دنیا میں کہیں بھی سفر کرنا ہو تو انسان ٹکٹ نکالتا
  ہے جس کو واپس بھی کیا جا سکتا ہے۔
لیکن آخرت کے سفر کا ٹکٹ جو دنیا میں آنے سے پہلے ہی نکل چکا ہے واپس نہیں کیا جا سکتا اور آخرت کی فلائٹ دن ، تاریخ ، گھنٹہ ، منٹ ، سیکنڈ ، تعین کے ساتھ ہے ، جس میں تقدیم و تاخیر ممکن نہیں اور اس کے صرف دو ایئرپورٹ ہیں ایک جنّت اور دوسرا جہنّم۔

یہ دنیا تو بس اک لمحے کا ٹھہراؤ ہے
اصل سفر تو آخرت کی طرف جانا ہے

جن لوگوں نے دنیا میں اللہ کے حکموں کی نافرمانی کی اور اس کے بتائے ہوئے راستے کو ترک کر دیا ہے تو یہ فلائٹ اس کو جہنّم ایئرپورٹ پر اتار دے گی۔
دنیا میں اللہ تعالی نے تمام انسانوں کو امتحان کے لیے بھیجا ہے جب یہ مدت امتحان ختم ہو جاتی ہے تو پھر ایک منٹ کی ، ایک سیکنڈ کی بھی فرصت نہیں ملتی اور روح قفص عنصری سے پرواز کر کے سفر آخرت کے لیے چل دیتی ہے ، اس لیے عقلمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ دنیا کے غیر ضروری کاموں کو نظر انداز کر کے اس مختصر زندگی کے قیمتی لمحات کو آخرت کے سفر کی تیاری میں صرف کیا جائے ، اور نیک اعمال کے ذریعے جنت کی طرف جانے والی فلائٹ میں اپنی سیٹ کا ریزرویشن کرا لیا جائے قران میں اللہ نے نقشہ یوں کھینچا ہے۔
اس دن سے ڈرو جس میں تم سب کو اللہ کے پاس لوٹایا جائے گا پھر ہر شخص کو اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کیا ہے اور ان کے ساتھ کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا۔
سامانِ سفر کم ہے، راستہ بہت دور
🍁آخرت کی فکر کر، یہی ہے اصل شعور

ارشادِ نبوی ہے : عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کریے اور مرنے کے بعد کے لیے تیاری کرے ۔ 
انمول ✍️