*ضمیر کی موت اور مصلحتوں کا سجدہ*
*قسط سوم*
اے وہ لوگو! جو اپنے ناموں کے ساتھ مسلمان کا لاحقہ لگاتے ہوں، جو فخر سے خود کو خیرِ امت کہتے ہوں، ذرا اپنی غیرت کے مزار پر فاتحہ تو پڑھ لو، غزہ کی گلیوں میں گیارہ ہزار معصوموں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے، ماؤں کی چادریں تار تار ہو رہی ہیں، اور تم؟ تم اپنی عیش و عشرت کے محلوں میں دبک کر بیٹھے مصلحت کی تسبیح پڑھ رہے ہو، تمہارا ایمان اب دلوں میں نہیں، صرف زبانوں کے چٹخاروں اور سوشل میڈیا کی بے جان پوسٹوں میں قید ہو چکا ہے۔
*تمہارے ضمیر سے چند سوالات*
آج ارضِ مقدس کا ہر شہید تم سے پوچھ رہا ہے، کیا یہی ایمان ہے؟ کہ تمہارا بھائی کٹ رہا ہو اور تم دشمن کے برانڈز اور مصنوعات سے اپنی جیبیں بھر رہے ہو؟کیا یہی غیرتِ ایمانی ہے؟ کہ تمہاری سرحدوں پر پہرہ دینے والی فوجیں صرف اپنے ہی ملک کے نہتے عوام کے لیے شیر ہیں، لیکن صیہونی درندوں کے سامنے امن کی فاختہ بنی بیٹھی ہیں؟کیا یہی مسلمان ہونے کا مطلب ہے؟ کہ تم ظالم کو روکنے کے بجائے مظلوم کو صبر کی تلقین کرو؟کیا یہی اللہ کی بارگاہ میں پیشانی جھکانے کا مطلب ہے؟ کہ مسجدوں میں سجدے تو ہوں، مگر ان سجدوں میں وہ تڑپ نہ ہو جو باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دے؟
*محبتِ رسول ﷺ کا جھوٹا دعوی*
تم بڑے دعوے سے کہتے ہو کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ سے محبت ہے،کیا یہی ہے محبتِ رسول کا مطلب؟ کہ جس نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، آج اس جسم کا ایک ایک عضو کاٹا جا رہا ہے اور باقی اعضاء خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں؟کیا یہی ہے صحابہ کرام کی سکھائی ہوئی محبت جنہوں نے کفر کے سامنے سر جھکانے کے بجائے گردن کٹوانا بہتر سمجھا، اور تم نے دنیاوی جاہ و جلال کی خاطر اپنی روح تک بیچ ڈالی؟
کل جب تاریخ لکھی جائے گی، تو تم محمد بن قاسم کو کیا منہ دکھاؤ گے؟ جس نے ایک بیٹی کی پکار پر سندھ کے ریگزاروں کو فتح کر لیا تھا۔ تم عمر بن عبدالعزیز کے سامنے کیا عذر پیش کرو گے؟ جس کے دور میں بھیڑیے اور بکریاں ایک گھاٹ پر پانی پیتے تھے، اور آج تمہارے دور میں بھیڑیے معصوم بچوں کا گوشت کھا رہے ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر، تم ابوبکر، عمر، عثمان اور علی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) کی بارگاہ میں کیا کہو گے؟صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی صداقت، فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی ہیبت، عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی حیا اور حیدرِ کرار رضی اللہ عنہ کی شجاعت کا دعویٰ کرنے والو! کیا تمہاری رگوں میں وہی لہو دوڑ رہا ہے یا اب وہاں صرف مصلحت کا پانی بھر چکا ہے؟تمہاری خاموشی بزدلی نہیں، بلکہ غداری ہے۔ تم ان گیارہ ہزار فلسطینیوں کے قاتل نہیں، بلکہ ان کی نسل کشی کے خاموش شریکِ جرم ہو، یاد رکھو! اگر آج تم نے اپنی غیرتِ ایمانی کا ثبوت نہ دیا، تو کل روزِ قیامت تمہاری یہ نمازیں، تمہارے یہ روزے اور تمہاری یہ پیشانیوں کے نشان تمہارے خلاف گواہی دیں گے کہ جب حق پکار رہا تھا، تو تم بزدلوں کی طرح مصلحتوں کی چادر اوڑھ کر سو رہے تھے۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*