ایک وقت تھا جب قابض فوج کا طوطی بولتا تھا۔
کئی ممالک، طاقتور شخصیات، ایٹمی ممالک، معیشت میں مضبوط ممالک، سیاست کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے ممالک، اس قابض فوج سے ڈرتے تھے، آنکھ اٹھا کر بات کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔
اسلامی ممالک اس قابض ریاست کو تسلیم کرنے پر تلے ہوئے تھے۔
میر کاوا ٹینک، آئرن ڈوم سسٹم، ان کے پاس موجود تھا۔ غرض یہ ہے کہ مادی لحاظ سے یہ مکمل طور پر لیس تھے۔
اسلامی دنیا کو خطرات لاحق تھے، مگر اس کے باوجود ہر شخص خاموش تھا، جیسے لبوں پر تالے ہوں۔
مسجد اقصیٰ کو گرا کر ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کی باتیں کی جانے لگیں، دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔
حالانکہ ان کے آبا و اجداد میں بہترین تلوار باز، جیسا کہ حضرت خالد بن ولید، اور بہترین شاہ سوار، جیسا کہ ابو قتادہ، جیسے شیر دل نڈر نوجوان تھے، اور ان کے سپہ سالاروں میں انتہائی زیرک ابو عبیدہ جیسے جری سالار موجود رہے تھے۔
اس کے بعد صلاح الدین ایوبی، الپ ارسلان نے اپنے آبا و اجداد کی تاریخ کو زندہ رکھا۔
اسی طرح چلتے ہوئے یہ سلسلہ شیخ احمد یاسین تک پہنچا، جنہوں نے اسلامی تاریخ کو زندہ کر دیا۔
قابض افواج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارا۔
ان کا لگایا ہوا پودا کبھی اسماعیل ہنیہ کی صورت میں خوشبو بکھیرتا رہا اور کبھی یحییٰ السنوار کی صورت میں ابھرا۔
اور ایسے وقت میں ابھرا جب لوگوں کے دل قابض کے نام سے ہی تھر تھرانے لگ جاتے، بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی، لب خاموش ہو جاتے، اور چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا۔
ایسے میں طوفان اقصیٰ کے نام سے قابض کی کمر توڑ دی گئی، اس کی خواہشوں کو کچل دیا گیا۔
یہ امت کے محسن ہیں، جنہوں نے اقصیٰ کی حفاظت کا حق ادا کیا، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے۔
انہوں نے تو حق ادا کر دیا۔
اس سارے عرصے میں ہم نے کیا کیا؟ ہم کہاں کھڑے ہیں؟
کیا ہم نے قدس کی حفاظت میں کوئی کردار ادا کیا؟
یا پھر اس کے در و دیوار کی حفاظت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی؟
کیا ہم نے کبھی اہلِ غزہ کی مالی مدد کی؟
کیا ہم نے بائیکاٹ کیا؟
کیا ہم استقامت کے ساتھ بائیکاٹ پر ڈٹے ہوئے ہیں؟
کچھ دیر کے لیے سوچیے۔
………………………………………………
بقلم
………………………………………………
طوفان احمری