جمہوریت اور خلافت
جمہوری اور خلافتی نظام میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
جمہوریت کے حوالے سے بعض حضرات بہت متشدد رویہ اختیار کرتے ہیں۔
بعض لوگ یہ مانتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جمہوریت دجل ہے، فریب ہے اور کافروں کا بنایا ہوا نظامِ حکومت ہے۔
مگر سوال یہ ہے: کیا اس نظام کے خلاف لڑنا جہاد ہے؟
یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔
کیا صرف اس نظام کو لانے کے لیے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں نوجوانوں کو مروا دینا شہادت کہلائے گا؟
یاد رکھیے، میں جمہوریت کی حمایت نہیں کرتا،
لیکن اس کے خلاف تلوار اٹھانا، ہتھیار اٹھانا نہ دانشمندی ہے اور نہ ہی یہ کوئی شرعی طریقہ ہے۔
اگر بات کو سمجھا جائے تو یہ ایک آسان اور عام فہم بات ہے۔
جمہوریت کافروں کا بنایا ہوا نظامِ حکومت ہے،
جس طرح موبائل فون یا ٹیلی ویژن وغیرہ کافروں کے بنائے ہوئے آلات ہیں،
مگر یہ بذاتِ خود کفر نہیں ہیں۔
اسی طرح جمہوریت بھی بذاتِ خود کفر نہیں ہے، بلکہ کافروں کا بنایا ہوا ایک نظام ہے۔
خلافت کے قیام کے لیے جدوجہد اہم سمجھی جاتی ہے،
مگر یہ جدوجہد ہتھیار کے ذریعے نہیں ہونی چاہیے۔
جیسا کہ ماضی میں خارجی
(اِنِ الحُکمُ اِلّا لِلّٰہ)
کا نعرہ لگاتے تھے،
اور حضرت علیؓ کے خلاف جنگ بھی کرتے تھے۔
بظاہر یہ ایک خوبصورت نعرہ تھا،
مگر اس کے پیچھے صحیح فہمِ دین موجود نہیں تھی۔
آج بھی کچھ لوگ جو اپنے آپ کو دانشور اور عقلمند سمجھتے ہیں،
نعرے تو بہت خوبصورت لگاتے ہیں، مگر وہ خود شریعت کے احکام پر عمل نہیں کرتے،
بلکہ محض قتل و غارت اور خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔
حالانکہ ایک مسلمان کی حرمت کعبہ شریف سے بھی زیادہ ہے،
مگر وہ لوگ جنہوں نے جہاد کو اپنی مرضی کے مطابق موڑا اور اس کی شرائط کو تبدیل کیا،
وہ قیامت کے دن جوابدہ ہوں گے۔
اداروں سے اختلاف ایک الگ چیز ہے۔
بعض ادارے چاہتے ہیں کہ علماء ان کی مرضی کے مطابق بات کریں،
مگر علمائے دیوبند ہر چیز سے قطع نظر اسلام اور شریعت کو مقدم رکھتے ہیں،
اور وہ اپنے اکابرین کی سنت پر چلتے ہیں۔
آپ دیکھ لیں، امام مالکؒ اور امام ابو حنیفہؒ کے پاس ہزاروں کی تعداد میں متبعین موجود تھے،
مگر انہوں نے حکومتِ وقت کے خلاف خروج نہیں کیا۔
اس لیے اپنے جذبات سے اسلام کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔
شریعتِ اسلام کسی کی ذاتی میراث نہیں ہے،
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا دین ہے۔
ہر شخص، ہر لیڈر، ہر مسلمان اس دین کا خادم ہے۔
قبول کرنے والی ذات باری تعالیٰ ہے۔
وہ مسجد کے خادم کو جنت الفردوس میں داخل کر دیں، کوئی پوچھنے والا نہیں،
اور کسی عابد و زاہد کو جہنم میں ڈال دیں تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
اس لیے اپنے جذبات سے اسلام کو نقصان مت پہنچائیے۔
اسلام کے لیے اپنی صلاحیتیں اور کوششیں صرف کریں۔
دِلی (بھارت) میں اسلام کا پرچم بلند کریں—کون مانع ہے؟
کشمیر میں لڑیں،
اسرائیل سے لڑیں،
امریکہ سے لڑیں—
جائیے، دیکھئے! ایغورمسلمان آپ کی راہ تک رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ بوجھ عطا فرمائے،
اور ہم سے دین کا کام لے۔
آمین یا ربّ الشہداء والمجاہدین۔
……………………………………………..
تحریر
……………………………………………..
طوفان احمری