"قوم کا سرمایہ — وقتی مہمات اور نعروں کے حوالے کیوں؟"
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
        مضمون (96)
آج کا منظرنامہ عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف دردِ ملت کے دعوے، جذباتی بیانات، اور خدمت کے بلند و بانگ نعرے... اور دوسری طرف قوم کی تعلیمی، معاشی اور طبی پسماندگی کا تلخ سچ۔
یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ بہت سی تنظیمیں اخلاص کے ساتھ کام کر رہی ہیں، قربانیاں دے رہی ہیں، اور وقتی مسائل میں قوم کے ساتھ کھڑی بھی ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ باعثِ قدر ہے۔ مگر سوال یہ ہے — کیا قومیں وقتی جذبات سے بنتی ہیں؟ کیا ملت کی تقدیر نعروں کے سہارے بدلتی ہے؟ یا اس کے لیے ایک گہری، سنجیدہ اور مستقل جدوجہد درکار ہوتی ہے؟ آج ہمیں جذبات سے نکل کر حقیقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ ہماری اکثر تنظیمیں ردِعمل کی نفسیات کا شکار ہیں۔ جہاں کوئی حادثہ ہوا، وہاں مظاہرہ؛ جہاں کوئی ظلم ہوا، وہاں بیان؛ جہاں کوئی سانحہ پیش آیا، وہاں ریلیف۔ یہ سب ضروری ہے، مگر کیا یہی سب کچھ ہے؟کیا یہی قوم سازی ہے؟ قوم سازی کا عمل وقتی نہیں، صدیوں پر محیط ہوتا ہے۔ یہ تعلیمی اداروں سے شروع ہوتا ہے، تحقیقی مراکز میں پروان چڑھتا ہے، اسپتالوں میں انسانیت کی خدمت سے نکھرتا ہے، اور معاشی استحکام کے ذریعے مضبوط ہوتا ہے۔ یہاں ایک اور نہایت اہم اور تلخ پہلو بھی توجہ کا متقاضی ہے—یہ ہرگز نہیں کہ ان تنظیموں کے پاس وسائل کی کمی ہے، یا قوم ان کا ساتھ نہیں دیتی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قوم دل کھول کرچندہ دیتی ہے، اپنے اعتماد کا سرمایہ ان کےسپرد کرتی ہے، اور امید باندھتی ہے کہ یہ وسائل ملت کی تقدیر بدلنے میں صرف ہوں گے۔ مگر جب یہی کثیر رقوم محض وقتی مہمات، عارضی سرگرمیوں اور محدود اثر رکھنے والے منصوبوں میں صرف ہو جائیں، تو یہ سوال شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ. کیا یہ قوم کے اعتماد اور اس کی قربانیوں کے ساتھ انصاف ہے؟ یہ وہ مقام ہے جہاں احتساب ناگزیر ہو جاتا ہے۔ قوم کا سرمایہ صرف خرچ کرنے کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ اسے محفوظ، منظم اور مستقبل ساز منصوبوں میں لگانا ایک امانت ہے۔ اگر یہ امانت وقتی جوش کی نذر ہو جائے تو اس کا نقصان صرف حال کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ہوتا ہے۔ ہمیں خود سے یہ کڑوا سوال پوچھنا ہوگا:
کتنی تنظیموں نے ایسے اسکول، کالج یا یونیورسٹیاں قائم کیں جہاں سے ایک باشعور، باکردار اور باصلاحیت نسل تیار ہو؟ کتنے ایسے اسپتال بنائے گئے جہاں ایک غریب انسان عزت کے ساتھ علاج کرا سکے؟
کتنے ایسے رفاہی ادارے وجود میں آئے جو وقتی نہیں بلکہ نسل در نسل انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بنیں؟ اگر جواب نفی میں ہے — اور حقیقت یہی ہے — تو پھر ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہم نے قوم کی بنیادوں پر کم، اور اس کے جذبات پر زیادہ کام کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تنظیموں کا اثر عام آدمی کی زندگی میں گہرائی تک نہیں پہنچتا۔ ایک عام انسان کے لیے وہ تنظیم قابلِ اعتبار تب بنتی ہے جب وہ اس کے بچے کی تعلیم، اس کی بیماری کا علاج، اور اس کے مستقبل کی ضمانت بنے۔ محض بیانات اور احتجاج اس کے دکھوں کا مستقل مداوا نہیں کر سکتے۔ مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض حلقوں میں " کارکردگی" کا معیار بھی بدل چکا ہے۔ چند وقتی مہمات، کچھ تصویریں، چند بیانات - سمجھ لیا جاتا ہے کہ حق ادا ہو گیا! حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قومیں "پروجیکٹس" سے نہیں، "سسٹمز" سے بنتی ہیں۔ اور سسٹمز قربانی، بصیرت، طویل منصوبہ بندی اور اخلاص کے ساتھ کھڑے کیے جاتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر آج ہم نے ادارہ سازی پر توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں ہمیں کس نظر سے دیکھیں گی؟ کیا وہ ہمیں نعروں کا امین سمجھیں گی یا اپنی محرومیوں کا ذمہ دار؟
اصل مسئلہ نیت کا نہیں، ترجیحات کا ہے۔ ہم نے وقتی اثر کو مستقل فائدے پر ترجیح دی، وقتی مقبولیت کو دیرپا خدمت پر فوقیت دی، اور جذباتی اپیل کو فکری و عملی تعمیر پر غالب آنے دیا۔ جب تک یہ توازن درست نہیں ہوگا، تب تک ہماری تمام کوششیں سطحی رہیں گی، اور قوم کی جڑیں کمزور ہی رہیں گی۔
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم خود احتسابی کی جرأت کریں۔ نعروں کی گونج سے نکل کر عمل کی دنیا میں قدم رکھیں۔ ایسے ادارے قائم کریں جو وقت کی کسوٹی پر پورا اتریں، جو نسلوں کو سنواریں، اور جو انسانیت کے لیے مثال بنیں۔ یاد رکھیں! قوم کا سرمایہ، قوم کا اعتماد اور قوم کی امیدیں - یہ سب امانت ہیں۔اور امانت کا حق یہ ہے کہ اسے وقتی نہیں بلکہ دائمی بنیادوں پر صرف کیا جائے۔ تاریخ نعروں کو نہیں، کارناموں کو یاد رکھتی ہے۔ اور قومیں تقریروں سے نہیں، تعمیر سے زندہ رہتی ہیں۔. لہٰذا "جذبات وقتی لہریں پیدا کرتے ہیں، مگر امانت دارانہ منصوبہ بندی ہی قوموں کا مستقبل سنوارتی ہے۔
شعر..... 
امانت تھی جو قوم کی، نعروں میں جلا ڈالا 
اک لمحے کے جوش میں، صدیوں کو مٹا ڈالا
     بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com