“انسانیت کا سرچشمہ: ہدایتِ الٰہی”
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (104)
انسان بظاہر ایک جاندار مخلوق ہے، مگر حقیقی معنوں میں “انسان” بننا ایک مسلسل تربیتی عمل ہے۔ محض جسم، عقل یا معاشرتی شناخت انسانیت کی ضمانت نہیں دیتی، بلکہ اخلاق، شعور، ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس ہی انسان کو “انسان” بناتا ہے۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جو ہر دور میں اٹھتا رہا ہے کہ انسان کو انسان کون بناتا ہے؟ کیا یہ کام صرف قانون انجام دیتا ہے؟ یا معاشرتی اقدار؟ یا پھر کوئی اعلیٰ اور آفاقی نظام. یعنی دین و مذہب؟ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی قوانین اور تحریکیں وجود میں آئیں، انہوں نے کسی نہ کسی حد تک انسان کو نظم و ضبط سکھایا، مگر “کامل انسانیت” کی تشکیل صرف اس نظام کے ذریعے ممکن ہے جو انسان کے ظاہر و باطن، دنیا و آخرت، اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کو محیط ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دین _خصوصاً اسلام__اپنی جامعیت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
قرآن مجید انسان کو اس کی اصل حقیقت یاد دلاتا ہے اور اس کے مقام کو واضح کرتا ہے:
“وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ”
(سورۃ الاسراء : 70)
: “اور یقیناً ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔”
یہ آیت اس بات کی بنیاد فراہم کرتی ہے کہ انسان بذاتِ خود قابلِ تکریم ہے، مگر اس تکریم کا تقاضا بھی ہے__اور وہ ہے اخلاق، تقویٰ اور ذمہ داری۔ اسی لیے قرآن مزید رہنمائی دیتا ہے:
“إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ” (الحجرات: 13)
: “تم میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔”
یہاں واضح ہو جاتا ہے کہ انسانیت کی اصل قدر “تقویٰ” ہے، نہ کہ نسل، مال یا طاقت۔ بطورِ مسلمان، ہم یہ مانتے ہیں کہ اسلام ایک ایسا جامع نظام ہے جو انسان کو پیدائش سے لے کر موت اور بعد از موت تک مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس میں عقیدہ، عبادت، اخلاق، معیشت، معاشرت اور سیاست سب شامل ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے انسان سازی کے مقصد کو نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا: “إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ”
(سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/ 2399)
: “مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔”
یہ حدیث اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام کا بنیادی مقصد انسان کے اخلاق کو سنوارنا ہے، کیونکہ اخلاق ہی انسانیت کی اصل روح ہے۔ دنیاوی قوانین انسان کو جرم سے روک سکتے ہیں، مگر نیت کو پاک نہیں کر سکتے۔ وہ ظاہر کو قابو میں رکھتے ہیں، مگر باطن کی اصلاح نہیں کرتے۔ اس کے برعکس دین انسان کے اندر خدا کا خوف، جواب دہی کا شعور اور آخرت کی فکر پیدا کرتا ہے، جو اسے تنہائی میں بھی برائی سے روکتا ہے۔
قرآن اس اندرونی نگرانی کو یوں بیان کرتا ہے: “بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ”(القیامہ: 14) : “بلکہ انسان خود اپنے اوپر نگہبان ہے۔”
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے مختلف مذاہب نے بھی انسان کو اخلاقیات، محبت، عدل اور خیر کی تعلیم دی ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم دوسرے مذاہب کا احترام کریں اور کسی کی تحقیر نہ کریں۔
“لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ”(البقرہ: 256)
: “دین میں کوئی زبردستی نہیں۔”
یہ آیت مذہبی رواداری اور احترامِ انسانیت کی بہترین مثال ہے۔
اسلام کے مطابق انسان بننے کا عمل تین بنیادی ستونوں پر قائم ہے:
صحیح عقیدہ (ایمان)
نیک عمل (عمل صالح)
اعلیٰ اخلاق (حسنِ اخلاق)
جب یہ تینوں عناصر جمع ہو جاتے ہیں تو ایک ایسا انسان وجود میں آتا ہے جو نہ صرف خود بہتر ہوتا ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی خیر کا سبب بنتا ہے۔
آخرکار یہ کہنا بجا ہے کہ انسان کو انسان بنانے کا عمل کسی ایک پہلو تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت تربیت کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ دنیاوی قوانین اور سماجی نظام اپنی جگہ اہم ہیں، مگر مکمل انسانیت کی تشکیل صرف اسی نظام کے ذریعے ممکن ہے جو انسان کے ظاہر و باطن، فکر و عمل، اور دنیا و آخرت سب کو یکجا کرے—اور وہ نظام دین ہے۔ بطورِ مسلمان، ہم یقین رکھتے ہیں کہ اسلام وہ کامل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اس کی اصل پہچان دیتا ہے، اسے اس کے مقصدِ تخلیق سے آگاہ کرتا ہے، اور اسے ایک باوقار، بااخلاق اور ذمہ دار انسان بناتا ہے۔
پس، انسان کو انسان بنانے والا صرف علم یا قانون نہیں، بلکہ وہ شعور ہے جو دل میں اتر جائے—اور یہی شعور دین کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔اور اس شعور کا سب سے پہلا داعی خود خالقِ کائنات ہےجو اپنے بندوں کو کامل اور صالح انسان بننے کی طرف براہِ راست دعوت دیتا ہے چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “إِنَّ هَـٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ”
(سورۃ الاسراء : 9)
: “بے شک یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا اور درست ہے۔” لہذا... یہی وہ ہدایت و نور ہے جو انسان کو صرف جینے کا سلیقہ نہیں دیتا، بلکہ اسے “انسان” بنا دیتا ہے۔
اور انسانیت کا کمال اُس لمحے جنم لیتا ہے جب دل، وحی کی روشنی میں ڈھل کر کردار کا آئینہ بن جائے۔
شعر
دل کو جو نورِ دین سے آراستہ نہ کر سکا
وہ علم پا کے بھی کوئی انسان نہ بن سکا
جب تک نہ باطنوں میں ہدایت اتر گئی
ظاہر کی ہر سجاوٹ بے معنی ٹھہر گئی
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com