میّ عثمان السباعی کہاں گئی؟
کیا آپ اس معصوم فرشتے کو جانتے ہیں…؟ کتنی پیاری، کتنی معصوم… جیسے زمین پر اتری ہوئی روشنی ہو یا پھول پر بیٹھی تتلی۔
یہ تصویر ایک شامی بچی کی ہے، جس کا نام "میّ عثمان السباعی" ہے۔ حمص کے محلے الخالدیہ کی رہنے والی یہ ننھی کلی 29 دسمبر 2011 کو اسکول سے اپنے گھر لوٹ رہی تھی۔ وہ بچوں کی بس میں سوار تھی، شاید تھکی ہوئی، گھر پہنچ کر ماں کی گود میں سر رکھنے کے خواب دیکھ رہی تھی… مگر اسے کیا معلوم تھا کہ یہ اس کی انجان منزل کا ایک گمنام سفر ہوگا۔
جب بس حمص کے علاقے الغوطہ سے گزری تو اچانک ایک کار مزدا زوم 6 نے راستہ روکا۔ اس میں سے انسان کے بھیس میں درندے نکلے… فوجی انٹیلی جنس اور ایئر فورس انٹیلی جنس کے اہلکار۔ انہوں نے بس کو روکا، بچوں کو گھورا… اور پھر اس معصوم بچی کو ان کے درمیان سے چن لیا۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ خوبصورت تھی۔
ہاں، صرف اسے… اسے ماں کی آغوش سے، زندگی سے، روشنی سے چھین لیا گیا… اور اغوا کر لیا گیا۔
اور پھر…
وہ جیسے زمین نگل گئی ہو یا آسمان نے اچک لیا ہو… آج تک "میّ" کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ اس کا نام ان ہزاروں بچوں کی فہرست میں شامل ہو گیا جو جبراً لاپتہ کردیئے گئے۔ ان زندانوں میں جہاں چیخیں بھی دیواروں سے ٹکرا کر دم توڑ دیتی ہیں۔
اک خدشہ یہ بھی کہ دنیا کے غلیظ ترین مذہب کے پیروکاروں نے شاید انسانی اسمگلروں کو بیچ کر دام کھرے کردیئے ہوں۔ شاید ایبسٹین…. یہ سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
انسانی حقوق کے اداروں نے جو اعداد و شمار جمع کیے ہیں، وہ روح کو لرزا دیتے ہیں۔ مارچ 2011 سے لے کر 20 نومبر 2024 تک شام میں 30,293 بچوں کو قتل کیا گیا۔ ابھی بھی 5,298 بچے لاپتہ ہیں، جن کا کوئی پتہ نہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ احمد الشرع جیسے مسیحا اور ہیرو کی آمد تک یہ سلسلہ جاری رہا۔
اور سب سے ہولناک حقیقت… 225 بچے ایسے ہیں جو جیلوں میں تشدد سہتے ہوئے دم توڑ گئے۔
ہاں، بچے… تشدد سے…! جی ہاں… اسرائیلی مظالم اس کے سامنے شرمندہ ہیں۔ یہ وہ ظلم ہے جسے الفاظ بیان کرنے سے قاصر ہیں اور انسانیت جسے سن کر بھی شرما جائے۔
شامی عوام کا مطالبہ ہے ہیں کہ "میّ" کا سراغ لگایا جائے… ان تمام گمشدہ بچوں کا پتہ چلایا جائے۔ ان ظالموں سے، جو پکڑے جا چکے ہیں، ہر ممکن طریقے سے سچ اگلوایا جائے… تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ معصوم روحیں کہاں گئیں، کن اندھیروں میں دفن کر دی گئیں۔
ذرا تصور کرو… اگر یہ بچی تمہاری بیٹی ہوتی… اگر تم برسوں انتظار کرتے، ہر دروازے پر دستک دیتے، ہر آواز پر چونک جاتے… مگر وہ کبھی واپس نہ آتی… اور تم ساری زندگی اس سوال کے ساتھ جیتے رہتے:
"میّ کہاں ہے…؟"