زندگی بھی عجیب چیز ہے۔ انسان صبح بڑے اعتماد سے گھر سے نکلتا ہے، دل میں ارمان ہوتے ہیں کہ آج دنیا فتح کر لیں گے، مگر شام تک دنیا تو خیر کیا فتح ہونی، خود ہی کسی نہ کسی ٹھوکر سے فتح ہو چکا ہوتا ہے۔ کبھی دروازے سے ٹکر، کبھی کرسی سے ٹھوکر، اور کبھی اپنے ہی الفاظ سے ایسی پھسلن کہ بعد میں بندہ خود سوچتا ہے: “یا اللہ! یہ میں نے کیا بول دیا؟”
ویسے سچ بات تو یہ ہے کہ اگر انسان کو ٹھوکریں نہ لگیں تو اس کی زندگی بالکل بے مزہ ہو جائے۔ ذرا سوچئے، اگر بچپن میں ہم نہ گرتے تو امی کو یہ کہنے کا موقع کیسے ملتا: “میں نے پہلے ہی کہا تھا، دوڑو مت!” اور اب تو حالت یہ ہے کہ بندہ عمر بھر دوڑتا رہتا ہے، مگر قسمت ہر موڑ پر کہتی ہے: “آؤ بیٹا، ایک نئی ٹھوکر تمہارا انتظار کر رہی ہے۔”
طالب علم کی زندگی تو خاص طور پر ٹھوکروں کا میوزیم ہوتی ہے۔ پورا سال کتابوں کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے وہ محلے کے کسی انکل کی اولاد ہوں، پھر امتحان سے ایک رات پہلے اچانک محبت جاگ اٹھتی ہے۔ رات بھر چائے، کافی اور دعاؤں کے سہارے تیاری ہوتی ہے، اور امتحان ہال میں پہنچ کر پتا چلتا ہے کہ سوال تو کسی اور ہی سیارے سے آئے ہیں۔ اس وقت انسان کو اپنی قابلیت سے زیادہ اپنی قسمت پر ہنسی آتی ہے۔
محبت میں بھی ٹھوکریں بڑی مشہور ہیں۔ بعض لوگ ایک مسکراہٹ دیکھ کر ایسے خواب بناتے ہیں جیسے شادی کل ہی ہونے والی ہو، پھر جب حقیقت سامنے آتی ہے تو دوستوں کے سامنے فلسفی بن کر کہتے ہیں: “اصل محبت تو انسانیت سے ہونی چاہیے۔” حالانکہ اندر سے دل کہہ رہا ہوتا ہے: “بھائی! بڑی زور کی ٹھوکر لگی ہے!”
لیکن ماننا پڑے گا کہ ٹھوکریں انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہیں۔ ایک ہی جگہ بار بار ٹکرانے کے بعد بندہ کم از کم یہ تو سیکھ ہی لیتا ہے کہ وہاں میز رکھی ہوئی ہے۔ اسی طرح زندگی کی ناکامیاں بھی انسان کو سمجھدار بناتی ہیں۔ جو لوگ کبھی نہیں گرے، وہ اکثر دوسروں کو گرانے کے مشورے دیتے پھرتے ہیں، جبکہ جو گر کر سنبھلے ہوں، وہی اصل زندگی سمجھتے ہیں۔
اس لیے اگر زندگی میں ٹھوکریں لگ رہی ہیں تو پریشان نہ ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ ابھی کھیل میں شامل ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ گرنے کے بعد اٹھ جائیں، کپڑے جھاڑیں، ہلکی سی ہنسی ہنسیں اور کہیں: “چلو بھائی، اگلی ٹھوکر تک سفر جاری ہے!”