دعوائے ایمان یا خود فریبی — ہم کب جاگیں گے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (103)
آئیں ایک لمحے کے لیے رکیں—نہ صرف اپنے دل کے سامنے، بلکہ اُس کلامِ حق کے سامنے بھی جو کسی مصلحت کو نہیں دیکھتا۔ ایک سیدھا، کڑوا اور فیصلہ کن سوال خود سے کرتے ہیں : کیا ہم واقعی مسلمان اور ایمان والے ہیں؟ یہ سوال محض جذباتی نہیں، بلکہ ہماری آخرت کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ اگر دل مطمئن ہے تو مبارک، اور اگر دل کانپتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ ابھی بھی وقت ہے—ورنہ یہی خاموشی کل ہمارے خلاف گواہی بن جائے گی. ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں—مگر کیا قرآن بھی ہمیں اسی درجے پر رکھتا ہے؟
اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے:
"قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَـٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ"سورۃ الحجرات (14)
(دیہاتی کہتے ہیں ہم ایمان لائے، کہہ دیجیے تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو ہم اسلام لائے، ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا)
یہ آیت ہمارے دعووں کی جڑ ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ زبان سے مان لینا کافی نہیں—ایمان دل میں اترتا ہے، اور پھر عمل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اگر ہمارا عمل خالی ہے تو دعویٰ کھوکھلا ہے۔
ہم فطرت کو دیکھتے ہیں—مچھلی تیرتی ہے، پرندہ اڑتا ہے—یہ اس کی سرشت ہے۔ مگر ہمیں ہدایت کے لیے سب کچھ دیا گیا: مساجد، مدارس، اہلِ علم، دعوت و تبلیغ۔ اس کے باوجود اگر ہم نہ سیکھیں، نہ بدلیں، تو یہ سیدھا سیدھا انکارِ حق ہے، نہ کہ لاعلمی۔ہم اپنے گناہوں کو معمول بنا چکے ہیں—خفیہ بھی، اعلانیہ بھی، اور اب تو ڈیجیٹل دنیا میں بھی۔ مگر سب سے بڑا زوال یہ ہے کہ ہم نے گناہ کو گناہ ماننا چھوڑ دیا ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ"جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو (صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6120)
یہ دراصل تنبیہ ہے کہ جب انسان کو اپنے گناہ پر شرم نہ رہے تو وہ ہلاکت کے دہانے پر ہے۔
ہم اللہ کی رحمت کا سہارا لے کر خود کو دھوکہ دیتے ہیں، مگر اس کی گرفت کو بھول جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ"(سورۃ الحجر. 49-50) میں بخشنے والا مہربان بھی ہوں اور میرا عذاب نہایت دردناک بھی ہے.
قرآن کا یہ انداز ہی ہماری خود فریبی توڑنے کے لیے کافی ہے—مگر ہم نے اس میں سے صرف اپنی مرضی کا حصہ چن لیا: "غفور الرحیم"—اور وہیں رک گئے، جیسے آگے کچھ ہے ہی نہیں! یہ کیسی جرات ہے کہ ہم اللہ کی بات کو اپنی خواہش کے مطابق ادھورا لے لیں؟ اگر وہ خود اپنی رحمت کے ساتھ اپنے عذاب کا ذکر کر رہا ہے تو کیا یہ ہمارے لیے واضح تنبیہ نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم رحمت کے سہارے بے خوف ہو چکے ہیں اور عذاب کے ذکر کو نظر انداز کر کے خود کو جھوٹی تسلی دے رہے ہیں۔ یہی انتخابی دینداری دراصل ہماری ہلاکت کی بنیاد ہےجہاں ہم اللہ کو مانتے بھی ہیں مگر اپنی شرطوں پر۔
ہم تاریخ پڑھتے ہیں مگر سبق نہیں لیتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنبِهِ"پس ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ پر پکڑا. (سورۃ العنکبوت. 40)
قومیں ایک نافرمانی پر مٹ گئیں. اور ہم دن رات گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، پھر بھی مطمئن ہیں! یہ اطمینان نہیں بلکہ غفلت کی انتہا ہے۔
سب سے خطرناک مقام یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو نیک سمجھنے لگتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ"
اپنے آپ کو پاکیزہ نہ کہو، وہ خوب جانتا ہے کون متقی ہے. (سورۃ النجم. 32) ہم لوگوں کو دھوکہ دے سکتے ہیں.وہ ہمیں مسلمان سمجھ کر ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، ہمارے نکاح اور جنازے میں شریک ہوتے ہیں۔ مگر اللہ کے سامنے ہمارا ظاہر نہیں، باطن پیش ہوگا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلَىٰ صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ وَلَٰكِن يَنْظُرُ إِلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ". اللہ تمہاری صورتوں اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے. (صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6543)
تو اصل سوال یہی ہے: ہمارے دل کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارے اعمال کس حال میں ہیں؟ ہم اپنے آپ میں مگن ہیں، دل کی دستک کو ٹھکرا چکے ہیں، ضمیر کی آواز کو دبا چکے ہیں اور پھر بھی کہتے ہیں: ہم مسلمان ہیں! یہ دعویٰ آخر کب تک چلے گا؟
ہمیں اپنے دل کو دھوکہ دینا چھوڑنا ہوگا، اپنی زندگی کے ساتھ کھیلنا بند کرنا ہوگا، اپنی جان پر رحم کرنا ہوگا۔ کبھی تو رک کر اپنی روح کی چیختی پکار سننی ہوگی وہ ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے، مگر ہم سننا نہیں چاہتے۔ آئیں خود سے سچ بولیں بغیر کسی بہانے، بغیر کسی پردے کے۔ اپنے دل سے پوچھیں: کیا ہم واقعی ایمان والے مسلمان ہیں؟ اور دل کو موقع دیں کہ وہ سچ بولے۔ اگر دل گواہی دے تو یہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔
اور اگر دل خاموش ہو جائے یا انکار کرے، تو یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں بدل جانا چاہیے۔
کیونکہ حقیقت سے فرار ممکن نہیں اور ایک دن ہمیں اپنے ہر دعوے کا جواب دینا ہوگا۔
لہٰذا یاد رکھیں.. دعویٰٔ ایمان زبان سے نہیں، دل کے یقین اور عمل کی سچائی سے ثابت ہوتا ہے ورنہ یہ صرف ایک خوبصورت دھوکہ ہے۔
شعر
ہم نے سمجھا تھا فقط نام پہ نجات ہوگی
دل نے روکا تو کہا: بات عمل کی ہوگی
دعویٰٔ دین تو ہر ایک کی زباں پر ہے مگر
سوچنا یہ ہے کہ کیا دل بھی گواہی دے گا؟
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com