کسی کے ساتھ مخلص ہونا اگرچہ انسانیت کی معراج ہے، لیکن یہی خلوص بعض اوقات دیمک کی طرح انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ انسان کو اس قدر توڑ کر ریزہ ریزہ کر دیتا ہے کہ اس کا وجود بکھر کر رہ جاتا ہے؛ یہاں تک کہ اس دوران اگر کوئی ہمدرد اسے سمیٹنا بھی چاہے، تو مصلحتوں کے مارے اس شخص کی نظر میں وہ ہمدرد بھی شک کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
             انسان جب حد سے زیادہ مخلص ہو جائے، تو وہ اپنے جذبات کی حفاظت کرنا بھول جاتا ہے۔ وہ دوسروں کے لیے دل کا دروازہ تو کھلا رکھتا ہے، مگر اکثر وہی راستہ تکلیف کی راہ بن جاتا ہے۔ خلوص میں ڈوبا ہوا شخص ہر تعلق کو عبادت سمجھ کر نبھاتا ہے، مگر جب جواب میں بے حسی، شک، خود غرضی یا خاموشی ملے، تو اس کا دل ٹوٹتا نہیں بلکہ اندر ہی اندر گھلنے لگتا ہے۔ یہ درد نہ چیخ بنتا ہے، نہ شکایت؛ بس ایک خاموش اذیت کی صورت دل کے کسی کونے میں بسیرا کر لیتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا کے شور میں بھی تنہا ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا خلوص دنیا کی سطحی ترجیحات سے کہیں بلند ہوتا ہے، اور یہی بلندی اکثر انہیں بے بس کر دیتی ہے۔
              اس بے بسی کے عالم میں وہ اپنے جذبات، احساسات اور دل کی کیفیت بیان کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب غم کے بوجھ سے آنسو خشک اور الفاظ ناپید ہو جائیں، تب بھی وہ اپنی تکلیف کسی پر عیاں نہیں کر پاتا، حالانکہ وہ چاہتا ہے کہ کوئی ایسا مخلص ملے جسے وہ اپنے زخمی دل کی روداد سنا کر اپنے غم کا بوجھ کچھ کم کر سکے۔ مگر شاید مخلصی کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ مخلص انسان اپنی شکایت بھی صرف اسی سے کرنا چاہتا ہے جس نے اسے توڑا ہو، اور جب وہاں سے بھی محرومی ملے تو وہ خاموشی کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ جس خلوص کو سامنے والا پہچان نہ سکا، اسے لفظوں میں بیان کرنا اب محض وقت کا زیاں ہے، لہٰذا وہ ایک زندہ لاش کی طرح مخلصی کا یہ بھاری بوجھ تاحیات تنہا ہی اٹھاتا ہے۔

مخلص رہی میں تجھ سے، تیری ذات سے مگر
ہر رُخ تیری وفا کا مجھے توڑ ہی گیا
ازقلم: زا- شیخ