اصول فقہ اور ایک خیالی خانوادہ لطیفۂ علم و ظرافت
05 مئی، 2026
بھروج میں ہمارے ایک عزیزِ جاں دوست ہیں، جن سے مراسیل کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہتا ہے۔ جب کبھی وہ علمی دنیا کی سنجیدگی سے کچھ اُکتاہٹ محسوس کرتے ہیں تو اپنے طبعِ ظریف کا رنگ دکھاتے ہوئے ایسے شگفتہ مضامین ارسال فرماتے ہیں کہ دل باغ باغ ہو جاتا ہےحالیہ مراسلہ بھی اسی قبیل سے تھا علم کی چاشنی میں ڈوبا ہوا ایک نہایت دلنشیں اور مزاحیہ خیال! 😄
فرماتے ہیں کہ “اصولِ فقہ” چار ہیں: قرآن، سنت، اجماع اور قیاس۔
اب اگر انہی اصولوں کو “حیاتِ خانہ داری” میں منتقل کیا جائے تو کیا ہی نورانی اور علمی منظر قائم ہو! 🥰
ایک زوجہ ایسی ہو جو قرآنِ حکیم کی ماہرہ ہو،
دوسری سنتِ نبوی کی عالمہ و محدثہ ہو،
تیسری اجماعِ امت کی عارفہ و خبیر،
اور چوتھی قیاس و عقل کی نکتہ رس و ماہرہ! 😇
یوں گویا ایک ہی گھر میں “ارکانِ اصول” مجتمع ہو جائیں، اور آنگن میں علم و تحقیق کے چراغ فروزاں رہیں۔ ہر گوشہ ایک مکتب، ہر کمرہ ایک درسگاہ، اور ہر نشست ایک مجلسِ بحث و تمحیص کا منظر پیش کرے!
پھر ذرا اس خانوادے کی اولاد کا تصور کیجیے
گہوارے ہی سے “استدلال و استنباط” کی فضا میں پرورش پانے والے یہ بچے یقیناً ایسے محدث و فقیہ بنیں گے کہ زمانہ ان پر ناز کرے گا۔ شاید بچپن ہی میں سوال کریں:
“ابّا حضور! اس مسئلے میں نصِّ صریح کیا ہے؟ اور اگر نص نہ ہو تو قیاسِ جلی کا کیا حکم ہے؟” 😂
البتہ اس سارے دلنشیں تصور میں ایک نہایت اہم شرط بھی مضمر ہے
اور وہ یہ کہ اس خانوادے کا سربراہ، یعنی شوہر، محض شوہر نہ ہو بلکہ مفتیِ وقت، فقیہِ بے بدل اور صاحبِ نظر ہو! 😄
کیونکہ جب چاروں اطراف سے دلائل و براہین کا سیلاب امڈ آئے گا، تو کسی ایک “مرجع” کا ہونا از حد ضروری ہے، ورنہ بعید نہیں کہ خود شوہر ہی “محلِّ نزاع” بن جائے!
غرض یہ کہ یہ تصور اپنی جگہ نہایت دلکش، ذہن افروز اور ظرافت سے لبریز ہے
مگر اس کی عملی صورت یقیناً ایک ایسا امتحانِ صبر و فہم ہے جس میں کامیابی ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
ورنہ انجام یہی ہوگا کہ:
اصولِ فقہ تو چار ہی رہیں گے… مگر شوہر صاحب پانچواں مسئلہ بن جائیں گے! 😂
محمد مصعب پالنپوری