*مولانا توصیف کی مظلومیت قانون کی موت اور جمہوریت کا نوحہ*

*انسانیت کا جنازہ*
آج کا دور تاریخ کے ان سیاہ ترین ابواب میں سے ایک بن چکا ہے جہاں انسانی جان کی قیمت کوڑیوں سے بھی کم کر دی گئی ہے، مولانا توصیف کے ساتھ پیش آنے والا ماب لنچنگ کا حالیہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم بربریت ہے جس نے انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگا دیا ہے، سرِ عام ایک عالمِ دین کو نشانہ بنانا اس بات کا اعلان ہے کہ اب اس ملک میں قانون کا خوف ختم ہو چکا ہے اور وحشیانہ جنون نے عدل کی جگہ لے لی ہے۔
*گنڈا راج اور ریاستی ناکامی*
کسی بھی ریاست کی پہلی ذمہ داری اپنے شہریوں کا تحفظ ہوتی ہے، قطع نظر اس کے کہ ان کا تعلق کس مذہب یا طبقے سے ہے، لیکن مولانا توصیف کا خون پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ حکومت اپنی اس بنیادی ذمہ داری میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، جب بلوائیوں کی بھیڑ سڑکوں پر نکل کر کسی کی جان لیتی ہے اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہتی ہے، تو اسے انتظام نہیں بلکہ *گنڈا راج* کہا جاتا ہے، یہ حکومت کی نا اہلی ہی ہے کہ مجرموں کو یقین ہے کہ وہ قانون کی گرفت سے بچ نکلیں گے، اور یہی یقین انہیں مزید درندگی پر اکساتا ہے۔
 *مسلمانوں کے خلاف منظم نفرت کا شاخسانہ*
اس دیس میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اب ڈھکا چھپا نہیں رہا، نفرت کی اس لہر کو سیاسی مفادات کے لیے اس قدر ہوا دے دی گئی ہے کہ اب ایک عام انسان کا دوسرے انسان کے خون کا پیاسا ہونا معمول بنتا جا رہا ہے، مولانا توصیف کی ماب لنچنگ اسی نفرت آمیز بیانیے کا شاخسانہ ہے جو دن رات سوشل میڈیا اور مخصوص اداروں کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے، کیا ایک مسلمان ہونا اس ملک میں جرم بن گیا ہے؟ کیا اب جان کی سلامتی کے لیے کسی خاص سیاسی نظریے کی غلامی ضروری ہے؟
*نام نہاد انصاف وروں کی خاموشی*
سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو ان طبقوں کی خاموشی ہے جو خود کو جمہوریت اور انصاف کا علمبردار کہتے ہیں، وہ دانشور، وہ سماجی کارکن اور وہ ادارے جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر واویلا مچاتے ہیں، آج مولانا توصیف کے معاملے میں گونگے اور بہرے کیوں بنے ہوئے ہیں؟ کیا ان کے نزدیک انصاف کے پیمانے مظلوم کا مذہب دیکھ کر بدل جاتے ہیں؟ یہ منافقت اس معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، جو لوگ آج خاموش ہیں، وہ دراصل ان ظالموں کے شریکِ جرم ہیں جنہوں نے مولانا کے لہو سے ہولی کھیلی ہے۔
*انصاف کا تقاضا اور ہماری ذمہ داری* انصاف صرف یہ نہیں ہے کہ چند لوگوں کو گرفتار کر لیا جائے، بلکہ انصاف یہ ہے کہ *عبرتناک سزا* اس ماب لنچنگ میں ملوث ہر ایک فرد کو ایسی کڑی سزا دی جائے کہ آنے والی نسلیں کسی معصوم پر ہاتھ اٹھانےسےپہلےکانپ،اٹھیں،*احتساب* ان پولیس افسران اور انتظامی عہدیداروں کا احتساب کیا جائے جن کی غفلت یا ملی بھگت سے یہ واقعہ پیش آیا *سیاسی سرپرستی کا خاتمہ* نفرت پھیلانے والے عناصر کی سیاسی پشت پناہی کو فوری طور پر بند کیا جائے۔
مولانا توصیف کا خون ہم سے سوال کر رہا ہے کہ کیا ہم ایک آزاد اور جمہوری ملک کے شہری ہیں یا ہم بنانا ریپبلک (Banana Republic) میں جی رہے ہیں؟ اگر آج ہم نے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا نہ کیا اور اس ظلم کے خلاف آواز بلند نہ کی، تو کل باری کسی اور کی ہوگی، انصاف کی یہ لڑائی صرف مولانا توصیف کی نہیں، بلکہ اس ملک کے آئین کو بچانے کی لڑائی ہے،اٹھو! کہ اب بیداری کا وقت آ گیا ہے۔ انصاف کے لیے آواز اٹھانا اب محض حق نہیں، بلکہ فرض ہے۔
             ✍️*متعلم الجامعۃ الاشرفیہ*✍️