انسانی معاشرہ صدیوں سے برتری کے وہم میں مبتلا رہا ہے۔ کبھی نسب و حسب کو معیار بنایا گیا، کبھی دولت کو، اور کبھی طاقت کو فوقیت دی گئی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام پیمانے عارضی اور سطحی ہیں۔ اصل قدر و قیمت نہ خون کی پاکیزگی میں ہے، نہ خاندانی شجروں میں، بلکہ انسان کے کردار، اخلاق اور عمل میں پوشیدہ ہے۔
یہ کہنا کہ کوئی نسل یا خاندان دوسرے سے برتر ہے، محض ایک فکری مغالطہ ہے۔ اگر خچر اس بات پر فخر کرے کہ اس کے آباؤ اجداد گھوڑے تھے، تو یہ فخر بے معنی ہے، کیونکہ اس کی اپنی حقیقت اور صلاحیتیں اس کے اپنے وجود سے وابستہ ہیں، نہ کہ ماضی کے کسی رشتے سے۔ اسی طرح انسان کا وقار بھی اس کے اپنے اعمال سے متعین ہوتا ہے، نہ کہ اس کے نسب سے۔
ادب اور علم کی دنیا ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ انسانیت کا معیار تقویٰ، اخلاق اور خدمتِ خلق ہے۔ ایک عام انسان اپنے اعلیٰ کردار کے باعث بلند مقام حاصل کر سکتا ہے، جبکہ ایک معزز خاندان کا فرد اپنی بداعمالیوں کے سبب پستی میں گر سکتا ہے۔ تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں غلاموں نے عظمت حاصل کی اور بادشاہ ذلت کا شکار ہوئے۔
اسلامی تعلیمات بھی اسی اصول کی تائید کرتی ہیں کہ سب انسان برابر ہیں۔ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ یہی پیغام انسانیت کے لیے رہنمائی کا چراغ ہے، جو ہمیں ظاہری تفاخر سے نکال کر باطنی اصلاح کی طرف لے جاتا ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم نسب، رنگ، زبان اور مال و دولت کی بنیاد پر برتری کے زعم کو ترک کریں اور اپنے کردار کو سنوارنے پر توجہ دیں۔ کیونکہ حقیقی عظمت وہی ہے جو انسان کے عمل میں جھلکے، نہ کہ اس کے ماضی کے قصوں میں۔
نتیجہ:
برتری کا معیار صرف اور صرف کردار اور عمل ہے۔ جو خود کو بہتر بناتا ہے، وہی حقیقت میں بلند ہوتا ہے ورنہ
ماضی کا فخر صرف ایک کھوکھلا دعویٰ ہے۔
محمد شاہد رحمانی
۱۲ ذی القعدہ ۱۴۴۷ھ