✍️ سلیمان قریشی
موجودہ دور میں جب دنیا تیزی سے ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہے اور مختلف تہذیبیں باہمی رابطوں کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، ایسے علمی و ثقافتی اداروں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے جو علم، مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر قطر کے دارالحکومت دوحہ کے قلب میں "مرکز الشیخ عبد اللہ بن زید آل محمود اسلامی ثقافتی سینٹر" قائم کیا گیا، جسے عام طور پر "الفنار" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اپنی منفرد طرزِ تعمیر اور دعوتی سرگرمیوں کے باعث یہ مرکز دوحہ کے افق پر ایک روشن مینار کی طرح نظر آتا ہے جس کا بنیادی مقصد اسلام کی معتدل اور آفاقی تعلیمات کو پوری دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔
اس عظیم ادارے کا علمی و فکری پس منظر قطر کے نامور عالمِ دین اور سابق مفتیِ اعظم الشیخ عبد اللہ بن زید آل محمودؒ (1909ء–1997ء)کی شخصیت سے جڑا ہے۔ شیخ موصوف نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت، سماجی اصلاح اور دینی رہنمائی کے لیے وقف رکھی تھی اور قطر کے علمی حلقوں میں انہیں ہمیشہ ایک معتدل مزاج اور بصیرت افروز عالم کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی اسی علمی و دعوتی روایت کو زندہ رکھنے اور اسے عصری تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے اس مرکز کا قیام عمل میں لایا گیا، تاکہ اسلام کی حقیقی اور متوازن تصویر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔
مرکز کا یہ علمی قد کاٹھ جہاں متاثر کن ہے، وہیں الفنار کی عمارت اپنی منفرد حلزونی (Spiral) شکل کے مینار کی وجہ سے بھی عالمی سطح پر شہرت رکھتی ہے۔ عراق کے شہر سامرا کی مشہور "جامع مسجد سامرا" کے حلزونی مینار سے متاثر ہے جہاں قدیم اسلامی فنِ تعمیر کی جھلک اور جدید انجینئرنگ کا ایسا امتزاج ملتا ہے جو اسے دوحہ کے نمایاں ترین نشانات میں شامل کر دیتا ہے۔ یہی فنی انفرادیت ہے کہ بہت سے سیاح اس عمارت کے سحر میں مبتلا ہو کر یہاں کھنچے چلے آتے ہیں اور اس کے پس منظر کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
چونکہ قطر مختلف قومیتوں اور زبانوں کے لوگوں کا مسکن ہے، اس لیے الفنار نے اپنی دعوتی سرگرمیوں کو محض عربی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے کثیر اللسانی بنیادوں پر استوار کیا ہے۔ یہاں اردو، انگریزی، ہندی، تامل، ملیالم، فلپائنی، بنغالی اور تیلگو جیسی زبانوں میں دروس اور تربیتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ پیغامِ حق لوگوں تک ان کی اپنی مادری زبان میں پہنچ سکے۔ مرکز کی ان سرگرمیوں کا خاصہ یہ ہے کہ ان کا انداز مناظرانہ ہونے کے بجائے حکمت اور نرمی پر مبنی ہوتا ہے، جو مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کے لیے زیادہ قابلِ قبول اور دل نشین محسوس ہوتا ہے۔ دعوت و اصلاح کا یہی وہ معتدل مزاج اور وسعتِ نظری ہے جو ہمیں برصغیر کے معروف علمی ادارے *مادرِ علمی جامعہ دارالسلام عمرآباد* کی شناخت میں بھی نظر آتی ہے۔ جس طرح جامعہ دارالسلام نے اپنی ایک صدی پر محیط تاریخ میں مسلکی تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک خالص علمی اور کشادہ ظرفی پر مبنی فضا فراہم کی ہے، بالکل اسی طرح الفنار بھی دعوت کے میدان میں ایک متوازن اور سنجیدہ طرز کو اپنائے ہوئے ہے۔
ان تمام دعوتی کاوشوں کے شانہ بشانہ مرکز کے تعلیمی ڈھانچے میں قرآنِ کریم کی تعلیم اور زبان کی تفہیم کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں بچوں اور نوجوانوں کی فکری و لسانی آبیاری کے لیے نہ صرف عربک کلاسز کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے، بلکہ حفظِ قرآن کے وہ نورانی حلقے بھی قائم ہیں جہاں تجوید اور قرأت کے مستند اصولوں کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے۔ ان حلقوں کا اصل مقصد محض الفاظ کو ذہن نشین کرانا نہیں، بلکہ نئی نسل کے دلوں میں قرآن کے ساتھ ایک ایسا گہرا روحانی تعلق پیدا کرنا ہے جو ان کی عملی زندگی میں ہدایت کا ذریعہ بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ قطر میں منعقد ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2022 کے دوران یہ مرکز خاص طور پر عالمی توجہ کا مرکز بنا۔ دنیا بھر سے آنے والے شائقینِ کھیل کے لیے یہاں خصوصی پروگرام، مسجد ٹور اور ثقافتی نشستیں ترتیب دی گئیں، جن کے ذریعے ہزاروں غیر مسلم مہمانوں کو اسلام کے بنیادی تعارف سے آگاہی ملی۔
مرکز کی اسی عالمی اثر پذیری کا نتیجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً ڈاکٹر ذاکر نائک، مفتی اسماعیل مینک اور د. یوسف اسلام جیسی نامور اسلامی شخصیات یہاں کا دورہ کرتی رہی ہیں۔ تاہم، موجودہ دور کے بدلتے ہوئے چیلنجز اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ الفنار جیسے ادارے اپنی علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو مزید وسعت دیں۔ خاص طور پر جدید فکری مباحث اور مغربی معاشروں میں پائے جانے والے شبہات کے حوالے سے گہرے علمی مکالمے کی ضرورت ہے۔ اگر مرکز مستقل تحقیقی جرائد، عالمی کانفرنسوں اور ایک مضبوط "آئی ٹی سیل" کے قیام پر توجہ دے، تو اسلام کا پیغام کہیں زیادہ منظم اور مؤثر انداز میں عالمی سطح پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس مرکز کی تمام مخلصانہ کاوشوں کو قبول فرمائے اور اسے قیامت تک انسانیت کے لیے علم و ہدایت کا روشن مینار بنائے رکھے۔ آمین۔
مآخذ و مراجع
یہ مضمون درج ذیل مستند حوالہ جات اور علمی مآخذ کا ایک جامع "نچوڑ اور خلاصہ" ہے، جسے قارئین کی سہولت کے لیے ترتیب دیا گیا ہے:
الموقع الرسمي للمركز (الفنار)، الدوحة – قطر۔ www.binzaid.gov.qa
وزارة الاوقاف والشؤون الاسلامية - قطر۔ التقرير السنوي للوزارة (وزارت کی سالانہ رپورٹ)، الدوحة، 2023م۔
Gulf-Times.com مرکز الفنار کی خصوصی رپورٹ، تاریخِ اشاعت: 11 جنوری 2023م۔
الموقع الرسمي للجامعة (جامعہ دارالسلام)، عمرآباد – انڈیا۔ www.jamiadarussalam.net
موجودہ دور میں جب دنیا تیزی سے ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہے اور مختلف تہذیبیں باہمی رابطوں کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، ایسے علمی و ثقافتی اداروں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے جو علم، مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر قطر کے دارالحکومت دوحہ کے قلب میں "مرکز الشیخ عبد اللہ بن زید آل محمود اسلامی ثقافتی سینٹر" قائم کیا گیا، جسے عام طور پر "الفنار" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اپنی منفرد طرزِ تعمیر اور دعوتی سرگرمیوں کے باعث یہ مرکز دوحہ کے افق پر ایک روشن مینار کی طرح نظر آتا ہے جس کا بنیادی مقصد اسلام کی معتدل اور آفاقی تعلیمات کو پوری دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔
اس عظیم ادارے کا علمی و فکری پس منظر قطر کے نامور عالمِ دین اور سابق مفتیِ اعظم الشیخ عبد اللہ بن زید آل محمودؒ (1909ء–1997ء)کی شخصیت سے جڑا ہے۔ شیخ موصوف نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت، سماجی اصلاح اور دینی رہنمائی کے لیے وقف رکھی تھی اور قطر کے علمی حلقوں میں انہیں ہمیشہ ایک معتدل مزاج اور بصیرت افروز عالم کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی اسی علمی و دعوتی روایت کو زندہ رکھنے اور اسے عصری تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے اس مرکز کا قیام عمل میں لایا گیا، تاکہ اسلام کی حقیقی اور متوازن تصویر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔
مرکز کا یہ علمی قد کاٹھ جہاں متاثر کن ہے، وہیں الفنار کی عمارت اپنی منفرد حلزونی (Spiral) شکل کے مینار کی وجہ سے بھی عالمی سطح پر شہرت رکھتی ہے۔ عراق کے شہر سامرا کی مشہور "جامع مسجد سامرا" کے حلزونی مینار سے متاثر ہے جہاں قدیم اسلامی فنِ تعمیر کی جھلک اور جدید انجینئرنگ کا ایسا امتزاج ملتا ہے جو اسے دوحہ کے نمایاں ترین نشانات میں شامل کر دیتا ہے۔ یہی فنی انفرادیت ہے کہ بہت سے سیاح اس عمارت کے سحر میں مبتلا ہو کر یہاں کھنچے چلے آتے ہیں اور اس کے پس منظر کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
چونکہ قطر مختلف قومیتوں اور زبانوں کے لوگوں کا مسکن ہے، اس لیے الفنار نے اپنی دعوتی سرگرمیوں کو محض عربی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے کثیر اللسانی بنیادوں پر استوار کیا ہے۔ یہاں اردو، انگریزی، ہندی، تامل، ملیالم، فلپائنی، بنغالی اور تیلگو جیسی زبانوں میں دروس اور تربیتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ پیغامِ حق لوگوں تک ان کی اپنی مادری زبان میں پہنچ سکے۔ مرکز کی ان سرگرمیوں کا خاصہ یہ ہے کہ ان کا انداز مناظرانہ ہونے کے بجائے حکمت اور نرمی پر مبنی ہوتا ہے، جو مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کے لیے زیادہ قابلِ قبول اور دل نشین محسوس ہوتا ہے۔ دعوت و اصلاح کا یہی وہ معتدل مزاج اور وسعتِ نظری ہے جو ہمیں برصغیر کے معروف علمی ادارے *مادرِ علمی جامعہ دارالسلام عمرآباد* کی شناخت میں بھی نظر آتی ہے۔ جس طرح جامعہ دارالسلام نے اپنی ایک صدی پر محیط تاریخ میں مسلکی تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک خالص علمی اور کشادہ ظرفی پر مبنی فضا فراہم کی ہے، بالکل اسی طرح الفنار بھی دعوت کے میدان میں ایک متوازن اور سنجیدہ طرز کو اپنائے ہوئے ہے۔
ان تمام دعوتی کاوشوں کے شانہ بشانہ مرکز کے تعلیمی ڈھانچے میں قرآنِ کریم کی تعلیم اور زبان کی تفہیم کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں بچوں اور نوجوانوں کی فکری و لسانی آبیاری کے لیے نہ صرف عربک کلاسز کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے، بلکہ حفظِ قرآن کے وہ نورانی حلقے بھی قائم ہیں جہاں تجوید اور قرأت کے مستند اصولوں کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے۔ ان حلقوں کا اصل مقصد محض الفاظ کو ذہن نشین کرانا نہیں، بلکہ نئی نسل کے دلوں میں قرآن کے ساتھ ایک ایسا گہرا روحانی تعلق پیدا کرنا ہے جو ان کی عملی زندگی میں ہدایت کا ذریعہ بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ قطر میں منعقد ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2022 کے دوران یہ مرکز خاص طور پر عالمی توجہ کا مرکز بنا۔ دنیا بھر سے آنے والے شائقینِ کھیل کے لیے یہاں خصوصی پروگرام، مسجد ٹور اور ثقافتی نشستیں ترتیب دی گئیں، جن کے ذریعے ہزاروں غیر مسلم مہمانوں کو اسلام کے بنیادی تعارف سے آگاہی ملی۔
مرکز کی اسی عالمی اثر پذیری کا نتیجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً ڈاکٹر ذاکر نائک، مفتی اسماعیل مینک اور د. یوسف اسلام جیسی نامور اسلامی شخصیات یہاں کا دورہ کرتی رہی ہیں۔ تاہم، موجودہ دور کے بدلتے ہوئے چیلنجز اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ الفنار جیسے ادارے اپنی علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو مزید وسعت دیں۔ خاص طور پر جدید فکری مباحث اور مغربی معاشروں میں پائے جانے والے شبہات کے حوالے سے گہرے علمی مکالمے کی ضرورت ہے۔ اگر مرکز مستقل تحقیقی جرائد، عالمی کانفرنسوں اور ایک مضبوط "آئی ٹی سیل" کے قیام پر توجہ دے، تو اسلام کا پیغام کہیں زیادہ منظم اور مؤثر انداز میں عالمی سطح پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس مرکز کی تمام مخلصانہ کاوشوں کو قبول فرمائے اور اسے قیامت تک انسانیت کے لیے علم و ہدایت کا روشن مینار بنائے رکھے۔ آمین۔
مآخذ و مراجع
یہ مضمون درج ذیل مستند حوالہ جات اور علمی مآخذ کا ایک جامع "نچوڑ اور خلاصہ" ہے، جسے قارئین کی سہولت کے لیے ترتیب دیا گیا ہے:
الموقع الرسمي للمركز (الفنار)، الدوحة – قطر۔ www.binzaid.gov.qa
وزارة الاوقاف والشؤون الاسلامية - قطر۔ التقرير السنوي للوزارة (وزارت کی سالانہ رپورٹ)، الدوحة، 2023م۔
Gulf-Times.com مرکز الفنار کی خصوصی رپورٹ، تاریخِ اشاعت: 11 جنوری 2023م۔
الموقع الرسمي للجامعة (جامعہ دارالسلام)، عمرآباد – انڈیا۔ www.jamiadarussalam.net