قربانی کی فضیلت
مہینے اللہ کے نزدیک حرمت والے ہیں ۔رجب۔شوال۔ذی قعدہ ۔اور ذی الحجہ ، اس وقت ذی الحجہ کا مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے جو انتہائی عظمت واھمیت کا حامل ہے اس ماہ کا پہلا عشرہ عظمت وبرکت ۔ثواب وفضیلت میں اپنی آپ رکھتا ہے خود قرآن مجید اسکی اھمیت کو اجاگر کرتے ہویے قسم کھاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
وٓلٓیَالٍ عَشْرٍ۔۔۔قسم۔ہے دس راتوں کی ۔۔۔۔قسم ایسی چیزوں کھائی جاتی ہے جو مہتم بالشان ہو پتہ چلا یہ دس راتیں بہت ہی فضیلت والی چیز ہے ۔۔۔۔۔۔‌
لیکن اس عشرہ کے آخری ایام بے انتہا فضیلت والے ہیں ۔ان میں ثواب و عظمت کی باد بہاری چلنے لگتی ہیں ۔کہ ایک طرف حجاج کرام کعبہ کو اپنے جبینوں سے بسارہے ہوتے ہیں ۔صفا ومروہ پر سعی سے ہاجرہ کی یاد تازہ کرتے ہیں دوسری جانب پوری امت مسلمہ عید گاہ میں سر بسجود ہوتی ہے پھر اپنے ہاتھوں سے جانور ذبح کرتی ہے لن ينال الله لحومه‍ا ولا دماءه‍ا ولكن يناله التقوى منكم..پر پیرا ہوتی ہے ۔ابراھیمی یادگار کو زندہ کرتی ہے اور بہت ساری نیکیاں اپنے نا مۂ اعمال میں محفوظ کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔اس کے بارے میں نبی ص نے جگہ جگہ اسکی فضیلتیں بیان فرمائی ہیں ۔۔۔۔۔
ایک جگہ فرمان نبوی ہے 
 عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ ؟ قَالَ : " سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ". قَالُوا : فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ ". قَالُوا : فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ "
صحابہ نے سوال کیا یا رسول اللہ ۔قربانی کیا ہے ۔۔آپ نے فرمایا ۔قربانی تمہارے باپ ابراہیم کی سنت ہے ۔پھر صحابہ نے سوال کیا ہمیں اس میں کیا ملے گا ۔آپص نے فرمایا ۔ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی ۔صحابہ نے کہا اون میں کیا ہوگا ۔آپ نے فرمایا ہراون کے بدلے ایک نیکی ملے گی ۔۔۔۔بکری اور بھیڑ کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں اگر کوئی صبح سے شام تک تب بھی نہ گن پایے ۔لہذا سوچنے کی بات ہے کتنی زیادہ نیکیاں کمالیتا ہے 
ایک دوسری حدیث میں ہے 
عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا عَمِلُ آدَمِيٍّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ، إِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا، وَأَشْعَارِهَا، وَأَظْلَافِهَا، وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الْأَرْضِ، فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔قربانی کے ایام میں نفلی عبادات میں اللہ کو خون بہانے سے زیادہ پسند یدہ نہیں ہے کل قیامت کے دن یہ جانور اپنی سینگھوں اور کھروں کے لایا جائے گا قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے یہاں مقبول ہوجاتا ہے لہذا خوشدلی کے ساتھ قربانی کرو 
ایک دوسری جگہ قربانی نہ کرنے والوں کو دھمکی دی ہے ۔۔۔۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا ".
جو شخص قربانی کرنے گنجائش رکھے وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔

عید گاہ میں آنا تو کجا عید گاہ کے قریب بھی نہ دیا ہے ایسا شخص بڑا ہی ناکام ونا مراد ہے بے پایاں ثواب کے انبار سے دور ومحروم ہو گیا 
ایک واقعہ ہے ایک صاحب قربانی نہیں کرتے تھے، تھاتوبہت مالدار ایک دن اس نے خواب دیکھا کہ میدان قائم ہے سب اپنے جانور پہ سوار ہوکر جنت جارہے ہیں 
یہ تہی دست ہو کر کف افسوس مل رہے اتنے میں آواز آئی کہ یہ وہ لوگ ہیں جو قربانیاں کرکے اپنے لیے سواری تیار کی ہے اور آپ نے اسکی جانب اپنے قدموں کو جنبش نہیں کیا اسلیے آپ اس سے محروم ہیں پھر کبھی بھی انھوں نے ناغہ نہیں کیاتھآ ۔۔قربانی کا جانور ہمارے لیے آخرت کی سواری بنے گیں اسلیے قربانی کرنے کی کوشش کرو 
 قربانی کا جانور خریدنا ایک لاکھ روپے صدفہ کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔۔۔۔۔وَاشْتِراءاللأضحيةبعشرة دراه‍م افضل من أن يتصدقه بألف دره‍م (فتاوی عالمگیری)
ان دنوں ثواب کی خاطر قربانی زیادہ سے زیادہ کرنی کی کوشش کرنی چاہئے جن اوپر واجب نہیں وہ قربانی میں خوب خوب کرنی چاہیے تاکہ ثواب سے مالا مال ہوسکیں 
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح طرز کے موافق قربانی کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین