*سالی کا فتنہ*

*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
_______________________________
آج کے معاشرے میں ایک ایسا فتنہ تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے جسے لوگ معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں حالانکہ اس کے نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ یہ فتنہ ہے سالی یعنی بیوی کی بہن کے ساتھ بے جا بے تکلفی ہنسی مذاق اور غیر ضروری میل جول۔
اکثر دیکھا جا رہا ہے کہ کچھ لوگ اپنی سالیوں کے ساتھ ہنسی مذاق دل لگی گھومنا پھرنا یہاں تک کہ انہیں اپنے گھروں میں کئی کئی دن تک رکھنا اور تنہائی میں بیٹھ کر گپ شپ کرنا معمول سمجھنے لگے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس رویے کو نہ صرف خود لوگ سنجیدہ نہیں لیتے بلکہ لڑکی کے والدین بھی یہ سوچ کر خاموش رہتے ہیں کہ داماد ہے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا حالانکہ یہی لاپرواہی بڑے فتنے کو جنم دیتی ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح دیگر غیر محرم عورتیں ایک مرد کے لیے نامحرم ہیں اسی طرح سالی بھی مکمل طور پر غیر محرم ہے اس کے ساتھ بے تکلفی ہنسی مذاق دل لگی تنہائی میں گفتگو یہ سب امور شریعت میں سخت ناپسندیدہ بلکہ ناجائز ہیں۔
بعض احمق لوگ سالی آدھی گھر والی جیسی باتوں کو دلیل بنا کر اس غلط رویے کو جائز سمجھنے لگتے ہیں حالانکہ یہ صرف ایک بے بنیاد اور گمراہ کن جملہ ہے جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ شریعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کوئی مرد اور عورت تنہائی میں ہوتے ہیں تو وہاں شیطان وسوسہ ڈالنے کے لیے موجود ہوتا ہے اور یہی چھوٹی چھوٹی بے احتیاطیاں بڑے گناہوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ ابتدا ہنسی مذاق سے ہوتی ہے اور انجام اکثر ندامت رسوائی اور گناہ پر ہوتا ہے۔
کئی ایسے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں کہ سالی کے ساتھ غیر ضروری قربت اور مذاق مذاق میں ناجائز تعلقات قائم ہو گئے جس کے نتیجے میں گھر ٹوٹ گئے بیوی کو طلاق دی گئی اور بعض جاہل لوگ تو یہاں تک جا پہنچے کہ دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کی کوشش کی جو کہ صریح حرام ہے اور اسلام میں اس کی سخت ممانعت ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ خود بھی اس فتنے سے بچا جائے اور اپنی بہنوں بیٹیوں اور گھر کی خواتین کی حفاظت کریں۔ 
اللہ ربّ العزت ہم سب کو صحیح سمجھ پاکیزگی اور حدودِ شریعت کی پابندی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔