انسان کا اپنے دل پر مکمل اختیار نہیں ہوتا، مگر اپنے ظاہری اعضاء پر ضرور اختیار ہوتا ہے۔

اپنی آنکھوں
کو جھکا لو اور انہیں پاک رکھو۔
جہاں فتنہ نظر آئے وہاں نظریں تو کیا چہرہ ہی نہ اٹھاؤ، اور اگر ممکن ہو تو وہاں جانا ہی چھوڑ دو۔
زبان کو غیبت، چغلی اور بے فائدہ گفتگو سے روک لو۔
اور کانوں کو بھی اس سے بچاؤ کہ وہ غیبت، برائی یا موسیقی وغیرہ نہ سنیں۔
اپنے راستے کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرو، اور ایسے مقامات سے دور رہو جہاں گناہ اور فتنہ غالب ہو۔
اپنے ہاتھوں پر تمہارا اختیار ہے، اس لیے موبائل فون کے غلط استعمال، حرام مال کمانے اور ناجائز کاموں سے اپنے ہاتھ روک لو۔
اور اپنے قدموں پر بھی تمہیں اختیار ہے، اس لیے برائی کی طرف بڑھنے سے رک جاؤ۔
اصل بات یہ ہے کہ پہلے اپنے ظاہر کو قابو میں کر لو۔

جب انسان اپنی کوشش سے گناہوں سے بچتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے باطن کی بھی اصلاح فرما دیتا ہے۔
🪶از:ح عائش✰