ایک لمحے کا غصہ، ایک عمر کی دانشمندی
تحریر: عبدالجبارسلہری جویا شریف 
صبح کی نرم روشنی ابھی پوری طرح پھیلی بھی نہ تھی کہ میاں بیوی کے درمیان تلخ کلامی نے شدت اختیار کر لی۔ معمولی سی بات نے دیکھتے ہی دیکھتے جھگڑے کی صورت اختیار کی، اور الفاظ کے تیر ایسے چلے کہ فضا بوجھل ہو گئی۔ بیگم صاحبہ غصے سے لرزتی آواز میں بول اٹھیں:
"بس، بہت ہو گیا۔ میں نے بہت برداشت کر لیا، اب ایک لمحہ بھی تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی!"

میاں جی بھی اس وقت ضبط کے دامن سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ چہرے پر ناگواری اور لہجے میں سختی نمایاں تھی۔ وہ تند و تیز انداز میں بولے:
"میں بھی تمہاری شکل دیکھ دیکھ کر اکتا چکا ہوں۔ بہتر ہے کہ جب میں دفتر سے واپس آؤں تو تم مجھے اس گھر میں نظر نہ آؤ۔ اٹھاؤ اپنا ٹین ڈبّا اور یہاں سے رخصت ہو جاؤ!"

یہ کہہ کر وہ غصے ہی کی کیفیت میں گھر سے نکلے اور دفتر کی راہ لی۔ ادھر بیگم صاحبہ کا دل بھی جیسے بھر آیا تھا۔ جذبات کا طوفان اندر ہی اندر مچل رہا تھا۔ انہوں نے فوراً اپنی والدہ کو فون ملایا اور روتے ہوئے ساری صورتِ حال بیان کر دی۔ کہنے لگیں:
"میں اب مزید اس جہنم میں نہیں رہ سکتی، سب کچھ چھوڑ کر بچوں سمیت میکے آ رہی ہوں۔"

والدہ نے پوری بات تحمل سے سنی، پھر ایک سنجیدہ اور قدرے سخت لہجے میں جواب دیا:
"بیٹی، عقل سے کام لے۔ بندے کی پتر بن کر وہیں ٹھہر جا۔ تیری بڑی بہن بھی اپنے شوہر سے لڑ کر آئی تھی، اور اسی ضد میں طلاق لے کر بیٹھی ہے۔ کیا تو بھی وہی راہ اختیار کرنا چاہتی ہے؟ خبردار، جو یہاں قدم رکھا! بہتر یہی ہے کہ اپنے میاں سے صلح کر لے۔ وہ اتنا بُرا بھی نہیں جتنا تو اس وقت سمجھ رہی ہے۔"

ماں کی یہ دو ٹوک بات گویا ایک تنبیہ تھی، ایک لال جھنڈی، جس نے بیگم صاحبہ کو چونکا دیا۔ یکایک جیسے ہوش کے دریچے کھل گئے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ آنسوؤں کی روانی نے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔ جب کچھ سکون آیا تو انہوں نے پورے واقعے پر سنجیدگی سے غور کیا۔ اپنی کوتاہیاں بھی نمایاں ہونے لگیں، اور احساس ہوا کہ محض جذبات کی رو میں بہہ کر وہ ایک بڑا قدم اٹھانے جا رہی تھیں۔

انہوں نے منہ ہاتھ دھویا، خود کو سنبھالا، اور پھر دل میں ایک نیا عزم لیے کچن کا رخ کیا۔ میاں جی کی پسندیدہ ڈش تیار کرنے لگیں۔ ساتھ ہی خاص اہتمام سے کھیر بھی بنا لی۔ دل ہی دل میں سوچا کہ شام کو وہ معافی مانگ لیں گی۔ آخر اپنا گھر، اپنا ہی ہوتا ہے؛ اس کی بنیاد کو خود اپنے ہاتھوں سے ہلانا دانشمندی نہیں۔

شام ڈھلی تو میاں جی واپس لوٹے۔ دروازہ کھلا تو بیگم صاحبہ نے نہایت خوش دلی اور خلوص سے ان کا استقبال کیا، گویا صبح کی تلخی کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ یہ انداز دیکھ کر میاں جی کو خوشگوار حیرت ہوئی۔ گھر کی فضا بدلی ہوئی تھی، اور اس تبدیلی نے ان کے دل کی کیفیت بھی بدل دی۔

کھانے کے بعد جب وہ سکون سے بیٹھ کر کھیر تناول کر رہے تھے تو نرم لہجے میں گویا ہوئے:
"بیگم، کبھی کبھار مجھ سے بھی زیادتی ہو جاتی ہے۔ تم اسے دل پر نہ لیا کرو۔ آخر میں بھی انسان ہوں، غصہ آ ہی جاتا ہے۔"

یہ الفاظ دراصل ایک اعتراف بھی تھے اور ایک معذرت بھی۔ میاں جی کے دل میں بیگم کے لیے قدردانی کا جذبہ ابھر آیا تھا، اور بیگم صاحبہ دل ہی دل میں اپنی والدہ کو دعائیں دے رہی تھیں کہ اگر وہ اس وقت جذبات میں بہہ کر کوئی فیصلہ کر لیتیں تو شاید یہ گھر ٹوٹنے سے نہ بچ پاتا۔

حقیقت یہی ہے کہ بعض اوقات ایک لمحے کا جذباتی فیصلہ پوری زندگی کی بنیادیں ہلا دیتا ہے، جبکہ ایک دانشمندانہ مشورہ اور تھوڑا سا صبر بکھرتے ہوئے رشتوں کو سنبھال لیتا ہے۔

یاد رکھیے، اگر والدین اپنی شادی شدہ اولاد کی ہر جائز و ناجائز بات کی اندھی حمایت کرنا ترک کر دیں، اور موقع کی مناسبت سے انہیں صبر، تحمل اور مفاہمت کا راستہ دکھائیں، تو ایسے بے شمار رشتے جو ٹوٹنے کے دہانے پر ہوتے ہیں، محفوظ ہو سکتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ قریباً نوّے فیصد بگڑتے ہوئے تعلقات محض اسی حکمتِ عملی سے بچائے جا سکتے ہیں۔