حبت کے بہانے، چیٹنگ کے رنگیں جال اور مسکراہٹ کے پردے دراصل شیطان کے بچھائے ہوئے وہ کانٹے ہیں جو ایمان کے نرم دلوں کو چھلنی کر دیتے ہیں۔ نوجوان سمجھتا ہے کہ یہ بس وقت گزاری ہے، محض دوستی ہے مگر یہی دوستی رفتہ رفتہ عشقِ مجازی کے اندھے کنویں میں دھکیل دیتی ہے جہاں نہ عزت بچتی ہے نہ غیرت، نہ سکون رہتا ہے نہ اطمینان۔۔۔
یہ موبائل کی اسکرین پر جلنے والے نیلے چراغ، یہ رات کے اندھیروں میں چھپ کر بھیجی جانے والی خفیہ مسکراہٹیں، یہ میٹھے الفاظ یہ سب وہ دھواں ہیں جو دل کے چراغِ ایمان کو بجھا دیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردار فرمایا کہ میں نے تمہارے لئے عورتوں سے زیادہ بڑا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا (بخاری، مسلم)۔ اور یہی فتنہ آج کی چیٹنگ کی شکل میں گھروں کو اجاڑ رہا ہے، والدین کے بھروسے کو توڑ رہا ہے، نوجوانوں کی غیرت کو نگل رہا ہے۔۔۔۔
کبھی سوچو! وہ انگلیاں جو قرآن کے اوراق پلٹنے کے لئے تھیں وہی انگلیاں نامحرم کو میسج بھیجنے میں مصروف ہیں۔ وہ آنکھیں جو سجدے میں اللہ کی خشیت سے بھیگنے کے لئے تھیں وہی آنکھیں اب موبائل کی روشنی میں گناہ کے نقش دیکھ رہی ہیں۔ وہ دل جو محبتِ رسول سے دھڑکنے کے لئے تھا وہ اب نامحرم کی تصویروں پر قید ہے۔۔۔۔۔
اے نوجوان! یہ چیٹنگ تیرے وقت کو ضائع نہیں کرتی بلکہ تیرے ایمان کو دیمک کی طرح چاٹتی ہے۔ یہ تجھے حیا سے محروم کر کے بے غیرتی کے اس موڑ پر لے آتی ہے جہاں زنا آسان، توبہ مشکل اور گناہ میٹھا محسوس ہونے لگتا ہے۔ اور جان لے! جو گناہ میٹھا لگنے لگے، وہی سب سے زہریلا ہوتا ہے۔
واپس پلٹ آ! یہ مصنوعی محبتیں، یہ فریب زدہ الفاظ، یہ بے بنیاد جذبات سب کچھ وقتی ہیں۔ اصل محبت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں ہے۔ اصل لذت توبہ کے آنسوؤں میں ہے۔ اصل عزت اپنے نگاہ اور دل کو پاک رکھنے میں ہے۔۔۔۔۔
یاد رکھ! اگر آج تُو اپنی چیٹنگ کی خفیہ کہانیوں سے توبہ نہ کرے تو کل یہی چیٹنگ تیری رسوائی کا سامان بنے گی۔ دنیا ہنسے گی، لوگ طعنے دیں گے اور قبر میں تیرے ساتھ صرف تیرے اعمال جائیں گے، نہ موبائل، نہ چیٹ، نہ دوست۔۔۔۔۔۔۔