وہ ایک سیاہ رات تھی 
باقی راتوں کی طرح پر سکون 
طلباء اکرام میں سے کچھ کھانے کی فکر میں تھے
اور
کچھ سونے کی فکر میں تھے 
اور
پڑھائی میں مصروف تھے 
غرض یہ کہ 
مدرسہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چل رہا تھا
تقریباً 
12 بجے 
زور دار دھماکے ہوئے 
طلباء سوئے ہوئے تھے 
اور 
جب چوتھا دھماکہ ہوا
تو ہماری آنکھ کھلی تو ہم نے اردو گرد نظر دوڑائی 
طلباء کو مفقود پایا 
حیرانی ہوئی 
جلدی جلدی ہم نیچے آئے
 تو وہاں طلباء کو ایک جگہ اکٹھا پایا
پتہ چلا کہ 
بزدل دشمن نے مسجد پر 
اور اساتذہ کے گھروں پر بمباری کی ہے 
ہمارے استاد محترم کے چار بچے شہید ہو گئے ہیں 
کیوں ؟
آخر اپنے بھی اور غیر بھی، نشانہ اہل علم کو کیوں بناتے ہیں ۔
اغیار سے تو شکوہ ہی کیا ۔
کہ وہ ٹھرا جو کافر۔
بہر حال مشرک ،ہندو بنیا،جب بھی اس نے اظہار نفرت کرنا چاہا،تو خون مسلم کا بہایا۔
کبھی کشمیر جنت نظیر وادی کو اپنے خون آشام پنجوں سے رنگین کیا۔
کبھی دہلی کی گلیوں میں قتل مسلم کوعبادت سمجھتے ہوئے بہایا۔
کمزور مسلمانوں پر تو یہ مشرک جھپٹتے ہی تھے ۔
مگر انہوں نے پاکستان پر ائیر سٹرائیک یہ سوچ کر کیا ،کہ شاید اب مسلمان ،خندق،احد،بدر کو بھول گئے ہیں ۔
مگر بنیان مرصوص نے انہی چھٹی کا دودھ یاد دلادیا۔
وہ ننھے پھول ،جن پر میزائل داغ کر تم خوش ہو رہے تھے۔
وہ پھول تمہارے لئیے ،موت ثابت ہوئے۔
انشاء اللہ قیصرو کسری کی طرح دہلی بھی تاراج ہوگا۔
ہم تو شہید ازل سے ہی دیتے آئیں ہیں۔
کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا۔

ہم دشت کے باسی ہیں اے شہر کے لوگو 
یہ روح پیاسی ہمیں ورثے میں ملی ہے 
دکھ دردسے صدیوں سے تعلق ہے ہمارا
یہ آنکھوں کی اداسی ہمیں ورثے میں ملی ہے 
جان دینا روایت ہے قبیلے کی ہماری 
یہ سرخ لباسی ہمیں ورثے میں ملی ہے 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم 
طوفان احمری