اسامہ حیدر ارریاوی
انسانوں کے لئے الفاظ بڑی اہمیت رکھتے ہیں، اسی کے سہارے انسان اپنے جذبات و احساسات، خیالات و نظریات کو بیان کرتا ہے۔ آپ کسی خوش منظر کو بیان کرنا چاہیں یا کریہہ منظر کو، اپنے اندر کی کیف و مستی کو بیان کرنا چاہیں یا اپنے اندر کی بے کیفی و بدمزگی کو، آپ ہر حال میں الفاظ کے محتاج ہیں۔ آپ کسی سے اپنے تعلق کا اظہار چاہتے ہیں یا اختلاف کا اظہار، تو بھی آپ الفاظ کے محتاج ہیں۔ گویا کہ آپ کو مافی الضمیر کے اظہار کے لیے قدم قدم پر الفاظ کی ضرورت ہے۔
لفظ انسان کی شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے، ہر کلام میں متکلم (بولنے والے) اور ہر تحریر میں محرر (لکھنے والے) کی ذات کا عکس ہوتا ہے۔ جب انسان بولتا ہے تو مخاطب کو اس کے الفاظ میں اس کی ذات، اس کی تہذیب نظر آتی ہے۔
خاموشی چھپاتی ہے عیب و ہنر دونوں
شخصیت کا اندازہ گفتگو سے ہوتا ہے
آپ کے خیالات و نظریات کتنے ہی دل کش کیوں نہ ہوں جب تک آپ ان خیالات و نظریات کو الفاظ کا خوب صورت جامہ نہیں پہنائیں گے تب تک وہ دلوں کو اپیل نہیں کریں گے۔ آپ کا شاندار لباس، آپ کی خوب صورتی گھڑی، آپ کی فلک بوس عمارت، لوگوں کے دلوں میں آپ کی شخصیت کا وہ نقشہ نہیں کھینچیں گے تو آپ کی گفتگو اور گفتگو میں استعمال ہونے والے الفاظ کھینچیں گے۔ فریحہ نقوی نے بڑی خوب صورتی کے ساتھ اس مفہوم کو بیان کیا ہے ۔
قیاس تو بہت سنے تو کون ہے
کہی سنی سے کیا کھلے تو کون ہے
یہ شکل کی، لباس کی، بساط کیا
کلام کر، پتہ چلے تو کون ہے
آپ کی گفتگو اور الفاظ کا انتخاب بتاتا ہے کہ آپ کتنے مہذب ہیں، اور کتنا سلیقہ مند ہیں ۔۔۔ اس کو مثال سے سمجھیے کہ ایک آدمی آپ سے پوچھے تمہارے باپ کا نام کیا ہے ؟ اور ایک دوسرا شخص پوچھے: آپ کے والد صاحب کا اسم گرامی کیا ہے ؟ کیا دونوں شخص کے تعلق سے آپ کے ذہن پر یکساں نقش ابھرے گا ؟ دونوں کی عزت آپ کی نگاہ میں برابر ہوگی؟ یقینا نہیں ہوگی مگر بتایے کہ آخر فرق کیا ہے ؟ دونوں کی بات تو ایک ہی ہے ، دونوں کا مقصد آپ کے والد صاحب کا نام جاننا ہے۔ بس فرق الفاظ کے چناؤ کا ہے ۔۔۔
لوگ آپ کی گفتگو سے آپ کی تحریر سے آپ کی پہچان بناتے ہیں، آپ کا انداز بیاں آپ کا تعارف ہوتا ہے، اس لیے ہمیشہ صحیح الفاظ کا انتخاب کیجیے، خوب صورت لفظوں کو چنیے۔ آپ کسی جلسہ سے خطاب کر رہے ہیں، یا منبر و محراب پر جلوہ افروز ہو کر وعظ و نصیحت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ یار دوستوں سے تبادلہ خیالات فرما رہے ہیں یا اختلاف رکھنے والوں سے بات کر رہے ہیں۔ ہمیشہ اور ہر حال میں دلکش شبدوں کو چنیے کہ آپ کے الفاظ آپ کے اخلاق کا آئینہ دار ہوتے ہیں اور آپ کے ظرف کا عکاس ہوتے ہیں، الفاظ کا شائستہ انتخاب ہی آپ کو دوسرے شخص سے ممتاز بناتا ہے۔