تاج الشریعہ اختر رضا خان کی نثری خدمات
16 اپریل، 2026
آٹھواں عرسِ تاج الشریعہ
حضور تاج الشریعہ اختر رضا خانؒ کی نثری خدمات: ایک تنقیدی مطالعہ
تیز تلوار سے جس کی تحریر ہے
اور بجلی کی مانند تقریر ہے
دشمن ِ دین جس سے پریشان ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے
حضور تاج الشریعہ، علامہ اختر رضا خان ازہری قادری فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نہ صرف ایک قادرالکلام شاعر تھے بلکہ نثر نگاری میں بھی یگانہ روزگار حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی نثری خدمات کا دائرہ وسیع ہے جس میں مذہبی مسائل اور فتاویٰ کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ اگرچہ فنی اور علمی موضوعات میں مخصوص اصطلاحات اور گہری زبان کا استعمال ناگزیر ہوتا ہے، مگر حضرت کی تحریروں میں ایسا ادیبانہ رنگ اور سلیس اسلوب پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل کو آسانی سے متاثر کرتا ہے۔ ان کے طرزِ تحریر میں روانی، سلاست، استدلال کی پختگی اور اسلوب کی چاشنی بدرجہ اتم موجود ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حضرت کی دینی اور فکری تحریریں نہ صرف علمی ہوتی ہیں بلکہ حسنِ انشا سے بھی آراستہ ہوتی ہیں۔ بالخصوص جب وہ باطل افکار، گمراہ فرقوں اور بد مذہبوں کے خلاف قلم اٹھاتے ہیں، تو ان کی نثر میں ایک جلالی شان اور استدلالی قوت جھلکتی ہے۔ ہر موضوع کے مطابق وہ ایسا موزوں اسلوب اختیار کرتے ہیں کہ تحریر میں فکری وسعت کے ساتھ ساتھ نثری حسن کے جلوے بھی نظر آتے ہیں۔
مثال کے طور پر قرآنِ کریم کی تلاوت کے وقت سامعین کے انصات (خاموشی) کے وجوب کو وہ نہایت سادہ مگر عالمانہ انداز میں یوں بیان فرماتے ہیں:”قرآن سننے کی کوشش کرو، کیونکہ سعیِ سماعت، قصدِ سماع کا نام ہے، اور قصد و ارادہ، فعل سے مقدم ہوتا ہے۔ پس ضروری ہوا کہ قرآن جب تلاوت کے قریب ہو، سامعین کو پہلے ہی سے سننے کے لیے مستعد رہنے کا حکم دیا گیا۔ اسی لیے انصات (خاموشی) بلکہ ہر اُس چیز سے بچنا جو سماعت میں خلل ڈالے، واجب ہے۔ چنانچہ جب قاری تلاوت کے لیے آمادہ ہو، تو سامع پر انصات فرض ہو جاتا ہے۔'' اگرچہ اس اقتباس میں عربی تراکیب اور فارسی آمیختہ الفاظ موجود ہیں، پھر بھی جملوں کا ربط، استدلال کی روانی اور نتیجہ کا حصول نہایت سہل اور دلنشین انداز میں سامنے آتا ہے۔
حضرت تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی تحریروں میں جہاں فکری گہرائی اور علمی پختگی جلوہ گر ہے، وہیں منظر نگاری اور حکایت نگاری کے حسن سے بھی ان کی نثر مالا مال ہے۔ وہ محض عالمِ دین نہیں بلکہ ایک صاحبِ اسلوب ادیب بھی تھے، جو سادہ زبان میں گہری بات کہنے کا ہنر رکھتے تھے۔ ان کی کتاب ہجرتِ رسول میں ہجرتِ مصطفیٰ ﷺ کی جو تصویر انہوں نے لفظوں میں کھینچی ہے، وہ گویا آنکھوں کے سامنے ایک پورا منظرنامہ ترتیب دیتی ہے۔ آپ لکھتے ہیں: ”مشرکین نے رات اس طرح گذاری کہ حضور اکرم ﷺ کے بسترِ اقدس پر سوئے ہوئے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نگہبانی کرتے رہے۔ وہ یہی گمان کرتے رہے کہ وہی محمد ﷺ ہیں۔ اس دوران ایک نوجوان قریب آ کر بولا: تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ مشرکین نے کہا: محمد (ﷺ) کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں مایوس کیا۔ خدا کی قسم! وہ تو تمہارے سامنے سے جا چکے ہیں اور جاتے وقت تم میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑا جس کے سر پر خاک نہ ڈالی ہو۔“ یہ مختصر منظر اس قدر تاثیر رکھتا ہے کہ پڑھنے والا لمحہ بھر کو خود کو اُس تاریخی شب کے سائے میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ سادہ زبان، پر اثر بیان، اور واقعے کی دلنشین منظر کشی حضرت کے نثری کمال کا بین ثبوت ہے۔
اسی طرح حضرت تاج الشریعہؒ نے نیت کی اہمیت اور اس کے اثرات کو بیان کرنے کے لیے ایک حکایت کا سہارا لیا ہے، جو نہ صرف فصاحت و بلاغت کا مظہر ہے بلکہ سبق آموز بھی ہے۔ آپ رقم طراز ہیں: ”نوشیروان ایک بار شکار کے دوران اپنے رفقا سے بچھڑ گیا اور ایک باغ میں جا پہنچا۔ وہاں ایک بچے سے انار مانگا، بچے نے انار دیا، جس سے نوشیروان نے خوب رس حاصل کیا اور سیرابی محسوس کی۔ باغ اسے بھا گیا، دل میں اس کے مالک سے باغ چھیننے کا خیال آیا۔ جب دوبارہ انار مانگا تو وہ خشک اور بے رس نکلا۔ اس نے حیرت سے بچے سے سبب پوچھا تو بچے نے کہا: شاید بادشاہ نے ظلم کا ارادہ کر لیا ہے۔ یہ سن کر نوشیروان نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ تیسری بار انار مانگا تو وہ پہلے سے بھی زیادہ رسیلا تھا۔ بچے نے کہا: شاید بادشاہ نے ظلم سے توبہ کر لی ہے۔“ یہ حکایت حضرت کی قوتِ استدلال، فنی چابک دستی اور ادیبانہ نزاکت کا دلنشین مظہر ہے۔ نیت کے اثرات اور عمل کے نتائج کو اس قدر سادہ، پراثر اور سبق آموز انداز میں بیان کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
حضرت تاج الشریعہؒ کی یہ تحریریں محض علمی و دینی نکات کی وضاحت نہیں بلکہ زبان و بیان کے میدان میں ان کے بلند ذوق اور فنکارانہ مہارت کی شاہکار مثالیں ہیں۔ حضرت تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی تحریروں کا ایک اور دلکش پہلو ان کا فنی اسلوب ہے جس میں نیت کی اہمیت اور اس کے اثرات کو نہ صرف علمی بلکہ حکایتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ آپ نے نیت کے اثرات پر جو تبصرہ کیا، وہ نہایت فکر انگیز اور اثر پذیر ہے۔ حضرت نے اس حقیقت کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ نیت کے اچھے یا برے اثرات زندگی میں بہر حال ظاہر ہوتے ہیں۔ حضرت لکھتے ہیں:”معلوم ہوا کہ نیت کے اثرات بہر حال مرتب ہوتے ہیں۔ اگر نیت اچھی ہو تو اس کے اچھے اثرات ظاہر ہوتے ہیں اور اگر نیت بُری ہو تو اس کے برے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ دیکھو! نوشیروان کے ساتھ حسنِ نیت کا یہ فائدہ ہوا اور جب مجرمانہ نیت کا یہ حال ہے تو نیت کے ساتھ عمل کرنے پر اس کے اثرات ضرور سامنے آئیں گے۔ اچھے عمل کے نتائج اچھے ہوں گے اور بری نیت سے عمل کے نتائج برے ہوں گے۔“
حضرت تاج الشریعہؒ کا یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نیت ہی انسان کے عمل کا رُخ متعین کرتی ہے۔ اگر نیت صالح ہو تو انسان کا ہر عمل نیک اور اچھا ہوتا ہے، جبکہ اگر نیت فاسد ہو تو وہی عمل بُرا اور منفی اثرات چھوڑتا ہے۔ حضرت نے یہاں صرف نیت کی اہمیت کو ہی اجاگر نہیں کیا بلکہ اس حکایت کے ذریعے یہ بھی بتا دیا کہ نیک نیت کی مانند طاعتِ الٰہی کا بھی عالمی اثر ہوتا ہے، اور اس کا ظاہر ہونا بے شمار طریقوں سے ہو سکتا ہے۔ آپ کا یہ اقتباس نہ صرف فنی لحاظ سے شاندار ہے بلکہ فکری طور پر بھی بہت گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
اسی طرح حضرت تاج الشریعہؒ کی تحریروں میں نثر کے ساتھ ساتھ شعری اسلوب کا بھی خوبصورت امتزاج نظر آتا ہے۔ وہ اکثر نثر میں جو باتیں بیان کرتے ہیں، ان کا خلاصہ ایک شعر میں بھی کرتے ہیں یا نثر کی ابتدائی باتوں کو شعری مصرعے سے آغاز کرتے ہیں، جس سے تحریر میں نیا رنگ اور ایک فنی بلوغت آ جاتی ہے۔ حضرت کی تحریروں میں یہ اسلوب ایک نمایاں پہچان بن چکا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:”حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی روح، تمام روحوں کی آنکھ کی پتلی اور ان کی اصل اور ان کے وجود کی بنیاد اور اللہ کی پہلی مخلوق ہے، نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی روح ہیں جو وجود میں وضع کی گئی ہے جس سے اس کی بقا ہے۔ اگر حضور نہ ہوں تو عالم فنا ہو جائے۔“ یہ بیان درحقیقت ایک گہری حقیقت کو اجاگر کرتا ہے، جسے حضرت نے ایک شعر کے ذریعے مزید جِلا بخشی ہے:
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھاوہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے
حضرت تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی تحریروں میں نثر اور شعر کا یہ حسین امتزاج ان کے ادبی کمالات کو مزید اجاگر کرتا ہے اور ان کی تحریروں میں ایک خاص تاثیر پیدا کرتا ہے۔ ان کی نثر میں جو انداز اور اسلوب نظر آتا ہے، وہ نہ صرف علمی سطح پر اثر انداز ہے بلکہ اس میں شعری و نثری اسلوب کا حسین امتزاج بھی پایا جاتا ہے۔ آپ کی تحریریں جہاں علمی دلائل سے بھرپور ہوتی ہیں، وہیں ان میں گہری حکمت اور فنی کمالات کا بھی لحاظ رکھا جاتا ہے۔ آپ کا ایک خاص اسلوب یہ ہے کہ جب آپ کسی معترض کی دلیل کا رد کرتے ہیں تو وہ اس رد کو نہ صرف منطقی دلائل سے کرتے ہیں بلکہ شعری مصرعے یا اشعار کے ذریعے اپنے نقطہ نظر کو مزید جِلا دیتے ہیں۔ مثلاً جب آپ معترضین کے رد میں لکھتے ہیں:”معترض بہادر صاحب! اب تو کھل گیا کہ آپ نے یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ الفاظ کا ترجمہ بھی نہیں ہوسکتا وہ وجوہ قرآن میں سے ایک وجہ ہے جسے ایسے جلیل القدر علما نے افادہ فرمایا ہے، معترض بہادر صاحب اب کہئے یہ اعتراض تو امام احمد رضا پر نہیں، علما پر نہیں بلکہ خود قرآن پر ہو گیا اور آپ کی قرآن فہمی اور پیروی سلف کا بھرم کھل گیا۔ مگر یہ کہ: بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔“ یہاں پر آپ نے معترض کی دلیل کو دلائل سے رد کیا ہے اور اس رد کے اختتام میں ایک شعری مصرعے کا استعمال کیا ہے جو نہ صرف اس بات کو سلیقے سے اختتام تک پہنچاتا ہے، بلکہ معترضین کی غلط فہمیوں اور استدلالات کو مزید بے نقاب کرتا ہے۔
اسی طرح جب آپ سرکار خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور ان کی خدمات پر بات کرتے ہیں، تو آپ نے ایک تاریخی حقیقت کو بیان کیا ہے اور اس پر شعری اسلوب کا بھی استعمال کیا ہے:
ہند کے بادشاہ دین کے وہ معین
خواجہ دین وملت پہ لاکھوں سلام
یہ مصرعہ حضرت خواجہ غریب نواز کی عظمت کو اجاگر کرنے کا ایک خوبصورت انداز ہے، جو نثر اور شعر کا خوبصورت امتزاج ہے۔
آپ کا ''ٹائی'' کے مسئلے پر جو رد عمل ہے، وہ بھی ایک واضح مثال ہے کہ آپ کسی بھی مسئلے پر اپنا مؤقف بڑے دلائل اور یقین کے ساتھ رکھتے ہیں۔ آپ نے اس بات کو واضح کیا کہ ٹائی جیسا لباس عیسائیوں کا مذہبی شعار ہے اور مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہیے۔ اس ضمن میں آپ نے قرآن و سنت سے دلائل دیے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ شعری مصرعے کا استعمال کرتے ہوئے اس مسئلے کو مزید اجاگر کیا۔ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:(وإن یخذلکم فمن ذا الذی ینصرکم من بعدہ)ترجمہ: ”اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے (پارہ 4، سورہ آل عمران، آیت: 160)۔
آپ کی یہ تحریریں اور اسلوب نہ صرف فکری طور پر لوگوں کو جازب کرتے ہیں بلکہ ایک خاص ادبی اور علمی لحاظ سے آپ کی حیثیت کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔ آپ نے اپنی تحریروں میں جو علمی سطح، شعری و نثری امتزاج اور دلائل کی فراوانی فراہم کی ہے، وہ اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ حضرت تاج الشریعہؒ کی شخصیت اور آپ کے علمی مقام کو جاننے والوں کے لیے یہ تحریریں ہمیشہ رہنمائی کا ذریعہ بنیں گی۔
تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی اسٹوڈنٹ : دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی