کامیاب کون؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      ✍🏻گل رضاراہی ارریاوی 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

        اس دنیا میں ہر کوئی کامیاب ہونا چاہتاہے ، اس کا تعلق جس شعبے اور مذہب و مسلک سے ہو سب کامیابی کے میدان اپنا لوہا منوانا چاہتاہےاور اسی حساب سے سب نے کامیابی کا معیار طے کیا ہوا ہے ،تاجر کی کامیابی کامعیار الگ ہے، مزدور و ملازم کے کامیابی الگ ہے، حکام و زاراء کی کامیابی کا معیار الگ 
اسی طریقے سے تعلیم وتعلم جڑے لوگوں کی کامیابی کا معیار الگ ہے -

    مثلا تاجر کی کامیابی یہ ہے کہ اس کی تجارت روز بروز ترقی کرے حتی کہ سب سے بڑا تاجر بن جاۓ ،حکام وزراء کی کامیابی یہ ہے کہ اس کی سلطنت اور فتوحات و ظفریابی کا سلسلہ طول پکڑتا رہے ہیں ،ملازم ومزدور کی کامیابی یہ ہے اس کے کار حسن کی وجہ سے اس تنخواہ میں اضافہ ہوجاۓ اور مالک و ناظم کے نظر میں اس کی شبیہ اچھی ہوجاۓ،استاذ کی کامیابی یہ ہے اس کا شاگرد باصلاحیت ہوکر نسل نو کی آبیاری کرنے لگے -

     لیکن ؛سوال یہ ہے کہ کیا یہی اصل کامیابی ہے ؟جس کی وجہ سے ایک انسان حقیقی معنی میں کامیاب ہوجاۓ تو جواب ہے نہیں بلکہ ہر انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی خلقت میں غور وفکرکے ذریعے حقیقی خالق تک پہونچ کر اس کا مطیع فرماں بردار بن جاۓ،اسی کوعربی میں "من عرف نفسہ عرف ربہ " کہتے ہیں ،جو ایک معنی خیز جملہ ہے-

     دنیا میں پاۓ جانے والے انسانوں میں اکثر تعداد وجود خدا کا قائل ہے اور یہی فطرت ہے کہ انسان کسی نہ کسی کو بڑا سمجھتا ہے جس کے آگے جبین نیاز خم کرنا چاہتا ہے ،جس کا مشاہدہ ہر انسان کرتاہے ،کیوں کہ قدرت نے انسان کی خمیر میں عاجزی اور جھکاؤ رکھا ہے، تو اسی وجہ سے اکثر تعداد وجود باری کا قائل ہے اور عقل بھی اسی کا متقاضی ہے کہ جب دنیا کے ہرچیز کا کوئی صانع ہے اس عالم کا بھی کوئی صانع ہولہذا جو وجود خدا کو نہیں مانتا وہ دراصل فطرت سے بغاوت کرتاہے،دنیا کی تہذیب وثقافت کا باغی ہے (اب اگر کوئی ایسے انسان کی عمل کی تائید محض خاص مذہب دشمنی میں کرتاہے تو انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ کہاں اور کس کے ساتھ کھڑا ہے )اس کے عقل میں فتور ہے لہذا ملحدین اسی کے ضمن میں آتے ہیں ،ایسے لوگوں کے نفس میں شرارت ہے اور اپنے خواہش پر چلنے والے لوگ ہیں ،ملحدین کو یکطرف رکھتے ہیں چونکہ وہ موضوع بحث نہیں -

      جو وجود خدا کےقائل ہیں اس کے مابین تعیین خدا میں اختلاف ہے،کسی نے آتش کوخدا تصور کیا اور اس کے آگے جھک گئے ہیں کیوں کہ
اس میں جلانے کی قوت ہو جو بہت مضبوط قوت ہے ،کسی نے ستاروں کو خدا تصور کیا اور اس کے آگے سرنگوں ہوۓ، کسی نے پتھروں اور بتوں کے ذریعے خدا کا تصور کیا پھر نتیجہ یہیں پہ آیا کہ پتھر ہی کو خدا بنا لیا یہ مشرک جماعت ہے اسے کافر کہنے کی وجہ ہمارے عقائد کا انکار ہے ،بعض مرتکب لوگ اسے گالی سمجھتے ہیں یہ مناسب نہیں -

      خدا کے وجود کو تسلیم کرنے والوں میں مذہب اسلام کے علاوہ سب کی بنیاد بطلان پر ہے اس وجہ سے وہ باطل ہے ،بایں طور کہ خدا کے لیے شبیہ تیار کرنا مورت بنانا،اقانیم ثلاثہ کا قائل ہونا،آگ جوکہ محدود ہےلامحدود ذات پر منطبق کرنا یہ ناانصافی ہے کیوں کہ یہ سب حادث و فانی ہے اور جو ذات فانی ہو خدا نہیں ہوسکتا ،اسی طرح جو دنیا میں سماجاۓ وہ محدود ہے اور جو ذات محدود ہوجاۓ وہ لامحدود نہیں ہوسکتا جب کہ خدا کی ذات لامحدود ہےاگر دونوں مانیں گے تو اجتماع ضدین ہوگا اور یہ باطل ہے اگر دونوں نہ مانیں تو یہ ارتفاع ضدین ہوگا یہ بھی باطل ہے تو لا محالہ یہ ماننا پڑے گا کہ خدا کی ذات لامحدود ہے ورنہ خدا کی ذات کو کسی زمان و مکان میں قید کرنا لازم آۓ گا اور لازم باطل ہے لہذا خدا کو کسی زمان ومکان میں قید کرنا باطل ہے،جب یہ تمام مذھب باطل ہے تو اس کی تعلیمات بھی باطل ہوگی،بھلے ہی وہ اچھے کیوں نہ ہو ،کیونکہ جب اصول باطل ہوں تو فروع کے بطلان پر کسی طرح کا تردد نہیں ہوسکتا -

    ایک طبقہ وہ ہے جو صرف ایک خدا کو مانتا ہے اور وہ اس کےلیے کسی مادہ اور شکل وشباہت کو نہیں مانتا بلکہ ہر ایسے ذات وصفات کو اس کےلیے ثابت کرتاہے جو حوادثات و تغیرات سے پاک و منزہ ہےتو وہ ذات ہمشیہ باقی رہے گی اور جو ذات ہمیشہ باقی رہے وہی حق ہے ،لہذا اس کی تعلیمات بھی حق ہوگی کیوں کہ جس کے اصول صحیح ہوں تو اس کے فروعات بھی درست مانیں جائیں گے-

      اب تک کی باتوں سے یہ واضح ہوگیا کہ کامیابی مذاہب میں مخفی ہے پھر چونکہ مذاہب میں بھی بہت سی بلکہ اکثر باطل باتیں داخل ہوگئی تو حقیقی کامیابی مذہب اسلام کی طرف منتقل ہوگئی ہے -

     مذہب اسلام کے ماننے والے کامیاب ہیں کیونکہ دین اسلام ہی مذہب برحق ہے اس کی واضح دلیل مسلمانوں کے لیے قرآن کریم کی آیت" ان الدین عند اللہ الاسلام" ،" ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ " جوقرآن کو نہیں مانتے وہ قبل اسلام اور بعد اسلام کی تاریخ منصفانہ جائزہ لے لیں ،اس کے خلاف سازش رچنے والوں کا بھی جائزہ انہیں حق وباطل کا پتا چل جائے گا اور قائل ہوجاۓ گاکہ اسلام ہی برحق ہے،۔
ذہنی فکری اور جسمانی یورش ویلغاری کے باوجود اس کے پھیلنے میں کمی نہیں آئی -

      لیکن؛ چونکہ مذہب اسلام کے خلاف سازشیں ہوتی رہی ہے اور اس میں عقائد باطلہ شامل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہےجس کی وجہ سے اس کے بہت سے فرقہ بن گیے چونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےکامیابی کاایک معیار بتادیا "ماأنا علیہ واصحابی" تو اب حق پرست جماعت کی شناسائی آسان ہوگئی جو اس معیار پر ہوگا وہی حق ہے اور کامیاب بھی ،اور جو اس سے ہٹا ہوا ہے وہ ناکام ہے کیونکہ اسی کی بنیاد پر بندوں کے اعمال کی قبولیت و عدم قبولیت کا مدار ہے -

      جو لوگ آج مذہب اسلام کے خلاف زہر افشانی کررہے ہیں ،اس کی تعلیمات کو غلط بتارہے ہیں اور اس میں تبدیلی کے خواہاں ہیں 
انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مذہب کے قوانین بطورِ خاص اسلام کے کوئی کھلونا نہیں جسے بدل دیا جاۓ وہ اپنی شکل میں ہی رہے گا
جہاں تک اس پر اشکالات کا تعلق ہے تو آپ اپنے اشکالات کو انسانیت کے ساتھ کسی اچھے عالم دین کے پاس لے جائیں جو اس کا تسلی بخش جواب دے سکیں ،ورنہ اپنی مفاد کی خاطر اس کو بدنام کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے ،جیساکہ آج کچھ لوگ کررہے ہیں ،یہ دراصل نری جہالت ہے اس کے اصول وضوابط ناواقفیت کی صریح دلیل ہے-

     اگر انسان باشعور اور فطرت اچھی ہو تو انہیں اسلام میں کوئی اشکال نہیں ہوگا کیوں کہ اسلام اور اس کے تعلیمات میں کوئی تعارض وخرابی نہیں بلکہ یہ خود انسانی کج فہمی ،کور علمی ، اسلام دشمنی کا نتیجہ ہے

اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے آمین