٭بسم اللہ الرحمن الرحیم٭
*ہمارا علاقہ اور ہماری ذمہ داری*
خامہ بکف ~*محمد معصوم ارریاوی*~
متعلم دارالعلوم وقف دیوبند
~=============================~
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمدللہ رب العالمین
ہمارا علاقہ صوبۂ بہار کا خطۂ سیمانچل ملکِ ہند میں ایک ایسے خطے کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں سادگی محرومی اور پسماندگی ایک نمایاں حقیقت ہے۔ یہاں کے باشندے اگرچہ دل کے صاف محنتی اور دین سے محبت رکھنے والے ہیں، مگر تعلیمی، معاشی اور سماجی اعتبار سے ابھی بہت سی کمیوں کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیمانچل کو اکثر ایک پسماندہ علاقہ سمجھا جاتا ہے اور مختلف زاویوں سے اس کی ایک منفی تصویر بھی پیش کی جاتی رہی ہے۔
خصوصی طور پر ہمارا علاقہ ضلع ارریہ تو اس سے بھی زیادہ توجہ اور اصلاح کا محتاج ہے۔ یہاں علماء کرام کی قلت دینی رہنمائی کی کمی اور منظم اصلاحی نظام کے فقدان نے حالات کو مزید نازک بنا دیا ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نئی نسل صحیح رہنمائی سے محروم ہو رہی ہے۔ نوجوان طبقہ نشہ خوری اور بے راہ روی کا شکار بنتا جا رہا ہے۔ مال و دولت کا صحیح مصرف نہیں ہو رہا مساجد و مدارس کو وہ توجہ نہیں مل رہی جس کے وہ حق دار ہیں
مزید تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ہمارے بہت سے معصوم بچے، جو اپنے گھروں اور مقامی مدارس میں تعلیم کے مستحق ہیں وہ باہر نکلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات غلط ہاتھوں میں پڑ کر پریشانیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ صورت حال صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین دینی و اخلاقی چیلنج ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات دینی کام کے نام پر بھی اخلاص کے بجائے شہرت یا دنیاوی مفاد غالب آجاتا ہے، جس سے نہ صرف کام کی روح متاثر ہوتی ہے بلکہ پورے علاقے کی بدنامی کا سبب بنتا ہے۔ ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ یہ سوال ہمارے علماء کرام کے سامنے کھڑا ہے
اور اس کا جواب بھی حضرات علماء کرام ہی کو دینا ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی اصلاح کرنی ہوگی اپنے علم پر خود عمل کرنا ہوگا اپنے وقار اور ذمہ داری کا احساس زندہ کرنا ہوگا پھر اپنے گھروں سے اصلاح کا آغاز کریں اپنی مساجد کو فعال بنائیں اپنے محلوں میں حکمت اور نرمی کے ساتھ برائیوں کے خلاف کام کریں نوجوانوں کو مسجد اور دین سے جوڑیں بچوں کے لیے مقامی سطح پر دینی تعلیم کا مضبوط انتظام کریں اجتماعی جدوجہد ہی واحد راستہ ہے
یہ کام اکیلے کسی ایک فرد کے بس کا نہیں، بلکہ علاقے کے تمام حضرات علماء کرام کو مل کر ایک منظم نظام کے تحت آگے بڑھنا ہوگا۔اگر ہمارے علماء کرام اخلاص، اتحاد اور حکمت کے ساتھ میدان میں آئیں تو ان شاء اللہ العزیز حالات بدل سکتے ہیں نوجوان سنور سکتے ہیں اور ہمارا علاقہ ایک نئی پہچان حاصل کر سکتا ہے ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ ہمیں صحیح سمجھ اخلاصِ نیت اور استقامت عطا فرمائے
اور ہمیں اپنے دین کی خدمت کے لیے قبول فرمائے اور ہمارے اس علاقے کو ہر قسم کی گمراہی اور بے راہ روی سے محفوظ فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔
اپیل
تمام اہلِ علم اور اہلِ درد حضرات سے گزارش ہے کہ اس اصلاحی تحریک کا حصہ بنیں، اور جس قدر ممکن ہو اپنے وقت، علم اور صلاحیتوں کے ذریعے اس مشن کو آگے بڑھائیں۔ اللہ ربّ العزت آپ سب کا حامی و ناصر ہو آمین ۔