✍🏻 ابو خالد قاسمی
سجدہ دراصل بندگی اور عاجزی کی معراج ہے۔ یہ وہ مبارک حالت ہے جس میں بندہ اپنے ربّ کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ پیشانی کا زمین سے لگ جانا، دل کا ربّ کے حضور جھک جانا، اور روح کا خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے منسلک ہونا—یہ سب مل کر سجدے کو قربِ الٰہی کا سب سے مؤثر اور پاکیزہ راستہ بنا دیتے ہیں۔ حدیثِ نبوی ﷺ ہے: بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے ہی کی حالت میں ہوتا ہے۔
اسی لیے اولیاء و صالحین ہمیشہ یہ آرزو رکھتے ہیں کہ اُن کی زندگی کا آخری لمحہ اسی بندگی کی معراج میں گزرے۔ سجدے میں موت پانا یقیناً خوش نصیبی کی انتہا اور حسنِ خاتمہ کی بلند ترین علامت ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بندے نے پوری زندگی عبادت، اطاعت اور خشوع کے ساتھ گزاری اور ربّ نے اسے موت کے لمحے میں بھی اپنی بارگاہ کے قریب رہنے کی سعادت عطا فرمائی۔
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں ربّ کریم نے سجدے میں وفات عطا کی — یہ وہ مبارک روحیں ہیں جنہوں نے ساری زندگی سجدوں میں گزارنے کے بعد آخری سفر بھی اسی حالت میں اختیار کیا۔ ایسے لوگوں کی زندگی بھی مومنوں کے لئے نمونہ ہے اور ان کی موت بھی باعثِ عبرت و سعادت۔
انہی عظیم المرتبت، خوش بخت علماء کرام اور اہلِ علم میں سے چند بزرگوں کے اسمائے گرامی ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے سجدے کی حالت میں موت جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی:
سجدے میں وفات پانے والے علماء کرام کے اسمائے گرامی
١- أبو ثعلبة الخشني رضي الله تعالى عنه .
٢- موسى بن أبي موسى الأشعري .
٣- مجاهد بن جبر .
٤- جعفر بن إياس .
٥- صفوان بن سليم .
٦- عمر بن عامر السلمي .
٧- علي بن الحسن بن الحسن بن ٨- الحسن بن علي بن أبي طالب الهاشمي
٩- موسى الصغير
١٠- الإمام أبو حنيفة .
١١- عبد العزيز بن أبي حازم .
١٢- محمد بن عمرو السوسي .
١٣- أبو عقال، علوان بن الحسن .
١٤- يعقوب بن إبراهيم البختري .
١٥- أبو الفضل الحاكم الشهيد .
١٦- علي بن محمد الطوسي .
١٧- أبو بكر الباطر قاني المقرئ .
١٨- جعفر بن الحسن الدرزيجاني
١٩- عبد الرحمن بن يوسف بن خير الصقلي
٢٠- أبو بكر المزرفي .
٢١- القاضي أبو عبد الله ابن الحاج القرطبي
٢٢- علي بن المسلم أبو الحسن السلمي الشافعي .
٢٣- ابن قُرْقُول
٢٤- سعد بن عثمان المصري .
٢٥- قاضي العسكر، ابن الأبيض الحلبي
٢٦- کمال الدین ابن مهاجر.
٢٧- ضياء الدين القرطبي .
٢٨- كمال الدين الرصافي .
٢٩- موسى بن علي الزرزاري .
٢٩- أحمد بن مظفر النابلسي ثم الدمشقي
٣٠- الشريف علي بن الحسن العواني
٣١- عبد الرحمن بن عبد العزيز النويري المالكي .
٣٢- محمد بن أحمد البدري الشافعي
٣٣- محمد بن سليمان الجزولي .
٣٤- عبد الله بن شيخ العيدروس
٣٥- عبد الله صوفان القدومي الحنبلي
٣٦- عين القضاة الحيدر آبادي اللكنوي.
٣٧- ومن النساء العالمات: عاتكة بنت الحافظ أبي العلاء العطار.
وغیرھم ۔
حوالے:-
حلية الأولياء لأبي نعيم ۲, ۳۰ تاریخ دمشق ١٠٤/٦٦.
تهذيب الكمال ٣٣ / ١٧٤
طبقات المحدثين بأصبهان والواردين عليها ۲۳۹/۱
تاريخ أصبهان لأبي نعيم ١/٨٧
إحياء علوم الدين ٤ / ٤١٢
أخبار القضاة لوكيع ٢/ ٥٥
مقاتل الطالبيين ص: ١٧٦
الطبقات الكبرى ٣٥٦/٦
أخبار أبي حنيفة وأصحابه، للصيمري ص: ۹۳
تاریخ بغداد ١٦ / ٤٣٠
تاريخ رجال أهل الأندلس ص ٥١
الصلة في تاريخ أئمة الأندلس ص ٥٥٠
المطرب من أشعار المغرب ص ٢٢٥
تاريخ الإسلام ١٤ / ١٥٧
أعيان العصر وأعوان النصر للصفدي ۱/ ۳۹۲-۳۹۳
الضوء اللامع لأهل القرن التاسع ٤ / ٨٤-٨٥
الكناش، لأحمد زروق ص ٢٤.