رہے سلامت تمہاری نسبت
_________________________________

✍🏻گل رضاراہی ارریاوی 
متعلم: دارالعلوم دیوبند 
٢٩ذی قعدہ ١٤٤٧ھ بمطابق
 ١٧مئی٢٠٢٦ بروز اتوار 
_________________________________

    بہن آج مجھ سے جدا ہو رہی ہے
لبوں سے بس یہی صدا آرہی ہے

 بیٹی رحمت ہوتی ہے ، گھر کی زینت، آنگن کی
 رونق ،ماں کی محبت ،باپ کا سکون ،بھائی کا خلوص و اعتماد، بہن کی ہم جولی ہوتی ہے-
بیٹی رحمت ہوتی ہے اس پر کوئی واضح حدیث تو نہیں مگر بیٹی ،بہن کی حسن تربیت پر جو انعام ہے وہ کسی رحمت سے کم نہیں -

ایک بیٹی کو پالنے، پرورش کرنے، تربیت کرنے اور اس کے ناز و نخرے اٹھانے میں باپ کو کتنی دشواریاں جھیلنی پڑتی ہے، یہ صرف ایک باپ ہی سمجھ سکتا ہے ، جب باپ گزر جائے تو یہ ذمہ داری بھائیوں کے سر آجاتی ہے خاص طور پر بڑے بھائی کے سر ،چونکہ باپ کے بعد دوسرا باپ بڑا بھائی ہوتا ہے اور وہی اس کی ساری ذمہ داری بھی اٹھاتا ہے، جو ایک باب اٹھایا کرتا تھا ،اس کے رہنے سہنے، کھانے پینے، پہننے اوڑھنے اور اس کے تمام ضروریات کو بھائی ویسے ہی ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے ،جیسے کہ باپ ادا کرتا تھا ،پھر ایک شخص آتا ہے رسم شریعت ورسم دنیا ادا کرتا ہے ، ہجوم اکٹھا کرتا ہے محفل لگتی ہے ،ایجاب و قبول کرتا ہے اور اپنے ساتھ لے کر چلے جاتا ہے ،یہ عجیب وغریب فلسفلہ ہےجو سمجھ سے باہر ہے خیر جب ہےتو ماننا پڑے گا-
مجھے وہ دن یاد ہے جب آپ نے اس دنیا اپنی آنکھیں کھولی تھیں ،اس دن سے لے کر اب تک وہ لمحات و واقعات میرے آنکھوں کے سامنے ہے جو ہمارے ساتھ بیتے ہیں ،ان آنکھوں جن حالات کا 
مشاہدہ کیاہے وہ سب میرے نظروں کے سامنے ہے اچانک آپ اتنی بڑی ہوگئی یہ اٹھارہ سالہ زندگی بیت گیے ہمیں محسوس بھی نہیں ہوا ،ابھی کچھ سال پہلے آپ کی عمر کو کے کر والدہ اختلاف چل رہاتھا ،والدہ آپ کی عمر زیادہ بتارہی تھی اور میں اس کی نفی کررہا تھا،کتنے جلدی یہ سب ہوگیا کہ ہم سب بڑے ہوگیے اور اب بات یہاں تک آپہنچی کہ آپ کے نئے رشتے اور نئی زندگی کی شروعات کرنے جارہی ہیں ،خیر حقیقت سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے -

،رخصتی کا لمحہ ماں باپ، بھائی بہن سب کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے کہ جس کو ماں نے اپنی آغوش میں رکھا، جس کو باپ نے اپنے گود میں کھیلایا ،جس کو بھائیوں نے اپنے اوپر ترجیح دی ،جس کو بہنوں نے اپنی سہیلی سمجھا ،سب نے جس پر اپنی محبتیں لٹائیں، معاشرہ و خاندان نے جس پر شفقتوں کی بارش کی، بس فقط ایک لفظ اور ایک مختصر جملہ" قبلت"( میں نے قبول کیا) نے سب کو ختم کر دیا، برسوں کی یادیں ،بچپن کی باتیں، ماضی سے جڑے تمام رشتے آج ایک عمر پر پہنچ کر سب کچھ چھوڑ کر ،سب کو الوداع کہہ کر ایک ایسی جگہ پہ جا رہی ہے جہاں اس کا اپنا کوئی نہیں، اجنبی لوگ ،اجنبی چہرے ،اجنبی گھر ، نئی تہذیب سب کچھ نیا ہے؛ پر یہ 
دنیا کا اصول ہے ،یہ رسم شریعت ہے ،یہ معاشرے کی تہذیب ہے کہ سب کو اس خاردار راہ سے گزرنا پڑتا ہے، ہر گھر میں یہ اصول جاری ہے کہ ہر ماں باپ اپنی بیٹی کو ہر بھائی اپنی بہن کو اسی طرح رخصت کرتی چلی آرہا ہے ،یہ بدقسمتی ہے ہماری کہ جب بھی خوشی و غمی خواہ کسی کی وفات ہو یا شادی بیاہ میں شریک نہیں ہو پاتا -
ہم سب نے ایک دوسرے کے چہرے پہ ہنسی دیکھی ہے غمی بھی دیکھی ہے ،آنسو بھی دیکھےہیں اور کئی زخمیں بھی کھائی ہیں ،خوشحالی اور بدحالی میں ہم سب مل کر رہے ہیں، ہمارے درمیان اختلاف بھی رہا ہے، نظریاتی اختلاف، مزاج میں بھی اختلاف رہا ہے، آپ ترش رو اور ترش مزاج کے حامل اور ہم تحمل و خوش مزاج کے حامل، آپ زینت پسند اور ہم سادگی پسند ، آپ تجدد زمانی کے ساتھ چلنے کے قائل اور میں ماضی کے سائے میں پلنے والا انسان ، ہمارے سوچنے کا زاویہ مختلف ہو سکتا ہے، مگر اس کے باوجود بھائی بہنوں کا پیار بھلا کیسے الگ ہو سکتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ مجھے اظہار محبت اور اظہار شفقت کا وہ موقع نہیں ملا جو ایک بھائی کو بہن سے کرنےکاملتاہے ؛مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں فطری محبت کے خلاف تھا ،ہم جو بھی کرتے تھے ،جو بھی اختلاف ہمارا آپ سے تھاوہ خیر خواہی اور بھلائی کی بنیاد پر تھا -

    آج ہمارے درمیان والد محترم نہیں ہیں کاش کہ وہ ہوتے اور اپنی پیاری بیٹی کو اپنے ےہاتھوں سے رخصت کرتے، مگر ہم کیا کر سکتے ہیں یہ اللہ کے فیصلے ہیں جو وہ چاہے -

لیکن ؛ الحمدللہ! ہمارے بھائی والد سے کم نہیں ،انہوں نے بھی بہت سی مصیبتیں جھیلی ہیں اور ہم بھائی بہنوں کے لیے وہ قربانیاں دی ہیں جو کہ آج کل نہیں دی جاتی، انہوں نے ہمیشہ ہماری خواہشات کو ترجیح دی اور اپنی خواہشات کو دبا دیا، انہوں نے ہمیشہ ہماری خیر خواہی کی اور والد کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ؛بل کہ میرا خیال ہے کہ انہوں والد سے بڑھ کر ہمارے لیے کرنے کوشش کی اور وہ اس میں بہت حد تک کامیاب رہے؛ مگر اس کے باوجود میں کہوں گا کہ باپ باپ ہوتاہے اس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا،آج وہ یہ اہم فریضہ بھی تن تنہا انجام دے رہے ہیں جو ایک باپ دیتا ہے اور اپنے شفقت بھرے ہاتھوں سے آپ کو رخصت کر رہا ہے-

     میری بہن ! آج تم جا رہی ہو،بہت سی یادوں کے ساتھ اور اپنی چھوٹی بہن کو تنہا چھوڑ کر یہ الگ بات ہے کہ آنا جانا ہوگا ؛لیکن وہ احساس جو پہلے تھی اب نہیں رہے گی، پہلے اگر ایک لمحے کے لیے تم جدا ہوتی تھی تو ہم سب کے کان کھڑے ہو جاتے تھے ، ہم پریشان ہو جاتے تھے اور ہم سب کو یہ فکر دامن گیر رہتی تھی تم کہاں ہو ؟مگر اب یہ نہیں ہوگا کیونکہ تم اب ہماری ذمہ داری سے نکل کر دوسرے کی ذمہ داری میں آگئی ہو اور تم آؤ گی تو اپنے شوہر کی اجازت سے اور کچھ دن کچھ لمحے کے لیے ہم کچھ نہیں کر سکتے اس لیے کہ ہم عاجز ہیں، یہ رسم شریعت ہے 
 اور رسم دنیا بھی فطرتاً ایسا چلا رہا ہے،
" خیر "میں بہت آگے نکل گیا 
کہنا یہ ہے کہ؛ یہ میری بدقسمتی ہے کہ آپ کی تقریب نکاح میں حاضر نہیں ہو سکا ،اس کی کئی وجوہات اور اسباب ہو سکتے ہیں ،جس کو بیان کیا جا سکتا ہے مگر یہ جاننے کا کوئی فائدہ نہیں ،چونکہ شریک ہی نہیں ہوا تو وجہ جان کر کیا کرنا ؟

    میری تعلیم نےمجھ سے بہت سی قربانیاں مانگی ہے، جس کو میں نے ادا کرنے کی کوشش کی، آپ کے علم میں ہوگا اسی دہلیز جہاں سے آپ کی رخصتی ہو رہی ہے ہمارے والد کا جنازہ بھی اٹھ چکا ہے ،پر میں اپنی تعلیم کی وجہ سے شریک نہیں ہو پایا تھا، آپ کی شادی میں شرکت نہ کرنا بھی اسی قربانی کا ایک نتیجہ سمجھا جائے -
     مجھے معلوم ہے کہ آپ کو بھائیوں کے کندھے کی ضرورت ہے ،سہارے کی ضرورت ہے، تم یہ چاہتی ہو کہ آخری بار ماں کے سینے سے لگ جاؤں، بھائیوں کے شفقت سے ٹھنڈک حاصل کروں ، تم چاہتی ہو کہ چھوٹی بہن سے آخری بار دل لگی کروں یہ سب کر لو آخری بار کرو
پر افسوس ہے مجھے اپنے اوپر کی اخری خوشی بھی میں تمہیں نہ دے سکا؛ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں مجھے تم سے کوئی کدورت اور نفرت ہے اور یہ ہو بھی نہیں سکتا کہ محبت اپنے رشتہ داروں اور بھائی، بہنوں کے ساتھ تو فطری ہے البتہ اس کے اظہار کا موقع مجھے نہ مل سکا اور میں اپنی زندگی میں اسے کبھی جتا نہ پایا ہم نے ہمیشہ تمہاری مخالفت کی، تمہارے مزاج کے خلاف بات کہی ،ہو سکتا ہے یہ وقتی تکلیف دہ لمحہ ہو؛ مگر اس کے اندر خیر تھا کہ اس پر عمل کروگی تو خیر ہوگا ،صبر و قناعت آئے گی، اصول پسندی آئے گی اور زندگی گزارنے میں سہولت حاصل ہوگی ؛مگر میرے بھائی جو باپ کے درجے میں ہے اس نے اپنی ذمہ داری بخسن و خوبی انجام دیا، وہ ایک بہادر، حوصلہ مند اور ذمہ دار شخص ہیں ،انہوں نے اپنے والد کو بھی کندھا دیا اور آج وہ آپ کو رخصت کر رہے ہیں، وہ بظاہر دکھنے میں بہت سخت ہیں ،اصول کے پابند ہیں ،کم گو اور لہجے میں سختی ہے جو ایک ذمہ دار آدمی کی علامت ہے ؛مگر وہ بہت شفیق ہیں ،مہربان ہیں اور فکر مند بھی، انہوں نے اب تک جو کیا جیسا کیا، وہ ہمارے بہتری کے لیے کیا ہے اور آئندہ بھی اسی کی توقع ہے-

      انہوں نے بے پناہ قربانی دی ہے اکیلے ہی والد کی وفات کا غم سہنا اور اکیلے ہی گھر کی ذمہ داری سنبھالنا آج کے دور میں کوئی اسان کام نہیں ہوتا وہ میرے محسن ہیں اور تادم حیات(جب تک زندگی رہےگی ) محسن ہی رہیں گے ہم ان کے احسانوں کا قرض کبھی نہیں چکا سکتے -

    میری پیاری بہن ! آج تم ہمارے درمیان سے رخصت ہو رہی ہو،اپنوں سے جدا ہو رہی ہو ،یہ دہلیز، یہ گھر گرچہ ہمیشہ تمہارا رہے گا،یہ لوگ ہمیشہ تمہارا استقبال کریں گے؛ مگر اب وہ بات نہیں رہے گی جو شادی سے پہلے تھی ،تم نے یہاں بچپن گزارا، بہت سی یادیں جڑی ہوئی ہیں، اس آنگن کے ساتھ اس دروازے کے ساتھ، اس گھر کے ساتھ آج وہ یادیں وہ باتیں سب کچھ چھوڑ کر تمہیں جانا پڑ رہا ہے، چلی جاؤ ،دنیا کا یہی اصول ہے اس نئے گھر میں یہ پہلی شادی ہے، ہاں اس 18 سالہ زندگی میں مجھ سے، والدہ سے ،بھائی سے، سخت کلامی ہوئی ہوگی، ہماری زبان سے سخت الفاظ نکل گئے ہوں گے ،جو آپ کو بری لگی ہوگی ،جس سے آپ کو تکلیف ہوئی ہوگی، انسانی طبیعت میں مزاج و عادات کے حساب سےاختلاف رائے ہوا کرتا ہے اور جہاں کئی لوگ ہوا کرتے ہیں تو آپس میں اونچ نیچ بھی ہوجاتی ہے ، یہ آج تمہارا اس گھر میں اخری دن ہے ،اس احساس کے ساتھ کہ تم اب تک اس گھر ،معاشرہ ، خاندان کی بیٹی اور اپنے بھائیوں کی بہن تھی، اب ایک نئے رشتے سے وابستہ ہونے جارہی ہو جس کا نام" بیوی" اور" بہو" ہے تو خدارا !مجھے ،میرے بھائی اور میری ماں کو معاف کر دینا ، اپنی دعاؤں میں اپنے بھائی بہن اور ماں باپ کو یاد رکھنا -

  آخری گزارش:

      یہ ہے کہ تم جہاں جا رہی ہو سب تمہارےلیے نئے ہیں ،نئے لوگ ہیں ،نئے چہرے ہیں بہت کچھ جھیلنا پڑے گا برداشت کرنی پڑے گی، سب آپ کے مزاج کے نہیں ہوں گے، کچھ نرم اور کچھ گرم مزاج کےہوں گے، لہذا صبر کرتے ہوۓ سب کے ساتھ حسن سلوک کرنا، محبت سے پیش آنا ،اپنے شوہر کی خدمت کرنا ،شوہر کے ماں باپ کو بھی اپنا سمجھنا ،کوشش کرنا کہ کسی کو آپ سے تکلیف نہ پہونچے،نماز تلاوت ذکر و اذکار دورد اور دعا کا اہتمام کرنا،اپنے کلام میں نرمی رکھنا اور ایسی کوئی بات یا ایسی کوئی شکایت کا موقع نہ دینا جس سے آپ کے مرحوم باپ اور زندہ ماں اور بھائی بہن پر انگلی اٹھائی جائے اور آپ کی وجہ سے ہم سب کو غلط کہا جائے -

ہم سب آپ کےلیے دعا کرتے ہیں کہ تم سدا خوش رہو، تمہاری زندگی عافیت کے ساتھ گزرے اور ہرطرح کی خیر وبرکت تمہیں حاصل ہو -
 آمین ثم آمین