوں کا سکون بھی بدل دیتا ہے۔
کبھی زندگی بہت سادہ ہوا کرتی تھی۔ چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی دل کو بے حد خوش کر دیا کرتی تھیں۔ کسی اپنے کا ساتھ، چند محبت بھرے لفظ اور تھوڑی سی توجہ ہی کافی ہوتی تھی۔ مگر اب سب کچھ بدل گیا ہے۔
اب لوگ پہلے کی طرح ایک دوسرے کو محسوس نہیں کرتے۔ ہر شخص مصروف ہے، مگر نہ جانے کس چیز میں۔ چہرے ہنستے ہیں، لیکن آنکھوں میں تھکن چھپی ہوتی ہے۔ لوگ ساتھ تو ہوتے ہیں، مگر دلوں کے فاصلے ختم نہیں ہوتے۔
اے زمانے…
تو نے انسان کو مضبوط بننے پر مجبور کر دیا۔ اب لوگ اپنے درد چھپانا سیکھ گئے ہیں۔ وہ خاموش رہتے ہیں، مسکراتے بھی ہیں، مگر اندر ہی اندر بہت کچھ ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں لفظ کبھی بیان نہیں کر پاتے۔
آج اگر کوئی بدل جائے، خاموش ہو جائے، یا تنہا رہنے لگے تو لوگ اُس کا حال نہیں پوچھتے، بلکہ اُسے مغرور یا بے حس سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ بعض اوقات انسان صرف تھک جاتا ہے… لوگوں سے، امیدوں سے اور خود اپنی زندگی سے بھی۔
اے زمانے…
مجھے تجھ سے شکایت ہے کہ تُو نے رشتوں میں خلوص کم کر دیا۔ اب محبتیں بھی مطلب سے جڑی لگتی ہیں۔ لوگ وقت کے ساتھ ایک دوسرے کو بھول جاتے ہیں، جیسے احساسات کی کوئی قیمت ہی نہ ہو۔
پھر بھی دل کے کسی کونے میں ایک امید باقی رہتی ہے۔ شاید کبھی یہ دنیا دوبارہ سچے دلوں کو سمجھنے لگے، لوگ ایک دوسرے کے درد کو محسوس کریں، اور محبت دوبارہ صرف لفظ نہیں بلکہ احساس بن جائے۔