🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

دل بھی عجیب سرزمین ہے۔ اس کی سطح پر روزمرہ کے معمولات کی گرد ضرور جمتی رہتی ہے، مگر اس کی تہوں میں احساسات کے وہ بیج پوشیدہ ہوتے ہیں جو وقت کی نمی پا کر خاموشی سے پھوٹتے ہیں، درد کی دھوپ میں پکتے ہیں، اور آخرکار لفظوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ لفظ کاغذ پر روشنائی سے نہیں لکھے جاتے یہ دل کی مٹی سے اُگتے ہیں، آنکھوں کی نمی سے سیراب ہوتے ہیں، اور روح کی حرارت سے زندگی پاتے ہیں۔

بعض تحریریں محض عبارت ہوتی ہیں، اور بعض عبارتیں تقدیر کا آئینہ بن جاتی ہیں۔ کچھ الفاظ زبان ادا کرتی ہے، اور کچھ دل اپنی بے آواز دھڑکنوں میں کہتا ہے۔ جو لفظ عقل کے ترازو میں تولے جائیں، وہ درست تو ہو سکتے ہیں مگر جو الفاظ دل کی مٹی سے جنم لیں، وہ درست ہونے کے ساتھ ساتھ مؤثر بھی ہوتے ہیں۔ وہ پڑھنے والے کی نگاہ سے گزرتے نہیں، بلکہ اس کے وجود میں اتر جاتے ہیں۔ وہ ذہن کو قائل نہیں کرتے، بلکہ روح کو جگاتے ہیں۔

دل کی مٹی میں عجیب تاثیر ہے۔ اس میں یادوں کی خوشبو بھی ہوتی ہے، جدائی کا کرب بھی، امید کی سبز کونپلیں بھی، اور دعا کی خاموش روشنی بھی۔ اسی مٹی میں ماں کی لوریوں کی نرمی محفوظ رہتی ہے، باپ کے ہاتھوں کی محنت کی حرارت بسی رہتی ہے، دوستوں کی بے لوث محبت کے نقوش ثبت رہتے ہیں، اور ان خوابوں کے ٹکڑے بھی پڑے رہتے ہیں جو تعبیر کی دہلیز تک پہنچنے سے پہلے بکھر گئے تھے۔ جب انسان اپنی ذات کے شور سے نکل کر اپنے باطن کی خاموشی میں اترتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک پوری دنیا آباد ہے، اور اس دنیا کی زبان صرف احساس ہے۔

یہی احساس جب لفظ بنتا ہے تو اس میں تصنع کی چمک نہیں ہوتی، سچائی کی روشنی ہوتی ہے۔ وہ قافیہ و ردیف کے سہارے خوب صورت نہیں بنتا، بلکہ صداقت کے سبب دل نشین ہو جاتا ہے۔ اس کی تاثیر اس بات میں نہیں کہ وہ کتنے مشکل الفاظ پر مشتمل ہے، بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ وہ کتنی گہرائی سے محسوس کیا گیا ہے۔ دل سے نکلنے والا لفظ تیر نہیں ہوتا کہ زخمی کرے وہ مرہم ہوتا ہے جو ان زخموں کو بھی سکون دیتا ہے جنہیں خود صاحبِ زخم بھی نام نہیں دے پاتا۔

زندگی کی راہوں میں انسان بہت کچھ کہتا ہے، اور بہت کچھ چھپا لیتا ہے۔ بعض آنسو پلکوں تک آ کر لوٹ جاتے ہیں، بعض دعائیں ہونٹوں تک آئے بغیر آسمان تک پہنچ جاتی ہیں، اور بعض درد ایسے ہوتے ہیں جو برسوں سینے میں دفن رہتے ہیں۔ مگر دل کی زمین خاموش ضرور رہتی ہے، بانجھ نہیں ہوتی۔ وہ ہر آہ کو محفوظ رکھتی ہے، ہر شکست کو تجربہ بناتی ہے، ہر محرومی کو بصیرت میں ڈھالتی ہے، اور ہر انتظار کو امید کی صورت بخشتی ہے۔ پھر ایک دن یہی جمع شدہ احساسات لفظوں کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں، اور انسان حیران رہ جاتا ہے کہ جو بات وہ خود سے بھی نہ کہہ سکا، وہ کاغذ نے کیسے سن لی۔

دل کی مٹی سے لکھے ہوئے لفظ موسموں کے محتاج نہیں ہوتے۔ وہ خزاں میں بھی خوشبو دیتے ہیں اور بہار میں بھی وقار رکھتے ہیں۔ انہیں داد کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ ان کا اصل صلہ یہ ہے کہ کوئی اجنبی انہیں پڑھ کر خاموش ہو جائے، اس کی آنکھ نم ہو جائے، اور اسے محسوس ہو کہ اس کے اندر کا بوجھ کچھ ہلکا ہو گیا ہے۔ یہی لفظوں کی معراج ہے کہ وہ تنہا انسان کو یہ یقین دلا دیں کہ اس کے احساسات بے نام نہیں، اس کا درد بے معنی نہیں، اور اس کی خاموشی بے آواز نہیں۔

دل کے لکھے ہوئے الفاظ میں شکست کی تلخی بھی ہوتی ہے اور صبر کی مٹھاس بھی۔ ان میں جدائی کی دھند بھی ہوتی ہے اور امید کا چراغ بھی۔ یہ انسان کو اس کی کمزوریوں سے شرمندہ نہیں کرتے، بلکہ اس کی انسانیت سے روشناس کراتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ رونا کمزوری نہیں، احساس کی دلیل ہے؛ انتظار بے وقوفی نہیں، محبت کی استقامت ہے؛ اور خاموش رہنا بے بسی نہیں، بعض اوقات وقار کی بلند ترین صورت ہے۔

محبت ہو، فراق ہو، دعا ہو یا ندامت____ہر جذبہ دل کی مٹی میں اپنا رنگ چھوڑ جاتا ہے۔ کچھ رنگ وقت کے ساتھ مدھم پڑ جاتے ہیں، مگر کچھ ایسے ہوتے ہیں جو روح کے افق پر ہمیشہ روشن رہتے ہیں۔ انہی رنگوں سے لفظوں کے گل بوٹے بنتے ہیں۔ جب کوئی سچا قلم کار اپنے اندر اتر کر لکھتا ہے تو وہ صرف سطریں نہیں بناتا، وہ دلوں کے درمیان ایک پل تعمیر کرتا ہے۔ اس پل سے گزر کر ایک دل دوسرے دل تک پہنچتا ہے، اور یوں اجنبیت کی دوریاں کم ہونے لگتی ہیں۔
یہ دنیا شور سے بھری ہوئی ہے؛ ہر طرف آوازیں ہیں، دعوے ہیں، دلیلیں ہیں، اور خواہشات کی کشمکش ہے۔ مگر اس ہجوم میں وہی الفاظ زندہ رہتے ہیں جن کے پیچھے دل کی صداقت کھڑی ہو۔ بناوٹ کی تحریریں وقتی تحسین ضرور سمیٹ لیتی ہیں، لیکن اخلاص سے لکھے ہوئے لفظ زمانے کی گرد سے محفوظ رہتے ہیں۔ وہ آج بھی دل کو چھوتے ہیں، کل بھی رہنمائی کرتے ہیں، اور آنے والے وقتوں میں بھی انسان کے باطن میں روشنی کا چراغ جلائے رکھتے ہیں۔
دل کی مٹی سے لکھے ہوئے لفظ دراصل انسان کی اصل میراث ہیں۔ دولت ختم ہو جاتی ہے، شہرت ماند پڑ جاتی ہے، آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں؛ مگر سچے احساس سے لکھا گیا ایک جملہ صدیوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔ وہ کسی تھکے ہوئے دل کو حوصلہ دیتا ہے، کسی شکستہ روح کو سہارا دیتا ہے، کسی بھٹکے ہوئے مسافر کو سمت دیتا ہے، اور کسی مایوس آنکھ میں امید کی لو جگا دیتا ہے۔

اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے لفظ اثر پیدا کریں، تو انہیں محض قلم سے نہ لکھو
؛ انہیں اپنے صبر سے تراشو، اپنی تنہائی میں سنوارو، اپنی دعاؤں میں بھگوؤ، اور اپنے تجربات کی آگ میں پکا لو۔ پھر دیکھو، تمہاری تحریر صرف پڑھی نہیں جائے گی، محسوس کی جائے گی۔ لوگ اسے آنکھوں سے نہیں، اپنے زخموں سے پڑھیں گے اور جب کوئی لفظ کسی کے زخم کو چھو لے، تو وہ ادب نہیں رہتا، زندگی بن جاتا ہے۔

آخرکار انسان کے پاس رہ ہی کیا جاتا ہے؟
چند یادیں، چند دعائیں، چند نام، اور کچھ لفظ۔ اگر یہ لفظ دل کی مٹی سے لکھے گئے ہوں تو وہ وقت کے بے رحم ہاتھوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ وہ بکھرتے نہیں، بساتے ہیں رلاتے نہیں، دھلاتے ہیں اور ختم نہیں ہوتے، نسلوں تک سفر کرتے ہیں۔
پس لکھو—مگر ایسے لکھو کہ ہر لفظ میں سچائی کی خوشبو ہو، ہر جملے میں احساس کی حرارت ہو، اور ہر سطر میں روح کی روشنی ہو۔ لکھو کہ تمہارے لفظ کسی اندھیرے دل میں چراغ بن جائیں۔ لکھو کہ کسی خاموش انسان کو اپنی آواز مل جائے۔ لکھو کہ تمہاری تحریر کاغذ پر نہیں، دلوں پر ثبت ہو جائے۔
کیونکہ دنیا میں سب سے پائیدار تحریر وہی ہے جو روشنائی سے نہیں، دل کی مٹی سے لکھی جائے۔