چند اہم علمی و تحقیقی سوالات برائے مفتی نور زمان شاذلی صاحب
مرتبہ: عبدالجبار سلہری جویا شریف
سوال نمبر 1:
مفتی نور زمان شاذلی صاحب کا یہ دعویٰ ہے کہ شیطان کو زیر کر کے اس سے کام لیا جا سکتا ہے؛ براہِ کرم واضح فرمایا جائے کہ یہ “تسخیرِ شیطان” کس شرعی اصول کے تحت ممکن ہے؟
کیا اس کا کوئی طریقہ قرآن و سنت سے ثابت ہے، یا یہ اُن عملیات پر مبنی ہے جو کتبِ عملیات یا غیر اسلامی نظریات (مثلاً ایلومیناٹی وغیرہ سے منسوب طریقوں) میں مذکور ہیں؟
سوال نمبر 2:
اگر شیطان کو زیر کرنا قرآن و سنت سے ثابت نہیں، تو پھر وہ کون سی قطعی شرعی دلیل ہے جس کی بنیاد پر ایسے اعمال کو جائز یا مفید قرار دیا جا رہا ہے؟
اور اگر یہ اعمال شرکیہ یا غیر مأثور ہوں، تو ان کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
سوال نمبر 3:
“نادِ علی” کے غیر شرکیہ ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے؛ براہِ کرم اس کے عدمِ شرک پر قرآن، حدیث یا ائمہ سلف سے کوئی صریح، واضح اور مستند دلیل پیش فرمائی جائے، تاکہ اس مسئلے کا علمی فیصلہ ممکن ہو سکے۔
سوال نمبر 4:
مفتی نور زمان شاذلی صاحب کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہیں “نادِ علی” امام جعفر صادقؒ سے کشفاً عطا ہوئی اور اس میں کوئی شرک نہیں؛
سوال یہ ہے کہ:
کیا کشف و الہام کو شریعت میں دلیلِ قطعی تسلیم کیا جا سکتا ہے؟
اور اگر نہیں، تو پھر اس نسبت کی شرعی حیثیت کیا باقی رہ جاتی ہے؟
سوال نمبر 5:
بعض شیعہ مصادر میں اس امر کا اعتراف پایا جاتا ہے کہ “نادِ علی” کا 905 ہجری سے پہلے کوئی واضح ثبوت موجود نہیں؛
تو سوال یہ ہے کہ ایک ایسا عمل جس کی ابتدائی صدیوں میں کوئی مستند سند نہ ہو، اسے دینی عمل کے طور پر کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟
سوال نمبر 6:
“نادِ علی” میں حضرت علیؓ کو پکارا جاتا ہے اور ان سے استعانت طلب کی جاتی ہے؛
براہِ کرم وضاحت فرمائی جائے کہ یہ استعانت “استعانت بالغیر” کے کس دائرے میں آتی ہے؟
اور اس کی حدود قرآن و سنت کی روشنی میں کیا متعین ہوتی ہیں؟
سوال نمبر 7:
اس دعا میں “ولایت” کا ذکر بھی آتا ہے؛
سوال یہ ہے کہ یہاں “ولایت” سے کیا مراد ہے؟
اگر اس سے شیعہ عقیدہ کے مطابق امامت مراد لی جائے—جسے وہ نبوت سے بھی افضل اور دین کا مستقل رکن قرار دیتے ہیں—تو یہ تصور اہلِ سنت کے اصولِ عقیدہ سے کس طرح ہم آہنگ ہو سکتا ہے؟
سوال نمبر 8:
یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ:
“جب تک میرا سلسلہ وجود میں نہیں آیا، لوگ اناڑیوں سے علاج کرواتے تھے، اور میری جماعت (شاذلی) ہی ماہر ہے”؛
سوال یہ ہے کہ کیا یہ اندازِ بیان علمی، متوازن اور دیانت دارانہ ہے یا تکبر پر مبنی؟
اور کیا دین میں کسی ایک سلسلے کو اس طرح فوقیت دینا شرعاً درست ہے؟
سوال نمبر 9:
اگر کسی ایک سلسلے کو کامل اور دیگر کو ناقص قرار دیا جائے، تو کیا یہ امت میں تفرقہ، تعصب اور خود ساختہ برتری کا سبب نہیں بنتا؟
اس سلسلے میں مفتی نور زمان شاذلی صاحب کی کیا توجیہ اور موقف ہے؟
سوال نمبر 10:
آخر میں یہ وضاحت فرمائی جائے کہ عملیات، اذکار اور روحانی طریقوں میں اصل معیار کیا ہونا چاہیے:
قرآن و سنت، یا کشف، ذاتی تجربات اور غیر مستند عملیات؟
یہ سوالات خالصتاً علمی، تحقیقی اور اصلاحی مقصد کے تحت پیش کیے گئے ہیں، تاکہ دین کے حساس معاملات میں واضح، مدلل اور مستند رہنمائی حاصل ہو سکے۔