*کپڑے ہوگئے چھوٹے شرم کہاں سے آئے؟*

*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
_________________________________
آج کے اس جدید دور میں مسلم معاشرہ ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ہماری نئی نسل خصوصاً بچے اور بچیاں اپنی تہذیبی اور دینی شناخت سے آہستہ آہستہ دور ہوتی جا رہی ہیں لباس جو کبھی حیا وقار اور شرافت کی علامت سمجھا جاتا تھا آج صرف فیشن اور نمائش کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کے بچے اور بچیاں ایسے کپڑے پہن رہے ہیں جو نہ صرف باریک اور چست ہوتے ہیں بلکہ جسم کے تمام اعضاء کو نمایاں کرتے ہیں ایسے لباس پہننے سے جسم کا زیادہ تر حصہ واضح نظر آتا ہے جو کہ حیا اور پردے کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے خاص طور پر بچیاں مغربی اور غیر مسلم تہذیبوں کے انداز اپنانے لگی ہیں اسے جدیدیت اور فیشن کا نام دے کر فخر محسوس کیا جاتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس صورتحال کے ذمہ دار صرف بچے نہیں بلکہ والدین خود بھی ہیں وہی اپنے بچوں کے لیے ایسے لباس خریدتے ہیں جو ہماری اسلامی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتے جب انہیں سمجھایا جاتا ہے تو عموماً یہ کہہ کر بات کو ٹال دیا جاتا ہے کہ ابھی تو چھوٹی بچی ہے یا یہ تو صرف فیشن ہے لیکن یہی چھوٹی چھوٹی لاپرواہیاں آگے چل کر بڑے اور خطرناک نتائج کا سبب بنتی ہیں۔
بچپن وہ عمر ہوتی ہے جس میں عادات آسانی سے بن جاتی ہیں اگر اسی عمر میں بچوں کو پردے حیا اور سادگی کی عادت ڈالی جائے تو وہ پوری زندگی اس پر قائم رہتے ہیں لیکن اگر ابتدا ہی سے انہیں بے پردگی اور نمائش کی طرف مائل کیا جائے تو بعد میں انہیں روکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا یہ ایک مسلمان کے شایان شان ہے کہ اس کی بہن بیٹی یا بچی ایسے لباس میں ہو کہ غیر مردوں کی نظریں اس پر پڑیں؟ کیا ہمیں یہ گوارا ہے کہ ہماری عزت و وقار دوسروں کی نظروں میں مجروح ہو؟ اسلام نے عورت کو عزت دی ہے اسے پردے کا حکم دے کر محفوظ بنایا ہے نہ کہ اسے نمائش کا ذریعہ بنایا جائے۔
اسی طرح کچھ لڑکے بھی فیشن کے نام پر ایسے کپڑے پہن رہے ہیں جو نہ صرف نامناسب ہوتے ہیں بلکہ شرم و حیا کے تقاضوں کے خلاف ہوتے ہیں جیسے بہت زیادہ چست یا پھٹے ہوئے پینٹ شرٹ بعض اوقات جب وہ جھکتے ہیں تو جسم کے حصے نمایاں ہو جاتے ہیں جو نہ صرف خود ان کے لیے بلکہ دیکھنے والوں کے لیے بھی باعث شرمندگی بنتا ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بحیثیت والدین اپنی ذمہ داری کو پہچانیں اپنے بچوں کو بچپن ہی سے مکمل پردے اور حیا کا پابند بنائیں خود بھی اس کا عملی نمونہ بنیں کیونکہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے بڑوں میں دیکھتے ہیں۔ اگر ہم خود سادگی پردے اور شرم و حیا کو اپنائیں گے تو ہماری اولاد بھی انہی اقدار کو اختیار کرے گی۔
خدارا اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں انہیں ایسے راستے پر نہ ڈالیں جو آگے چل کر ندامت اور نقصان کا باعث بنے انہیں ایسا لباس پہننے کی عادت ڈالیں جو ان کی عزت وقار اور دینی شناخت کی حفاظت کرے تاکہ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔
اللہ ربّ العزت ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطافرماۓ آمین یارب العالمین ۔