*قواعد عربی کی روشنی میں ناد علی کا جائزہ*
تحریر: عبدالجبار سلہری، جویا شریف

کسی بھی زبان کا ادب،خصوصاً عربی جیسی وسیع، فصیح اور بلیغ زبان،محض الفاظ کی ترتیب کا نام نہیں ہوتا، بلکہ یہ قواعد، معانی اور دقیق لسانی حقائق کا ایسا حسین امتزاج ہے جس میں زیر و زبر کی معمولی سی لغزش بھی مفہوم کو یکسر بدل دیتی ہے۔ زیرِ نظر عبارت، جو معروف “نادِ علی” کے متن میں بعض ترامیم اور اضافوں کے ساتھ پیش کی گئی ہے، لسانی، نحوی، صرفی اور ادبی جہات سے متعدد ایسے مقامات پر مشتمل ہے جو اہلِ علم کے نزدیک نہ صرف قابلِ اعتراض ہیں بلکہ اصولِ زبان کے پیمانے پر بھی پورے نہیں اترتے۔ ذیل میں اسی عبارت کا ایک سنجیدہ اور مدلل جائزہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ حقیقت اہلِ نظر پر واضح ہو سکے۔

عربی زبان کے مسلمہ قواعد کے مطابق “جَلَّ جَلَالُہٗ” ایک جملۂ فعلیہ ہے جو بطورِ صفت یا دعائیہ ترکیب صرف اور صرف اللہ رب العزت کی ذات کے لیے مخصوص ہے۔ مگر زیرِ بحث عبارت کے آغاز میں لکھا گیا ہے: “نَادِ عَلِیًّا جَلَّ جَلَالُہٗ”۔ یہاں “نَادِ” فعلِ امر ہے جس کا فاعل ضمیرِ مستتر “أنت” (تو) ہے، جبکہ “عَلِیًّا” اس کا مفعول بہ ہے جس پر تنوینِ نصب وارد ہے۔ اس کے ساتھ “جَلَّ جَلَالُہٗ” کا الحاق نحوی لحاظ سے نہایت الجھی ہوئی اور غیر مانوس ترکیب پیدا کرتا ہے۔

اگر “عَلِیًّا” سے مراد حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں، تو ان کے لیے “جَلَّ جَلَالُہٗ” کا استعمال نہ صرف ادبی ذوق کے خلاف ہے بلکہ عقائدی اور لسانی دونوں پہلوؤں سے محلِ اشکال ہے۔ اور اگر یہ تاویل اختیار کی جائے کہ یہاں “علی” سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفتِ علو ہے، تو پھر “نَادِ” کے مفعول کے طور پر “عَلِیًّا” (نکرہ) لانا فصاحت کے اصولوں کے منافی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے “العلیّ” بطورِ معرفہ استعمال ہوتا ہے، نہ کہ نکرہ صورت میں۔

ادبی اعتبار سے بھی یہ ترکیب سخت الجھن کا باعث بنتی ہے۔ اگر مقصود اللہ تعالیٰ کو پکارنا ہو تو عربی اسلوب کے مطابق “نَادِ العَلِیَّ” یا “یَا عَلِیُّ” کہا جائے گا۔ مفعولِ نکرہ کے ساتھ خالصتاً الوہی صفت کا اضافہ کلام کے تسلسل کو منقطع کرتا ہے اور اسے معنوی انتشار میں مبتلا کر دیتا ہے۔

اسی طرح عبارت میں آگے جملہ وارد ہے: “مُظْهَرَ الْعَجَائِبِ جَلَّ جَلَالُہٗ”۔ یہاں “مُظْهَر” نحوی طور پر مفعولِ ثانی یا صفتِ ثانی کے طور پر آیا ہے۔ مگر صرفی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ “مُظْهَر” دراصل اسمِ مفعول یا اسمِ ظرف کے وزن پر ہے، جس کا مفہوم بنتا ہے: “جسے ظاہر کیا گیا ہو” یا “جگہِ ظہور”۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ “مُظْهِر” ہے، یعنی ظاہر کرنے والا، نہ کہ وہ جسے ظاہر کیا جائے۔

اگر واقعی مراد “عجائبات کو ظاہر کرنے والا” ہے، تو عربی قاعدے کے مطابق درست تعبیر “مُظْهِرَ العجائب” ہونی چاہیے تھی، نہ کہ “مُظْهَرَ العجائب”۔ اس معمولی سی حرکت کی تبدیلی نے معنی کو اس قدر بدل دیا ہے کہ عبارت کا مفہوم الوہیت کے تقاضوں سے ہی متصادم ہو گیا ہے۔ اس کے بعد “جَلَّ جَلَالُہٗ” کا اضافہ اس امر کو مزید واضح کرتا ہے کہ مرتب کرنے والے نے اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے بنیادی فرق بھی نہیں جانتا ہے۔

مزید برآں، عبارت میں ایک مقام پر آتا ہے: “تَجِدْهُ عَوْنًا لَكَ”۔ نحوی اعتبار سے “تجد” کا مجزوم ہونا بطورِ جوابِ امر درست ہے، مگر یہاں ضمیر “ہُ” کی مرجعیت واضح نہیں۔ اگر مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، تو اس کے لیے “عون” کا لفظ استعمال کرنا بلاغت کے ادنیٰ درجے کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ اللہ “مستعان” ہے، وہ مدد کا منبع ہے، نہ کہ خود کسی کے لیے “مددگار” بطورِ وسیلہ۔

ایک اور مقام پر عبارت یوں ہے: “سَيَنْجَلِي يَا اللَّهُ يَا اللَّهُ”۔ “سینجلی” ایک فعل ہے جو کسی غم یا مشکل کے ٹلنے پر دلالت کرتا ہے۔ اس کے درمیان “یا اللہ” کی تکرار کلام کے فطری بہاؤ کو مجروح کرتی ہے۔ عربی ادب میں دعا اور استغاثہ کے اسلوب میں سجع، ترتیب اور معنوی ربط کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ یہاں جملوں کے درمیان بے محل اضافے ایک قسم کی پیوند کاری کا تاثر دیتے ہیں۔

یہ طرزِ بیان یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی مربوط کلام میں بعد ازاں مختلف جملے بے جوڑ انداز میں داخل کر دیے گئے ہوں۔ اس سے نہ صرف فصاحت مجروح ہوتی ہے بلکہ عبارت اپنی تاثیر بھی کھو دیتی ہے۔

اختتامی سطور میں عبارت اس طرح ہے: “يَا اللَّهُ بِنُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ ﷺ بِوِلَايَةِ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ”۔ یہاں “یا اللہ” کے بعد حرفِ جر “ب” کے ذریعے توسل کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے، جو اپنی جگہ ایک معروف طرز ہے، مگر اس کے بعد جملے کی ساخت بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ “بِوِلَايَةِ عَلِيٍّ” کے بعد پھر “یا علی” اور اس کے ساتھ “جَلَّ جَلَالُہٗ” کا اضافہ ایک واضح فکری اور لسانی تضاد پیدا کرتا ہے۔

ایک طرف حضرت علیؓ کی ولایت کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ کو پکارا جا رہا ہے، اور دوسری طرف انہی کے نام کے ساتھ ایسی صفت ملحق کی جا رہی ہے جو خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ اس قسم کا تضاد اہلِ بلاغت کے نزدیک کلام کی فصاحت کے منافی ہے، کیونکہ یہ سامع کو مغالطے میں مبتلا کرتا ہے۔

بطورِ مجموعی، یہ عبارت ایک ایسا چوں چوں کا مربہ پیش کرتی ہے جس میں مختلف فکری رجحانات کو یکجا کرنے کی کوشش تو کی گئی ہے، مگر اس کے لیے زبان کے مسلمہ اصولوں کو قربان کر دیا گیا ہے۔ اصل “نادِ علی” ایک مخصوص صوفیانہ پس منظر رکھتی ہے، جبکہ زیرِ بحث نسخے میں اسے ایک نئے رنگ میں پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے، جو نہ نحوی طور پر درست ہے اور نہ ادبی اعتبار سے قابلِ قبول۔ یہاں ایک حوالہ اہل تشیع کا بھی ذکر کر دیتے ہیں تاکہ بات بالکل واضح ہو جائے۔
اسی بے ترتیبی کو سمجھتے ہوئے بحار الانوار کے محشی نے ان اشعار کے تحت لکھا:
الجملة الأخيرة فيها غرابة ولا تلائم سابقها، والظاهر أنها من زيادة بعض الجهلة، أو الصوفية المضلة الذين يزعمون أن هذه الجملات تكون دعاء فيذكرونها وردا وذكرا، غفلة عن معناها، بل بعضهم يرون للمداومة على ذكرها فضيلة ليست للصلاة، حفظنا الله عن البدع واتباع الأهواء
(حاشیۃ بحار الانوار جلد 20 صفحہ 73)

عربی متن اور اس کے اردو مفہوم کے درمیان بھی واضح عدم مطابقت پائی جاتی ہے۔ متن ایک مفہوم کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ ترجمہ اسے دوسری سمت میں موڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ طرز نہ علمی دیانت کے مطابق ہے اور نہ ادبی معیار کے۔

 زیرِ نظر عبارت نحوی لحاظ سے ترکیبِ فاسد کی نمایاں مثال ہے۔ “جَلَّ جَلَالُہٗ” کا بے محل استعمال، “مُظْهَر” اور “مُظْهِر” کے درمیان خلط، اور جملوں کے اندر غیر مربوط اضافے اس کے لسانی ڈھانچے کو کمزور کر دیتے ہیں۔ ایسی عبارت نہ فصیح کہلانے کی مستحق ہے اور نہ ہی علمی حلقوں میں اسے کوئی وقعت حاصل ہو سکتی ہے۔

دعا اور وظیفے میں الفاظ کی صحت بنیادی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ معمولی لغزش بھی معنی کو خطرناک حد تک بدل سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے معاملات میں مستند لغات، قواعدِ صرف و نحو اور اہلِ علم کی طرف رجوع کیا جائے، نہ کہ ذوقِ طبع کی بنیاد پر الفاظ میں رد و بدل کر کے زبان اور مفہوم دونوں کو مجروح کیا جائے۔