عدل وانصاف کی ایک شاندار نظیر
ہندوستان کا ایک بادشاہ تھا جس کا نام سلطان محمد بن تغلق تھا نہایت جاہ و جلال اور رعب ودبدبے میں مشھور تھا یہ ہندوستان کے مشہور بادشاہوں میں مانا جاتا ہے
ان کے عدل انصاف کے سلسلے میں ابن بطو نے ایک اپنا چشم دی
03 مئی، 2026
ہندوستان کا ایک بادشاہ تھا جس کا نام سلطان محمد بن تغلق تھا نہایت جاہ و جلال اور رعب ودبدبے میں مشھور تھا یہ ہندوستان کے مشہور بادشاہوں میں مانا جاتا ہے
ان کے عدل انصاف کے سلسلے میں ابن بطوطہ نے ایک اپنا چشم دید واقعہ لکھا ہے
ایک مرتبہ سلطان کے خلاف ایک ہندو نے عدالت میں شکایت کی کہ بادشاہ نے اس کے لڑکے کو بے وجہ مارا ہے قاضی نے بادشاہ کو مدعا علیہ کی حیثیت سے عدالت کے کٹہرے میں طلب کیا اور مقدمے کی سماعت کی۔اور اخر فیصلہ یہ کیا کہ بادشاہ پر جرم ثابت ہے اس سے بدلہ لیا جائے سلطان محمد بن تغلق نے بے چون و چرا عدالت کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ابن بطوطہ لکھتے ہیں
میں نے دیکھا بادشاہ نے عدالت کے فیصلے کے مطابق ہندو زادہ کو دربار میں بلایا اور اس کے ہاتھ میں چھڑی دے کر کہا : مجھ سے بدلہ لے لے
مزید یہ کہ لڑکے کو اپنے سر کی قسم دے کر کہا: کہ جس طرح میں نے تجھ کو مارا تو بھی مجھ کو اسی طرح مار _
ابن بطوطہ کا بیان ہے
کہ اب لڑکے نے بادشاہ کے 21 چھڑیاں ماری یہاں تک کہ ایک مرتبہ بادشاہ کی ٹوپی بھی سر سے گر پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ انتہائی عدل و انصاف کی ایک مثال ہے جو ہندوستاں کے بادشاہوں نے قائم رکھی تھی جس کی وجہ سے ہندوستان کے اندر اللہ نے ان کی حکومت کو باقی رکھا اور ان کے عدل و انصاف کی وجہ سے وہ عوام خواص سب میں مشہور رہے کہا جاتا ہے حکومت ظلم کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتی۔کفر کے ساتھ رہ سکتی ہے
اور اج کل بڑے بڑے بادشاہ بڑے بڑے لوگ جن کے اوپر جرم ثابت ہو بھی جاتا ہے وہ عدل و انصاف کی عدالت سے اور کچہری سے ماورا نظر آتے ۔۔
نقش حیات: مولانا حسین احمد مدنی
حصہ دوم ص( 15)
محمد شعیب قاسمی
خادم مدرسہ دار الرشاد بنکی بارہ بنکی