شـــــادی: ہجرتِ حیات اور توازنِ رشتہ
09 اپریل، 2026
شـــــــــــادی محض ایک تقریب کا نام نہیں، بلکہ یہ لڑکی کے لیے ایک ایسی "ہجرتِِ حیات" کا آغاز ہے جہاں بچپن کے آنگن کی یادیں، امی کے گھر کا لاڈ، اور اس کے ہر کونے میں بکھری کائنات ایکــــــــــ بیگــــــــــ میں سمٹ جاتی ہے۔ یہ سفر ہے "میرا گھر" سے "ان کا گھر" تک کا، جہاں اسے ایک بالکل نئی دنیا کو اپنانا ہوتا ہے۔ اس نفسیاتی بوجھ کا ادراک کرنا ہر ذی شعور انسان کی ذمہ داری ہے۔
قرآنِ کریم نے اس تعلق کو "محبت اور رحمت" (سورہ الروم: 21) پر مبنی "وحیِ سکون" قرار دیا ہے، نہ کہ کسی ایک فریق کی قربانی کا جبری عہد۔
یہ ایک المیہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا ایک طبقہ اس حسین بندھن پر ایسی فرسودہ پابندیاں عائد کر دیتا ہے جن کا حکم شریعت میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ شادی لڑکی سے ہوتی ہے، لیکن توقع یہ کی جاتی ہے کہ وہ پورے خاندان کے فیصلے خاموشی سے قبول کرے، جیسے اس کا اپنا کوئی وجود، کوئی شوق، یا کوئی رائے نہ ہو۔ اسے چاردیواری کے اندر قید کر دینا، اس کی جائز ضروریات کے لیے اسے دوسروں کا محتاج بنانا، یا اس کے اپنے رشتہ داروں سے ملنے پر بے جا پابندیاں لگانا، یہ سب وہ رویے ہیں جو اسلام کی تعلیمات کے منافی ہیں۔
ازواجِ مطہرات کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ نبی ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ لگائی (سیر و تفریح کا حق)، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے تجارت کی (معاشی آزادی)، اور تمام ازواج علمِ دین کی ترویج میں مشغول رہیں (سماجی سرگرمی)۔ اسلام نے عورت کو قیدی نہیں بنایا، بلکہ اسے عزت اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزارنے کا مکمل حق دیا ہے۔
معاشرے کی ایک اور بڑی بیماری یہ ہے کہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کے حقوق ادا کرے، اس کی جائز خواہشات پوری کرے، یا گھر کے کاموں میں اس کی مدد کرے تو اسے طنزاً "جورو کا غلام" کا لقب دیا جاتا ہے۔ جبکہ اللہ کے نبی ﷺ نے خود اپنے جوتے خود گانٹھے، کپڑے سئیے، اور گھر والوں کی مدد کی (مسند احمد)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہے۔"
حقیقت یہ ہے کہ شادی کا رشتہ ایک "خوشگوار سمجھوتے" کا نام ہے، جہاں توازن ہی سکون کی ضمانت ہے۔ ایک طرف اگر سسرال والے بہو کو بیٹی کا مقام دیں، اسے ایڈجسٹ ہونے کا وقت دیں، اور اس کی آزادی کا احترام کریں؛ تو دوسری طرف لڑکی کا بھی فرض ہے کہ وہ سسرال کو اپنا گھر سمجھے، وہاں کے ماحول کا احترام کرے، اور محبت سے سب کا دل جیتنے کی کوشش کرے۔
شادی کوئی قید خانہ نہیں، نہ ہی کوئی مظلومیت کا سفر۔ اگر دونوں طرف سے سمجھداری، محبت اور شرعی حدود کا خیال رکھا جائے، تو یہی ہجرت ایک نئی جنت کی شروعات بن سکتی ہے۔
ملحوظ:
آج کے ماحول میں خواتین کی ملازمت (جاب) کے بڑھتے ہوئے رجحان پر، جہاں علماِ کرام غیر ضروری ملازمت کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی حیاتِ طیبہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپؓ ایک کامیاب تاجرہ تھیں، لیکن شادی کے بعد آپؓ نے ترجیحات متعین کیں، اپنا مال دین کے لیے وقف کیا، اور خود کو گھر کی نگرانی اور نسلِ نو کی آبیاری کے لیے وقف کر دیا۔ اسلام نے عورت کا نان نفقہ باپ، بھائی یا شوہر کی ذمہ داری قرار دیا ہے تاکہ وہ معاشی بوجھ سے آزاد رہ کر اپنا اصل کردار احسن طریقے سے نبھا سکے۔ اگرچہ اج کل بہت سی خواتین ضرورت کے بجائے خواہشات، مالی خودمختاری یا بہتر طرزِ زندگی کے لیے ملازمت کو ترجیح دیتی ہیں، جس سے مخلوط ماحول، قناعت کا فقدان، گھریلو ذمہ داریوں میں غفلت، اور خاندانی نظام میں بگاڑ (طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان) جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ لہٰذا، اگر شدید ضرورت کے تحت ملازمت کرنی پڑے، تو اسے شرعی حدود (حجاب، غیر مخلوط ماحول) کے اندر اور گھریلو ذمہ داریوں کو متاثر کیے بغیر سرانجام دینا چاہیے۔ اصل کامیابی قناعت اختیار کرنے اور اللہ کے مقرر کردہ کردار کو نبھانے میں ہے، تاکہ معاشرہ بگاڑ سے محفوظ رہ سکے۔
ازقلم زا شیخ