*بیس سالہ جوانی اور مسیحاؤں کی بے حسی ایک *
جوان چچرے بھائی کی مظلومانہ رخصتی
موت تو برحق ہے، لیکن جب ایک بیس سالہ کڑیل جوان، جس کی آنکھوں میں ہزاروں سپنے ہوں اور جس کے چہرے پر ابھی جوانی کی بہار آئی ہو، محض ہسپتالوں کی لاپروائی کی نذر ہو جائے، تو انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے، میرے چچا کا لختِ جگر، میرا بھائی، کل اس دنیا سے رخصت ہو گیا، مگر وہ اپنے پیچھے ایک ایسا کرب چھوڑ گیا ہے جو ہماری روحوں کو تڑپا رہا ہے۔
سرکاری ہسپتال کی وہ وحشت ناک تنہائی پولیس نے جب اسے زخمی حالت میں سرکاری ہسپتال پہنچایا، تو وہاں انسانیت کا جنازہ نکلتے ہم نے خود دیکھا۔ میرا بیس سالہ بھائی، جو کل تک گھر کی رونق تھا، وہاں کسی لاوارث کی طرح پڑا تھا۔ نہ کسی ڈاکٹر کو اس کی تڑپ پر ترس آیا، نہ کسی عملے نے اس کی گرتی ہوئی سانسوں کو تھامنے کی زحمت کی۔ وہ بے یار و مددگار پڑا زندگی اور موت کی جنگ اکیلا لڑ رہا تھا، جبکہ مسیحائی کا دم بھرنے والے اپنی ڈیوٹیوں سے بیزار نظر آ رہے تھے۔
جہاں سانسوں کی قیمت لگائی گئی
سرکاری ہسپتال کی سنگدلی دیکھ کر ہم اسے نجی ہسپتال لے گئے، جہاں ہمیں لگا کہ شاید پیسوں کے عوض ہی سہی، اسے زندگی مل جائے، مگر وہاں تو بیوپار کا ایک الگ ہی بازار گرم تھا،پہلے ایڈمٹ کرنے کی کارروائی مکمل کریں،فلاں ٹیسٹ کے بغیر علاج شروع نہیں ہو سکتا، اس رپورٹ کا انتظار کریں، اس کے بغیر ہم ہاتھ نہیں لگا سکتے، وہ بیس سالہ جوان درد سے تڑپتا رہا، اس کی سسکیاں ہسپتال کی راہداریوں میں گونجتی رہیں، مگر وہاں کے عملے کے دل پتھر کے ہو چکے تھے، وقت ریت کی طرح ہاتھ سے نکلتا رہا اور ڈاکٹروں کے چرچے اور چانچ ختم نہ ہوئے۔
مردہ جسم اور جھوٹی امیدوں کا سہارا، سب سے زیادہ تکلیف دہ مرحلہ وہ تھا جب میرا بھائی شاید ہمیں چھوڑ چکا تھا، مگر ہسپتال کا عملہ اپنی ناہلی چھپانے کے لیے ہمیں اندھیرے میں رکھتا رہا، وہ ساکت جسم، وہ خاموش نبضیں پکار پکار کر کہہ رہی تھیں کہ بہت دیر ہو چکی ہے، مگر ہمیں تسلیاں دی جاتی رہیں کہ سانس چل رہی ہے، جب ہم نے ان کی لاپروائی دیکھ کر ریفر کرنے کا تقاضہ کیا، تو حقیقت سامنے آ گئی میرا بھائی اب اس دارِ فانی سے کوچ کر چکا تھا۔
*ایک بجھتا ہوا چراغ اور زندہ سوال* بیس سال کی عمر کیا ہوتی ہے؟ ابھی تو اس نے زندگی کی تلخیاں اور خوشیاں دیکھنا شروع کی تھیں، ایک باپ کے جوان بیٹے کا جنازہ اٹھنا کتنا بھاری ہوتا ہے، یہ صرف وہی جانتا ہے جس پر یہ قیامت گزرتی ہے، میرا بھائی تو چلا گیا، مگر یہ نظامِ صحت اور سفید کوٹ پہنے یہ سوداگر اب بھی وہیں بیٹھے ہیں، آج ہم صرف ایک جنازہ نہیں اٹھا رہے، بلکہ اس بھروسے کا جنازہ اٹھا رہے ہیں جو ہم ان ڈاکٹروں پر کرتے تھے، اللہ پاک میرے بھائی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور چچا سمیت ہم سب گھر والوں کو صبرِ جمیل دے۔آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔
✍️*متعلم الجامعۃ الاشرفیہ*✍️