اوہ! اچھا۔۔۔!!! تو آپ نے سکون تلاشنا شروع کر دیا ہے؟
جبکہ یہ دنیا تو خود بے سکونی کی جگہ ہے۔
کیا کہا۔۔۔؟
آپ اس دنیا اور اس کے لوگوں کی بے وفائیوں سے تنگ آگئے ہیں؟
نادان ہیں آپ! وفا تو اس دنیا میں صرف آپ کے اپنے اعمال ہی کریں گے۔
جب لوگ آپ کو منوں مٹی کے نیچے دفن کر کے تنِ تنہا چھوڑ آئیں گے نا، اس وقت بھی آپ کا عمل ہی آپ کے ساتھ وفا نبھائے گا۔ یہاں تک کہ وہی آپ کو جنت کے باغوں کی سیر کرائے گا یا جہنم کی وادیوں تک لے جائے گا۔
اوہ! تو اصل مسئلہ یہ ہے آپ کا۔۔۔!
کہ آپ سب کے ساتھ اچھائی کرتے ہیں اور بدلے میں آپ کو برائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
آپ لوگوں سے ہمدردی رکھتے ہیں جبکہ لوگ آپ کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرتے ہیں؟
کوئی بات نہیں۔۔۔!
یاد رکھیے، اس درد کو محسوس کرنے والے آپ تنہا نہیں ہیں۔ بلکہ حیرت تو یہ ہے کہ جس شخص سے آپ کو یہ شکایت ہےنا، اسے بھی شاید آپ سے یہی شکایت ہو!
اصل میں ہم سب 'توقع' کے قیدی ہیں۔ ہم اچھائی اللہ کی رضا کے لیے نہیں، بلکہ بندوں کے رویوں کے لیے کرتے ہیں، اسی لیے جلد ٹوٹ جاتے ہیں۔ اگر سکون چاہیے تو لوگوں کو سمجھنے اور ان سے بدلے کی امید رکھنے کے بجائے، معاملے کو اس رب کے سپرد کر دیں جو نیتوں کے حال سے واقف ہے۔ جس دن آپ کا خلوص لوگوں کی 'واہ واہ' سے آزاد ہو گیا، اسی دن آپ کو وہ سکون مل جائے گا جسے آپ پوری دنیا میں تلاش رہے ہیں۔
ازقلم: زا-شیخ