(7/ ذی القعدہ۔ یومِ وصال حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ)
تاج الشریعہؒ کی حیات و خدمات: ایک ہمہ جہت مطالعہ
یہ حقیقت آفتابِ نیم روز کی طرح روشن ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی ہدایت اور دینِ اسلام کی اشاعت کے لیے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ تک بے شمار انبیاء و رسل علیہم السلام کو دنیا میں مبعوث فرمایا۔ ان تمام مقدس ہستیوں نے اپنی اپنی قوم کو راہِ حق کی طرف بلانے کے لیے شب و روز محنت کی اور انہیں خدائے واحد کی معرفت سے آشنا کیا۔ جن لوگوں نے ان کی دعوت کو قبول کیا وہ کامیابی اور فلاح سے ہمکنار ہوئے، جبکہ انکار کرنے والے گمراہی میں بھٹکتے رہے اور تاریخ کے صفحات سے مٹ گئے۔
اگرچہ سلسلہء نبوت ختم ہوچکا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہر دور میں آتے رہے ہیں جو دین کی خدمت اور دلوں کی اصلاح کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ کوئی امام غزالیؒ بن کر علم و فکر کو جِلا بخشتا ہے،تو کوئی فخرالدین رازیؒ بن کر حکمت و دانش کو فروغ دیتا ہے، توکوئی جلال الدین رومیؒ بن کر عشقِ الٰہی کی شمع روشن کرتا ہے اور کوئی امام احمد رضا خانؒ بن کر دین کے خلاف اٹھنے والے فتنوں کا سدباب کرتا ہے۔ انہی جلیل القدر ہستیوں کی کڑی میں ہندوستان کی سرزمین پر ایک عظیم نام حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خان ازہریؒ کا ہے، جنہوں نے اپنے علم، تقویٰ اور خدماتِ دینیہ کے ذریعے امتِ مسلمہ کی رہنمائی کا حق ادا کیا۔
ولادت با سعادت:
آپ کی ولادت محلہ سوداگران، بریلی میں 14 ذی قعدہ 1361ھ مطابق 23 نومبر 1942ء بروز منگل ہوئی۔ پاسپورٹ کے مطابق شمسی تاریخِ ولادت یکم فروری 1943ء درج ہے، جس کے لحاظ سے قمری تاریخ 25 محرم الحرام 1362ھ بروز پیر بنتی ہے۔ بعض حضرات نے مختلف تواریخ بھی ذکر کی ہیں، جیسے 24 ذی قعدہ 1361ھ/ 23 نومبر 1943ء، 26 محرم الحرام 1362ھ/ 2 فروری 1943ء اور 25 صفر 1361ھ/ 1942ء۔ مؤخر الذکر تاریخ صاحبِ تذکرہ کی کتاب ”الصحابۃ نجوم الاہتداء“ اور ”حقیقۃ البریلویہ“ کے تعریف بالمؤلف میں ان الفاظ میں مذکور ہے:“ولد الشیخ الامام اختر رضا خان الحنفی القادری الازہری یوم الخامس والعشرین (25) من شہر صفر لعام 1361ھ لموافق 1942ء بمدینۃ بریلی فی شمال الہند۔“ تاہم محققین کے نزدیک صحیح اور مستند تاریخِ ولادت 14 ذی قعدہ 1361ھ مطابق 23 نومبر 1942ء ہی ہے۔
نام و نسب:
آپ حضرت مفسر اعظم ہند علامہ محمد ابراہیم رضا علیہ الرحمہ کے فرزند ارجمند ہیں۔ خاندانی روایت کے مطابق آپ کا پیدائشی نام“محمد”رکھا گیا، اور والد کے نام کی نسبت سے“اسمعیل رضا”تجویز ہوا، جبکہ عرفی نام“اختر رضا”ہے، جس سے آپ زیادہ مشہور ہیں۔ آپ اپنے نام کے ساتھ“قادری مشرباً”اور“ازہری علماً”بھی تحریر فرماتے تھے۔ نسب کے اعتبار سے آپ افغانی النسل، نجیب الطرفین بڑھیچی افغانی پٹھان ہیں۔ شجرۂ پدری یوں ہے: تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا بن مفسر اعظم ہند محمد ابراہیم رضا، بن حجۃ الاسلام محمد حامد رضا، بن امام اہل سنت اعلیٰ حضرت مفتی محمد احمد رضا، بن خاتم المتکلمین مفتی محمد نقی علی خاں علیہم الرحمہ۔ شجرۂ مادری: آپ بن نگار فاطمہ (سرکار بیگم)، بنت مفتی اعظم ہند مفتی محمد مصطفی رضا، بن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ۔
آپ کی پرورش والدین اور نانا نانی کی شفقت میں ایک خالص دینی و شرعی ماحول میں ہوئی۔ ددھیال، ننھیال اور سسرال تینوں ایک ہی علمی و دینی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جس کا گہرا اثر آپ کی شخصیت پر پڑا۔ اسی تربیت کے نتیجے میں آپ نے خود کو مکمل طور پر شریعت کے سانچے میں ڈھالا اور ایک عظیم مبلغِ اسلام کے طور پر ابھرے۔
تعلیم و تربیت:
آپ کی ابتدائی تربیت والدِ ماجد نے نہایت محبت اور اہتمام کے ساتھ فرمائی، جس میں روحانی و جسمانی، ظاہری و باطنی ہر پہلو شامل تھا۔ جب آپ کی عمر 4 سال، 4 ماہ اور 4 دن ہوئی تو تسمیہ خوانی کی باوقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں دارالعلوم منظرِ اسلام کے اساتذہ، طلبہ اور معززینِ شہر شریک ہوئے۔ یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے خود تسمیہ خوانی کروائی۔ آپ نے ناظرہ قرآن والدہ ماجدہ سے پڑھا اور ابتدائی کتب اپنے والد سے حاصل کیں، پھر دارالعلوم منظرِ اسلام میں داخلہ لے کر درسِ نظامی کی تکمیل کی۔ زمانہء طالب علمی سے ہی آپ کو مطالعہ کا غیر معمولی شوق تھا، یہاں تک کہ چلتے پھرتے بھی کتاب کا مطالعہ جاری رکھتے۔ اس شوق اور قوتِ حافظہ کا اعتراف آپ کے معاصرین، جیسے حضرت خواجہ مظفر حسینؒ، مفتی غلام مجتبیٰ اشرفیؒ اور علامہ قاضی عبدالرحیم بستویؒ نے بھی کیا ہے۔
ابتدائی فارسی کتب جیسے پہلی فارسی، دوسری فارسی، گلزارِ دبستاں اور بوستاں آپ نے حافظ انعام اللہ خاں تسنیم حامدی سے پڑھیں۔ 1952ء میں فضلِ رحمٰن اسلامیہ انٹر کالج، بریلی میں داخل ہو کر ریاضی، ہندی، سنسکرت اور انگریزی کی تعلیم حاصل کی، پھر آٹھویں کے بعد دوبارہ دارالعلوم منظرِ اسلام میں داخل ہو گئے۔ دورانِ تعلیم ہی آپ کو عربی و انگریزی زبان پر خاص عبور حاصل ہوگیا تھا۔ آپ روزانہ اخبارات کا عربی ترجمہ اپنے استاذ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عبدالتواب مصری کو سناتے، جس سے متاثر ہوکر انہوں نے آپ کو جامعہ ازہر، قاہرہ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنے کی تجویز پیش کی۔
اساتذہ کرام:
حضور تاج الشریعہ نے جن جلیل القدر اساتذہ سے علم حاصل کیا، وہ اپنے وقت کے آفتابِ علم و فضل تھے، جن کی تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ تاج الشریعہ، مفتی اعظم ہند اور قاضی القضاۃ جیسے بلند القاب سے سرفراز ہوئے۔ ان نمایاں اساتذہ میں: حضور مفتی اعظم ہند حضرت مصطفی رضا خاں نوریؒ، حضرت علامہ محمد ابراہیم رضا خاں ؒ، حضرت مفتی محمد افضل حسین مونگیریؒ، والدہ ماجدہ نگار فاطمہؒ، حضرت حافظ انعام اللہ خاں تسنیمؒ، جامعہ ازہر کے اساتذہ جیسے شیخ محمد سامیؒ اور شیخ عبدالغفارؒ، نیز مولانا عبدالتواب مصریؒ، مفتی محمد تحسین رضا خاں ؒ اور مولانا محمد احمد جہانگیر خاں اعظمیؒ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ یہ فہرست مکمل نہیں، بلکہ ان ممتاز اساتذہ کا ذکر ہے جن سے آپ نے خصوصی طور پر زیادہ استفادہ کیا، ورنہ دارالعلوم منظرِ اسلام، جامعہ ازہر مصر اور اسلامیہ انٹر کالج بریلی کے دیگر اساتذہ بھی آپ کی علمی تشکیل میں شریک رہے ہیں۔
علوم و فنون میں مہارت:
حضور تاج الشریعہ کو متعدد علوم و فنون پر غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ آپ علومِ قرآن، تفسیر و اصولِ تفسیر، حدیث و اصولِ حدیث، اسماء الرجال، فقہ حنفی اور دیگر مذاہبِ اربعہ، اصولِ فقہ، علمِ کلام، صرف و نحو، معانی، بیان، بدیع، منطق، فلسفہ، مناظرہ، تاریخ، تصوف و سلوک، اخلاق، فرائض، تجوید و قرائت، ادب (عربی، فارسی، اردو، انگریزی) سمیت ریاضی، ہندسہ، ہیئت، جبر و مقابلہ اور دیگر فنون میں مہارت رکھتے تھے۔ آپ قرائتِ عشرہ کے ماہر تھے اور مصری لہجے میں نہایت دلنشیں تلاوت فرماتے تھے۔
زبانوں پر بھی آپ کو غیر معمولی دسترس حاصل تھی؛ عربی، فارسی، اردو اور انگریزی میں آپ کے ادبی شہ پارے موجود ہیں، جبکہ ہندی، سنسکرت، گجراتی، مراٹھی، پنجابی، بنگالی، تیلگو، کنڑا، ملیالم اور دیگر زبانوں کو بھی سمجھتے اور بولتے تھے۔ دینِ اسلام کی اشاعت اور بدعات کے رد میں آپ کا مقام نہایت بلند تھا۔ آپ کی تحریروں میں دلائل و حوالہ جات کی کثرت ہوتی تھی، یہاں تک کہ محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ امجدی نے کہا کہ آپ کے فتاویٰ کا مطالعہ کرنے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اعلیٰ حضرت امام احمد رضاؒ کی تحریر پڑھی جا رہی ہو۔ فنِ خطاطی میں بھی آپ یکتا تھے۔ آپ کے خطوط، مقالات اور فتاویٰ حسنِ تحریر کے لحاظ سے بے مثال تھے۔ آپ بغیر کسی سہارے کے سیدھی اور خوبصورت تحریر لکھتے، جسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا جیسے موتیوں کی لڑیاں بکھری ہوں۔ آپ کی تحریر کا حسن صرف ظاہری نہیں بلکہ معنوی جمال کا بھی آئینہ دار تھا، جو آپ کی علمی و روحانی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔
تصانیف و تراجم:
حضور تاج الشریعہ اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود قلم سے اٹوٹ رشتہ بنائے ہوئے ہیں۔ آپ نے متعدد موضوعات پر کتابیں تصنیف کی ہیں اور بہت سی کتابوں کا ترجمہ بھی کیا ہے ذیل میں ہم ان کی اجمالی فہرست درج کرتے ہیں۔
شرح حدیث نیت، ہجرت رسول، آثار قیامت، سنو چپ رہو، ٹائی کا مسئلہ، تین طلاقوں کا شرعی حکم، تصویروں کا حکم، دفاع کنز الایمان۔ ۲ جزء، الحق المبین القول الفائق بحکم اقتداء الفاسق، حضرت ابراہیم کے والد تارخ یا آزر، کیا دین کی مہم پوری ہو چکی؟، جشن عید میلادالنبی، متعدد فقہی مقالات، سعودی مظالم کی کہانی اختر رضا کی زبانی، المواہب الرضویۃ فی الفتاوی الازہریہ، سختہ الباری فی شرح البخاری، تراجم قرآن میں کنز الایمان کی فوقیت، ور حامیم کیلر کے سوالات کے جوابات (کفر ایمان تکفیر)، الصحابۃ نجوم الاہتداء، شرح حدیث الاخلاص، سد المشارع علی من یقول ان الدین یستعمی عن الشارع، تحقیق ان لا ابراہیم تارح لا آذر، مبذۃ حیاۃ الامام احمد رضا، مرأۃ النجدیۃ بجواب البریلویہ (حقیقۃ البریلویۃ)، حاشیۃ الازہری علی صحیح البخاری، حاشیۃ المعتقد والمستند، سفینہ بخشش (دیوان)، انوار المنان فی توحید القرآن، المعتقد المنتقد مع المعتمد المستند، الزلال الانقی مع بحر سبقۃ الاتقی،ھلاک الو بائین علی تو بین القبور المسلمین، شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام، الہاد الکاف فی حکم الضعاف، برکات الامداد اہل الاستمداد، عطایا القدر فی حکم التصویر، تیسیر الماعون للسکن فی الطاعون، قوارع القہار فی ردالمستہ الجار، سبحان السبوح، قمع المبین لا مال المکند بین، حاجز البحرین، شہنشاہ ان القلوب بید محبوب بعطاء اللہ، ملفوظات تاج الشریعہ، تقدیم تحلبیۃ السلم فی مسائل نصف العلم. ترجمہ قصیدتان رائعتان،از ہر الفتاوی، ٹائی کا مسئلہ، فضیلت نسب (ترجمہ اراء الادب الفاضل النسب)، ایک غلط فہمی کا ازالہ، حاشیہ انوار المنان، الفردہ فی شرح قصیدۃ البردہ، رویت ہلال، چلتی ٹرین پر نماز کا حکم، افضلیت صدیق اکبر و فاروق اعظم اور نغمات اختر۔
مذکورہ بالا تصانیف کے علاوہ بشکل آڈیو، قیمتی باتیں، بخاری شریف کا اردو میں درس انٹر نیٹ پر ہر اتوار کو بعد نماز عشا آن لائن،عربی سوال کا عربی میں انگلش سوال کا انگلش میں، اردو سوال کا اردو میں جواب، انٹرنیٹ پر موجود ہے، اللہ تعالٰی اہل علم عقیدت مندوں میں سے کسی کو توفیق بخشے اور اسے تحریر کا جامہ پہنا کر منظر عام پر لے آئے۔ جن کتابوں کا آپ نے ترجمہ فرمایا ہے خواہ عربی میں ہوں یا اردو میں ان پر آپ کا حاشیہ بھی ہے، یہاں صرف المعتقد مع المعتمد المستید اور انوار المنان کے حاشیے کا تصانیف میں تذکرہ کیا ہے، ان حواشی کو بھی آپ کی تصانیف میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
آپ نے علمائے اہل سنت کی کتابوں پر جو تقریظیں تحریر کی ہیں وہ کثیر تعداد میں ہیں انہیں بھی یکجا کیا جائے تو اردو نثر میں اضافہ ہوگا۔ مدارس، مساجد، مکاتب تنظیم تحریک جن کا تعلق اہل سنت سے ہے، ان کے معائنے یا سر پرستی قبول کرنے کی تحریریں، یا تعاون کے سلسلے میں مولانا کی بابرکت تحریریں بھی اس قدر ہیں کہ انہیں یکجا کیا جائے تو نشریات اردو میں شاہکار ثابت ہوں گی۔
نمایاں کارنامے:
حضور تاج الشریعہ ایک ہمہ جہت علمی و روحانی شخصیت تھے، جن کی بارگاہ سے بے شمار علما و فضلا نے فیض حاصل کیا اور عرب و عجم میں آپ کے علم کا چرچا ہوا۔ آپ نے اپنی علمی خدمات کے ذریعے لوگوں کو راہِ حق پر گامزن کیا اور ساتھ ہی دشمنانِ اسلام کا مدلل انداز میں مقابلہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق گوئی اور بے باکی کی عظیم صفت عطا فرمائی تھی، جس کی بنا پر آپ نے ہر دور میں حق کا عَلَم بلند رکھا، خواہ مقابلہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ آپ کے نمایاں کارناموں میں نس بندی کے خلاف فتویٰ، مزارات پر عورتوں کی حاضری کے متعلق رہنمائی، تحفظِ پرسنل لا کی تحریک میں کردار، بابری مسجد کے مسئلے پر جدوجہد، اور بدلتے حالات میں شریعت کے مطابق رہنمائی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے کئی دینی ادارے قائم کیے، جو آج بھی دینِ اسلام اور مسلکِ اہلِ سنت کی خدمت میں مصروف ہیں۔
وفات پر آہِ حسرت:
حضرت تاج الشریعہ کی ذاتِ گرامی مسلکِ اعلیٰ حضرت کا معیار اور ہمارے لیے منارۂ نور تھی، جس کی روشنی ہر سمت پھیلی ہوئی ہے۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ امت کے لیے رہنمائی کا عظیم سرچشمہ رہی۔ حضور تاج الشریعہ بدرالطریقہ مرجعِ عالم فقیہ اعظم شیخ الانام یادگار حجۃ الاسلام حضرت العلام الحاج الشاہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری برکاتی بریلویؒ کا وصال 7 ذی القعدہ 1439ھ مطابق 20 جولائی 2018ء کو بریلی شریف میں ہوا۔ آپ کا مزار مبارک وہیں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے پہلو میں مرجعِ خلائق ہے۔
ان کی ذات پاک کتنی ارفع و اعلی ہوئی
جانتا ہے سارا عالم رفعت اختر رضا
جس نے دیکھا انہیں فرط طرب میں کہ اٹھا
وہ کیا دلنشیں ہے صورت اختر رضا

تاریخ: ٠٦ /ذوالقعدة/ ١٤٤٧
تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری 
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کیرلا