محترم قلم کار! 
 کتب بینی کے دوران چند سطور پر نگاہ پڑی، جن کو پڑھ کر یوں محسوس ہوا کہ یہ سطریں ہر قلم کار کے لیے مفید ثابت ہوں گی 
پیش کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:-
”جب آپ ایک اچھے لکھاری بننے جارہے ہیں تو اس کے لیے یہی کافی نہیں کہ آپ کی تو شائع ہو رہی ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کی تحریر پڑھی بھی جائے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض اخبارات کسی مخصوص کالم کی وجہ سے خریدے جاتے ہیں۔ قارئین کا بڑا حلقہ اخبار یا رسالہ خرید کر پورا اخبار یا رسالہ نہیں پڑھتا بلکہ اپنی پسند کے کالم نگار کا کالم پڑھتا ہے۔
   اپنی تحریر کو پڑھنے کے قابل بنانے کے لیے آپ کو اپنی تحریر میں دل چسپی اور اثر پذیری کی خوبیاں پیدا کرنے کا فن آنا چاہیے ورنہ آپ کی تحریر شاید خوب صورت ہو، شائع بھی ہو جائے لیکن پڑھی نہیں جائے گی۔ آپ قلم کار تو بن جائیں گے لیکن کامیاب قلم کار بننے سے رہ جائیں گے۔ لہذا یہ جاننا اور سجھنا نہایت ضروری ہے کہ محض اپنے خیالات کو الفاظ میں منتقل کر دینے کا نام تحریر نہیں ہے۔ آپ کی تحریر اور تصنیف آپ کو اس وقت کامیاب اہل قلم کی صف میں کھڑا کرے گی جب آپ کی تحریر میں درج ذیل چھ خوبیاں موجود ہوں:

ا تحریری لوازم ۲- موضوع سے مناسبت ۳- وضاحت

 ٤- مقصدیت ه- اختصار و جامعیت ٦-مکمل بات“

( اقتباس: لکھنا سیکھیے از مفتی ابو لبابہ شاہ منصور صفحہ ١١٦)