عید الاضحیٰ: سنتِ ابراہیمی اور ہمارا طرزِ عمل
عید الاضحیٰ محض ایک تہوار یا رسمی عبادت کا نام نہیں، بلکہ یہ بندۂ مؤمن کے ایمان، وفاداری اور جذبۂ ایثار کا وہ روشن مینار ہے جس کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بے مثال اطاعت پر قائم ہے۔ یہی وہ مقدس یادگار ہے جو ہر سال امتِ مسلمہ کو یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے اپنی خواہشات، محبتوں اور مفادات کو قربان کر دینا ہی بندگی کا حقیقی مفہوم ہے۔ قربانی دراصل انسان کے ظاہر سے زیادہ اس کے باطن کا امتحان ہے، جہاں اخلاص، تقویٰ اور للّٰہیت کو پرکھا جاتا ہے۔
افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ وقت کے دھارے کے ساتھ ساتھ اس عظیم عبادت کی روح دھیرے دھیرے ماند پڑتی جا رہی ہے۔ جو قربانی کبھی عاجزی، سادگی اور خدا خوفی کی علامت تھی، آج کئی مقامات پر نمود و نمائش، فخر و مباہات اور رسم و رواج کے دبیز پردوں میں چھپتی دکھائی دیتی ہے۔ عبادت کا جوہر اخلاص ہے، لیکن جب نیتوں میں کھوٹ آ جائے تو بڑے سے بڑا عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قربانی کے ظاہری مظاہر سے آگے بڑھ کر اس کے حقیقی مقصد کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
عید الاضحیٰ کے مبارک ایام میں دنیا بھر کے مسلمان سنتِ ابراہیمیؑ پر عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک نہایت مبارک اور سعادت بھرا عمل ہے، جس میں لاکھوں مسلمان شریک ہو کر اپنی محبتِ الٰہی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کسی بھی عبادت کی قبولیت کا دار و مدار صرف اس کے ظاہری حسن پر نہیں بلکہ نیت کے اخلاص پر ہوتا ہے۔ اگر دل ریاکاری سے آلودہ ہو تو عبادت کا نور ماند پڑ جاتا ہے۔ قربانی بھی انہی اعمال میں سے ہے جس میں نیت کی پاکیزگی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
آج کے دور میں ایک عجیب روش پروان چڑھتی جا رہی ہے کہ لوگ قربانی کو عبادت سے زیادہ اپنی حیثیت اور دولت کی نمائش کا ذریعہ بنا بیٹھے ہیں۔ مہنگے ترین جانور خریدنا، ان کی قیمتوں کے چرچے کرنا، اور لوگوں کے درمیان اپنی شان و شوکت کا سکہ جمانا گویا ایک فیشن بنتا جا رہا ہے۔ بعض افراد ایک ایک جانور پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں، لیکن اس کے پسِ پشت اخلاص کم اور شہرت کی خواہش زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ عبادت جب دکھاوے کی نذر ہو جائے تو اس کی روح پر زنگ لگ جاتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ قربانی کے نام پر اس قدر اسراف اور تکلف آخر کیوں؟ خصوصاً جب یہی لوگ زکاۃ، صدقات اور دیگر مالی حقوق کی ادائیگی میں سستی اور بے توجہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات مہنگے جانور خریدنے کے پیچھے اللہ کی رضا سے زیادہ لوگوں کی واہ واہ مقصود ہوتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ قربانی سے پہلے جانوروں کی تشہیر، ان کی نمائش، بازاروں میں جلوس کی مانند گھمانا اور پھر سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز کی بھرمار عام ہو چکی ہے۔ گویا عبادت کم اور نمائش زیادہ رہ گئی ہے۔
اگر انہی لوگوں کو یہ مشورہ دیا جائے کہ سادہ جانور خرید کر باقی رقم کسی غریب، یتیم یا ضرورت مند کی مدد پر خرچ کر دیں تو اکثر طبیعت آمادہ نہیں ہوتی۔ حالانکہ اخلاص کے ساتھ کسی محتاج کے چہرے پر مسکراہٹ لانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت محبوب عمل ہے۔ مگر افسوس کہ جہاں نفس کی خواہشات غالب آ جائیں وہاں ایثار کا جذبہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ حالانکہ دینِ اسلام صرف رسموں کا نہیں بلکہ احساسِ انسانیت اور خیر خواہی کا مذہب ہے۔
بعض افراد قربانی کو محض گوشت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ بڑے اور بھاری جانور اسی نیت سے خریدے جاتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ گوشت حاصل ہو سکے، حالانکہ وہی لوگ بعض اوقات قرض کی ادائیگی، زکاۃ کی ادائیگی اور دیگر واجبات میں غفلت برتتے ہیں۔ اس رویّے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ قربانی کی اصل روح کہیں پسِ پشت چلی گئی ہے اور ذاتی منفعت کو اصل مقصود بنا لیا گیا ہے۔ حالانکہ قربانی کا اصل پیغام اپنی خواہشات پر چھری پھیرنا ہے، نہ کہ صرف دسترخوان سجانا۔ اسی ذہنیت کے تحت بعض لوگ قربانی کا بیشتر گوشت خود ہی سنبھال کر رکھتے ہیں اور غریبوں کو معمولی حصہ دے کر اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں۔ اگرچہ شریعت نے قربانی کا گوشت کھانے اور محفوظ رکھنے کی اجازت دی ہے، لیکن قربانی کو صرف شکم پروری تک محدود کر دینا اس عبادت کے مقصد سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ قربانی دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت، تقویٰ اور بندگی کے جذبے کو زندہ کرنے کا نام ہے۔
قرآنِ مجید نے قربانی کی حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا ہے: لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (سورۃ الحج: 37)۔ یعنی اللہ تعالیٰ تک نہ جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس کے حضور بندے کا تقویٰ اور اخلاص پہنچتا ہے۔ اس آیتِ مبارکہ میں قربانی کی پوری روح سمٹ کر آ گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ظاہری نمود کو نہیں بلکہ دلوں کے حال کو دیکھتا ہے۔ اس کے نزدیک جانور کی قیمت نہیں بلکہ نیت کی قیمت ہے۔ لہٰذا ہر صاحبِ ایمان پر لازم ہے کہ وہ قربانی کے موقع پر اپنی نیتوں کا محاسبہ کرے اور اس عبادت کو خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے۔ قربانی ایسی ہو جس میں عاجزی ہو، انکساری ہو، تقویٰ ہو اور خدا ترسی ہو۔ اگر ایک غریب شخص اخلاص کے ساتھ معمولی قربانی پیش کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شخص سے کہیں زیادہ مقبول ہو سکتی ہے جو لاکھوں خرچ کر کے بھی ریاکاری میں مبتلا ہو۔
اگر مسلمان قربانی کی اصل روح کو سمجھ لیں تو یہی عبادت ان کے اندر ایثار، ہمدردی، قربانی اور دین کے لیے جان و مال لٹانے کا جذبہ بیدار کر سکتی ہے۔ یہی جذبہ انسان کو خود غرضی سے نکال کر انسانیت کی خدمت کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ قربانی کا پیغام صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اپنے نفس، غرور، لالچ اور دنیا پرستی کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع کرنا ہے۔ حقیقی کامیابی یہی ہے کہ قربانی ہمارے دلوں کو بدل دے، ہماری سوچ کو پاکیزہ بنا دے، اور ہمارے اندر اخلاص و تقویٰ کی شمع روشن کر دے۔ اگر اس عبادت کے نتیجے میں انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہو جائے اور اس کی زندگی میں بندگی کا رنگ نمایاں ہو جائے تو سمجھنا چاہیے کہ قربانی اپنی اصل روح کے ساتھ ادا ہوئی ہے۔
اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قربانی کی حقیقی روح کو سمجھنے، اخلاص و تقویٰ کے ساتھ اس عظیم عبادت کو ادا کرنے، اور ریاکاری و نمود و نمائش سے اپنے دامن کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔
تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا