مثالی ازدواجی زندگی کے رہنما اصول 

تحریر عبدالجبارسلہری 

ازدواجی زندگی انسانی تمدن کی بنیادوں میں سے ایک نہایت حساس، لطیف اور مقدس رشتہ ہے۔ یہ رشتہ صرف جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا معاہدۂ حیات ہے جس میں محبت، شفقت، ذمہ داری، برداشت اور باہمی احترام کی روشن قدریں سمٹ آتی ہیں۔ قرآنِ مجید نے اس تعلق کو اپنی گہری حکمت کے ساتھ یوں بیان فرمایا:
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔(سورۃ الروم: 21)

یہی وہ بنیادی فلسفہ ہے جس پر مثالی ازدواجی زندگی کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ ذیل میں اسی فکری بنیاد پر مرد و عورت دونوں کے لیے رہنما اصول نہایت منظم انداز میں پیش کیے جا رہے ہیں۔

ازدواجی نفسیات کے مطابق ایک صالح اور پرسکون ازدواجی ماحول کے لیے عورت کی تین بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا نہایت اہم ہے:
1- تحفظ 
2- توجہ 
3- حوصلہ افزائی 
یہ تینوں عناصر اگر میسر ہوں تو عورت کا دل سکون و اعتماد سے بھر جاتا ہے، اور وہ پورے گھر کو محبت و سکون کا گہوارہ بنا دیتی ہے۔

ازدواجی بگاڑ کی بنیادی وجوہات میں وہ رویے شامل ہیں جو مرد کی طرف سے غیر شعوری یا جذباتی طور پر اختیار کیے جاتے ہیں:

1- بیوی کو مسلسل نظرانداز کرنا
2- طلاق کی دھمکی دینا
3- دوسری شادی کی دھمکی کو ہتھیار بنانا
4- بیوی کی توہین و بے عزتی کرنا
5- وقت نہ دینا اور لاتعلقی اختیار کرنا
6- بیوی پر سخت پابندیاں اور خود کے لیے آزادی
7- مسلسل نکتہ چینی اور تنقید
8- تیسرے فریق کی وجہ سے بیوی سے جھگڑا کرنا
9- بے بنیاد الزامات لگانا
10- بیوی کے اہلِ خانہ سے بدسلوکی یا بے اعتنائی

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
 تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔(سنن ترمذی، کتاب المناقب، حدیث نمبر: 3895)

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مرد کے لیے مثالی طرزِ عمل درج ذیل ہے:
1- ہمیشہ مسکراتے چہرے کے ساتھ گھر میں داخل ہوں
2- بیوی کی اچھائیوں کی کھل کر تعریف کریں
3- اس کے کاموں میں دلچسپی اور شمولیت اختیار کریں
4- وقتاً فوقتاً تحائف دیں، چاہے وہ معمولی ہی کیوں نہ ہوں
5- محبت و شفقت کا اظہار کرتے رہیں
6- خوشگوار گفتگو اور دل جوئی کو معمول بنائیں
7- تحمل، برداشت اور درگزر کو شعار بنائیں
8- گھر کے ماحول کو دینی و اخلاقی اصولوں کے مطابق رکھنے کی کوشش کریں
9- باہمی غصے کی حالت میں صبر سے کام لیں
10- ناراضگی کی حالت میں بھی ایک دوسرے کو تنہا نہ چھوڑیں اور رات صلح کی حالت میں گزاریں

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
کوئی مؤمن مرد کسی مؤمنہ عورت سے بغض نہ رکھے، اگر اس کی کوئی عادت ناپسند ہو تو دوسری پسندیدہ عادت بھی ہوتی ہے۔(صحیح مسلم، کتاب الرضاع، حدیث نمبر: 1469)

اسلامی معاشرت میں عورت کا کردار گھر کی تعمیر و تربیت میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے لیے درج ذیل اصول نہایت اہم ہیں:

1- کھانا بناتے وقت نیت میں اخلاص اور محبت شامل رکھیں
2- گھریلو امور کو وقت کی پابندی کے ساتھ مکمل کریں
3- گھر کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں
4- سنی سنائی باتوں کو آگے بڑھانے سے اجتناب کریں
5- شوہر کو دعاؤں کے ساتھ رخصت کریں
6- شوہر کے آنے سے پہلے خود کو منظم اور تیار رکھیں
7- رشتہ داروں سے صلہ رحمی نیتِ عبادت کے ساتھ کریں
8- شوہر کو صدقہ و خیرات کی ترغیب دیتی رہیں
9- گھر میں نماز کے لیے مخصوص جگہ مقرر کریں
10- فون پر غیر ضروری اور طویل گفتگو سے اجتناب کریں
11- اہم امور کے لیے نوٹ بک کا استعمال کریں
12- ضروری اشیاء کو محفوظ رکھنے کی عادت اپنائیں
13- ہر وہ کام ترک کریں جس سے شوہر کی نظروں میں وقعت کم ہو
14- بچوں کے معاملات میں شوہر سے مشورہ کرتی رہیں
15- شوہر کی جائز خواہشات میں تاخیر نہ کریں
16- پریشانی کے وقت تسلی و حوصلہ دیں
17- غلطی کو تسلیم کرنا عظمت ہے، خاموشی بعض اوقات نجات ہے
18- اپنے جذبات صرف اللہ کے حضور بیان کریں
19- شوہر کے اہلِ خانہ سے حسنِ سلوک رکھیں
20- خالق کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں
21- شوہر کے دل میں غیر ضروری شک پیدا نہ ہونے دیں
22- ایسے افراد سے دور رہیں جو ازدواجی تعلقات میں دراڑ ڈالتے ہوں
23- بلا تحقیق شک و شبہ سے اجتناب کریں
24- صبر و شکر کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں
25- شوہر کے والدین کو اپنے والدین کی طرح سمجھ کر عزت و احترام کریں
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
 اور ان (عورتوں) کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔(سورۃ النساء: 19)

ازدواجی زندگی محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک روحانی، اخلاقی اور عملی ذمہ داری ہے۔ اگر مرد و عورت دونوں اپنے اپنے دائرہ کار میں قرآن و سنت کی روشنی کو رہنما بنا لیں تو گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ توازن بگڑ جائے تو یہی رشتہ اضطراب اور بے سکونی کا سبب بن جاتا ہے۔

اسلام نے ازدواجی زندگی کو محض حقوق و فرائض کا مجموعہ نہیں بلکہ محبت، رحمت اور حکمت کا حسین امتزاج قرار دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان اصولوں کو محض تحریر تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں، تاکہ معاشرہ حقیقی معنوں میں امن، سکون اور محبت کا گہوارہ بن سکے۔