بنت محمد رافع 🖋️

بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا کلچر دراصل مغربی تہذیب کی ایک پیداوار ہے، جو آہستہ آہستہ ہمارے مسلم معاشرے میں بھی سرایت کرتا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا فتنہ ہے جس نے ہمارے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے نوجوان، خاص طور پر ہماری بہنیں، اس میں تیزی سے مبتلا ہوتی جا رہی ہیں۔
یہ محض ایک “دوستی” نہیں بلکہ ایک ایسا راستہ ہے جو انسان کو گناہوں کی طرف لے جاتا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ اسی نام نہاد محبت کے چکر میں لوگ اپنے دین سے دور ہو رہے ہیں، بلکہ بعض اوقات اپنا مذہب تک چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ کتنی بڑی محرومی ہے کہ چند دنوں کی وقتی دل لگی کے لیے انسان اپنے رب، اپنے دین اور اپنے ماں باپ کی عزت کو بھلا بیٹھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جسے آج کل محبت کہا جا رہا ہے، وہ دراصل محبت نہیں، بلکہ ایک دھوکہ اور فریب ہے۔ سچی اور پاکیزہ محبت تو وہ ہے جو نکاح کے بعد قائم ہوتی ہے، جس میں عزت، ذمہ داری اور اللہ کی رضا شامل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، غیر محرم سے تعلقات صرف دل کو بہلانے کا ذریعہ ہوتے ہیں، جن کا انجام اکثر تباہی، رسوائی اور پچھتاوے کی صورت میں نکلتا ہے۔
ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیوں ہم اجنبی لوگوں پر بھروسہ کر کے اپنے دین اور اپنے والدین کی عزت کو داؤ پر لگا دیتے ہیں؟ کیوں ہم وقتی جذبات کے ہاتھوں اپنے مستقبل کو برباد کر دیتے ہیں؟ یاد رکھیں، بہت سے لوگ ایسے مواقع کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ کب کسی کو اپنے جال میں پھنسائیں اور پھر اسے تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیں۔ یہ سب شیطانی کھیل ہیں، جن کا مقصد انسان کو گمراہ کرنا ہے۔
ہمارے لیے بہترین نمونہ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد ﷺ کی مبارک زندگی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی تعلیمات کو اپنائیں اور ان برائیوں سے خود کو بچائیں۔ یہ راستہ جھوٹ، فریب، گناہ اور زنا کی طرف لے جاتا ہے، اور آخرکار انسان کو اللہ سے دور کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے، اپنے دین کی حفاظت کرنے کی توفیق دے، اور ہمیں ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین