پلیٹ فارم کی کامیابی: بھیڑ نہیں، بصیرت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (97)
کسی بھی پلیٹ فارم، تنظیم یا تحریک کی کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ اس کے گرد متحرک اراکین کی ایک بھیڑ اکٹھی ہو جائے، آدمیوں کا ایسا ہجوم بن جائے کہ پہچان ہی مٹ جائے کہ اس میں انسان بھی ہیں یا محض اعداد و شمار۔ اصل کامیابی نہ تعداد میں ہے، نہ شور میں، نہ نعروں میں — بلکہ اس بات میں ہے کہ کتنے لوگ مقصد کو سمجھ کر، عجز و اخلاص کے ساتھ، شعور و بصیرت کے تحت منظم ہو رہے ہیں۔ یا منظم کیئے جارہے ہیں. ہر منظم تنظیم اور ہر پلیٹ فارم کی حقیقی کامیابی اس کے رکن ساز افراد کے اخلاص، دیانت اور فکری ہم آہنگی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ چاہے ایسے افراد تعداد میں کم ہوں، مگر اگر وہ مقصدِ پلیٹ فارم کے تحت باوقار شخصیت اور مؤثر صلاحیت کے مالک ہوں تو وہی پلیٹ فارم کامیاب کہلانے کا حق دار ہوتا ہے۔ ایسے ہی افراد کے ذریعے پلیٹ فارم کے ہر پہلو کی ترویج و اشاعت ہوتی ہے، عوام و خواص میں وقار پیدا ہوتا ہے، اور اگر وہ دینی ہو تو اللہ کی رضا کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ تب جا کر کسی پلیٹ فارم کو ایک مثالی زندگی نصیب ہوتی ہے۔
اس کے برعکس، اگر کوئی پلیٹ فارم یا موبائل ایپ محض متحرک اراکین کی بھیڑ اکٹھی کرنے کو ہی کامیابی کا معیار سمجھ لے، تو سمجھ لیجیے کہ کہیں نہ کہیں ہم استعمال ہو رہے ہیں، اور ہماری وابستگی کسی مقصد کے بجائے کسی اور کے مفاد کا ذریعہ بن رہی ہے۔ کہیں نہ کہیں ہمیں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہمیں فعال کر کے دراصل کوئی اور اپنی دکان چمکانے کی کوشش میں ہے۔ کیونکہ جو پلیٹ فارم بھیڑ اکٹھی کرے گا، وہاں ہر طرح کے لوگ جمع ہو جائیں گے — اہل بھی، نااہل بھی، مخلص بھی، مفاد پرست بھی — اور اپنی اپنی ناہموار سوچ کے ساتھ ہر طرح کا امر و شیء خلط ملط کر دیں گے۔ ایسے ماحول میں اگر چند مخلص افراد موجود بھی ہوں تو ان کی نگاہ ہر طرف بکھری رہے گی؛ وہ کیا کیا چھان بین کریں گے؟ وہ کہاں تک دین کی خاطر اخلاص برقرار رکھ سکیں گے، اور کہاں تک دنیا کی نگاہ میں باوقار رہنے کی جدوجہد کرتے رہیں گے؟ جب نظم کا معیار کمزور ہو اور اصول کی جگہ تعداد کو فوقیت دی جائے تو پھر اخلاص بھی تھک جاتا ہے، اور ضمیر بھی دفاعی پوزیشن میں آ جاتا ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ ضمیر فروش اور بے غیرت لوگ، مخلص لوگوں کے ہی سہارے اپنی دکان چمکاتے ہیں۔ پہلے استعمال کرتے ہیں، پھر بدنام کرتے ہیں، پھر لوگوں کو سرِ بازار متنفر زندگی دے کر بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کوئی سادہ لباس کو بدنام کرتا ہے، کوئی دین کے نام کو، اور کوئی پورے طبقے کو ایک ہی رنگ میں رنگ دیتا ہے۔ اگر دشمن کی نظر لگ جائے تو اسے اسلام کو بدنام کرنے کا بہترین حیلہ مل جاتا ہے، اور ہم خود اپنے ہاتھوں سے اس کے لیے میدان ہموار کر دیتے ہیں۔ اس لیے صرف سادگی کافی نہیں، بلکہ نزاکت درکار ہے؛ محض جذبہ نہیں، بلکہ بصیرت ضروری ہے؛ اور صرف شمولیت نہیں، بلکہ شعوری وابستگی لازم ہے۔ دنیا کے حربوں کو سمجھنا اور پرکھنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم کسی خیر کے نام پر کسی اور کے مفاد کا ایندھن بن جائیں۔
سو ہر پلیٹ فارم سے جڑتے وقت یہ سوال ضرور ہونا چاہیے: ہم مقصد کے ساتھی ہیں، یا کسی کی تشہیری مہم کا خام مال؟ کیونکہ کامیاب پلیٹ فارم وہ نہیں جو ہجوم پیدا کرے، بلکہ وہ ہے جو انسان پیدا کرے . باخبر، باکردار اور باوقار انسان۔آئیں! ہم خود اپنے آپ سے یہ سوال کریں: کہیں ہمیں بھیڑ کا حصہ بنا کر کوئی ہمیں استعمال تو نہیں کر رہا؟ ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ ہم بھیڑ کا حصہ بننے کے بجائے شعور کا عَلَم اٹھائیں، تعداد نہیں بلکہ معیار کا انتخاب کریں، اور ہر وابستگی کو اخلاص، بصیرت اور ذمہ داری کے ساتھ جوڑیں۔ کیونکہ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم صرف شامل نہ ہوں — بلکہ سنبھل کر، سمجھ کر، اور مقصد کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوں… تاکہ ہم خود بھی کامیاب ہوں اور جس پلیٹ فارم سے وابستہ ہوں، اسے بھی حقیقی کامیابی سے ہمکنار کر سکیں۔ شعر
بصیرتوں کا چراغ اپنے اندر جلائیے
ہجومِ وقت سے خود کو ذرا بچائیے
وہی ہے سرخرو جو سوچ کا امین رہا
نہ ہر صدا پہ چلا ، خود کو ذرا آزمایئے
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com