سہاگ رات مردانگی دکھانے کی رات نہیں ہے

آج کل ایک خطرناک رجحان سامنے آ رہا ہے کہ دوستوں کے اکسانے پر دلہا پہلی ہی رات جذبات میں بہہ کر ایسی حرکتیں کر بیٹھتا ہے جو نہ عقل کے مطابق ہیں اور نہ ہی انسانیت کے مطابق۔ اس رات انسان کا اصل کردار سامنے آتا ہے کہ آیا وہ اپنے نفس کا غلام ہے یا ایک ذمہ دار انسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حقیقت یہ ہے کہ سہاگ رات کوئی مردانگی دکھانے کی رات نہیں ہے بلکہ دو دلوں کو جوڑنے اور ایک نئے رشتے کو نرمی سے سنبھالنے کا آغاز ہوتی ہے۔ لڑکی ایک نئے ماحول میں، نئے لوگوں کے درمیان فطری طور پر گھبرائی ہوئی ہوتی ہے لہٰذا اسے سہارا چاہئے، شفقت چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر افسوس کہ بعض لوگ دوستوں کی باتوں میں آ کر اس نازک لمحے کو امتحان بنا دیتے ہیں۔ زبردستی، جلد بازی یا غیر فطری دباؤ یہ سب نہ صرف ظلم ہے بلکہ ایک ایسے رشتے کی بنیاد کو کمزور کر دیتا ہے جسے محبت اور اعتماد پر کھڑا ہونا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک نازک کلی کو کھلنے کا وقت دیا جاتا ہے، اسے دھوپ دی جاتی ہے۔ پانی اور فضا کا بند و بست کیا جاتا ہے نہ یہ کہ زور لگا کر کھولنے کی کوشش کی جائے۔ اگر آغاز ہی جبر سے ہو تو دل کبھی نہیں جڑتے اور فاصلے بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لہٰذا اس موقع کو سمجھداری اور احساس کے ساتھ لیا جائے۔ بیوی کو یہ محسوس ہونا چاہئے کہ وہ ایک محفوظ ہاتھ میں ہے نہ کہ کسی جلدباز یا بے حس شخص کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ✍️ محمد پالن پوری