*بکھرتے اور سنورتے رشتے*
زندگی ایک ایسا سفر ہے جس میں انسان تنہا نہیں چلتا، بلکہ رشتوں کے قافلے اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ کبھی یہی رشتے اس کی طاقت بن جاتے ہیں، اور کبھی یہی اس کی کمزوری کا سبب بن جاتے ہیں۔ کہیں محبت کے پھول کھلتے ہیں تو کہیں غلط فہمیوں کے کانٹے دلوں کو زخمی کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے اس سفر میں ہمیں بکھرتے اور سنورتے رشتوں کا مشاہدہ بار بار ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ رشتے کیوں بکھرتے ہیں اور کیسے سنورتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی ڈور کس کے ہاتھ میں ہوتی ہے؟
رشتے دراصل الفاظ سے زیادہ احساسات کا نام ہیں۔ یہ محض خونی تعلقات نہیں بلکہ دلوں کی وابستگی، اعتماد اور خلوص کا حسین امتزاج ہوتے ہیں۔ جب ان میں محبت، برداشت اور ایثار شامل ہو تو یہ رشتے مضبوط قلعے بن جاتے ہیں، لیکن جب انا، خود غرضی اور بے حسی در آتی ہے تو یہی قلعے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں جو ذرا سی ہوا سے بکھر جاتے ہیں۔
قرآنِ کریم نے رشتوں کی اہمیت کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ"
(النساء: 1)
ترجمہ: "اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتوں کو توڑنے سے بچو۔"
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رشتوں کو قائم رکھنا صرف سماجی ضرورت نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ بھی ہے۔ اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:
"إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ"
(النحل: 90)
ترجمہ: "بے شک اللہ انصاف، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے۔"
احادیثِ مبارکہ میں بھی صلہ رحمی کی بڑی تاکید آئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اس کی عمر میں برکت ہو، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔"
(بخاری و مسلم)
اور ایک سخت تنبیہ بھی فرمائی:
"رشتہ توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"
(مسلم)
یہ تعلیمات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ رشتوں کو سنوارنا ایمان کا حصہ ہے، جبکہ انہیں بکھرنے دینا روحانی نقصان کا سبب بنتا ہے۔
اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو بکھرتے ہوئے رشتوں کی سب سے بڑی وجہ "انا" نظر آتی ہے۔ ایک چھوٹی سی بات کو دل پر لے لینا، معاف نہ کرنا، اپنی بات کو حرفِ آخر سمجھنا یہ سب وہ عوامل ہیں جو محبت کو نفرت میں بدل دیتے ہیں۔ حالانکہ اگر اسی مقام پر تھوڑا سا جھک جایا جائے، ایک معافی مانگ لی جائے یا کسی کو معاف کر دیا جائے تو بکھرتا ہوا رشتہ سنور سکتا ہے۔
شوہر اور بیوی کا رشتہ اس کی واضح مثال ہے۔ قرآن اس تعلق کو یوں بیان کرتا ہے:
"هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ"
(البقرہ: 187)
ترجمہ: "وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔"
لباس انسان کو ڈھانپتا بھی ہے، اس کی زینت بھی ہوتا ہے اور اسے تحفظ بھی دیتا ہے۔ اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے سکون اور سہارا ہوتے ہیں۔ مگر جب اس رشتے میں برداشت کی جگہ ضد لے لے اور محبت کی جگہ شک آ جائے تو یہی رشتہ بکھرنے لگتا ہے۔ اور اگر دونوں فریق صبر، درگزر اور سمجھداری کا مظاہرہ کریں تو یہی رشتہ دوبارہ سنور بھی جاتا ہے۔ شک اس رشتے کو دیمک کی طرح چاٹ لیتی ہے، جبکہ اعتماد اس رشتے کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
والدین اور اولاد کا رشتہ بھی اکثر بکھرنے اور سنورنے کے مراحل سے گزرتا ہے۔ قرآن ہمیں حکم دیتا ہے:
"وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا"
(البقرہ: 83)
ترجمہ: "اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔"
آج کے دور میں مصروفیات اور ترجیحات نے اس رشتے میں فاصلے پیدا کر دیے ہیں۔
والدین جو اپنی پوری زندگی اولاد پر وقف کردیتے ہیں ، یہی بچے جوان ہونے کے بعد اپنے اپنے گھونسلے آباد کرنے اڑ جاتے ہیں، آج کے اس مصروف دور میں ایک لمحے کی توجہ، ایک محبت بھرا جملہ اور ایک چھوٹی سی خدمت اس رشتے کو دوبارہ زندگی دے سکتی ہے۔
بہن بھائیوں کا رشتہ تو خاص طور پر بکھرنے اور سنورنے کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ بچپن میں معمولی باتوں پر جھگڑے ہوتے ہیں، ناراضگیاں بھی ہوتی ہیں، مگر دلوں میں محبت برقرار رہتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اگر اس رشتے کو نظر انداز کر دیا جائے تو فاصلے بڑھ جاتے ہیں، شادیوں کے بعد یہی بہن بھائی میں کبھی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی دوری کا باعث بن جاتی ہیں ،لیکن اگر اسے توجہ دی جائے، رابطہ برقرار رکھا جائے اور دل میں کینہ نہ رکھا جائے تو یہی رشتہ بڑھاپے تک مضبوط سہارا بن جاتا ہے۔
قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا اس رشتے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے:
"وَاجْعَل لِّي وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِي، هَارُونَ أَخِي"
(طٰہٰ: 29-30)
ترجمہ: "اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک مددگار بنا دے، ہارون جو میرا بھائی ہے۔"
یہ دعا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھائی کا ساتھ انسان کے لیے طاقت اور سہارا بن سکتا ہے۔ اسی طرح بہن کا وجود بھی گھر میں محبت، شفقت اور اپنائیت کا ایک حسین رنگ بھرتا ہے۔ ماں کی غیر موجودگی میں کبھی کبھی وہ ماں کا کردار بھی نبھا جاتی ہے، لہذا اگر بہن بھائیوں کے درمیان محبت، احترام اور درگزر ہو تو یہ رشتہ زندگی کا سب سے مضبوط سہارا بن جاتا ہے، لیکن اگر انا اور دوری حاوی ہو جائے تو یہی رشتہ اجنبیت میں بدلنے لگتا ہے۔
دوستی کا رشتہ بھی اسی اصول پر قائم ہے۔ یہ خلوص مانگتا ہے، وفاداری چاہتا ہے اور وقت کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر اس میں مفاد شامل ہو جائے تو یہ بکھر جاتا ہے، اور اگر اخلاص برقرار رہے تو یہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ رشتے نہ تو خود بخود بکھرتے ہیں اور نہ ہی خود بخود سنورتے ہیں۔ ان کے پیچھے انسان کے رویے، اس کی نیت اور اس کا کردار کارفرما ہوتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور حقیقت بھی ہے کہ ہر چیز مکمل طور پر انسان کے اختیار میں نہیں۔ بعض اوقات ہم پوری کوشش کے باوجود رشتے کو نہیں بچا پاتے۔ ایسے میں ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ رشتوں کی ڈور کا ایک سرا ہمارے ہاتھ میں ہے اور دوسرا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے حصے کا کردار بہترین انداز میں ادا کریں۔ ہم معاف کرنا سیکھیں، درگزر کریں، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں اور ہر اس موقع کو ضائع نہ کریں جہاں رشتہ سنور سکتا ہو۔ باقی معاملات کو اللہ کے سپرد کر دیں، کیونکہ وہی دلوں کو جوڑنے والا ہے۔
آخرکار یہی کہا جا سکتا ہے کہ بکھرتے اور سنورتے رشتے دراصل زندگی کی ایک حقیقت ہیں۔ یہ ہمیں صبر سکھاتے ہیں، برداشت کا درس دیتے ہیں اور محبت کی اصل قدر سمجھاتے ہیں۔ اگر ہم ان رشتوں کو اللہ کی رضا کے لیے نبھائیں تو یہ نہ صرف دنیا میں سکون کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کا وسیلہ بن جاتے ہیں۔
رشتوں کی قدر کیجیے، انہیں سنبھالیے، کیونکہ یہی وہ قیمتی خزانہ ہیں جو انسان کو تنہائی سے نکال کر محبت، سکون اور اطمینان کی روشنی میں لے آتے ہیں۔