ایک قریبی ساتھی کے ذریعہ یہ فرحت بخش اطلاع موصول ہوئی کہ دہلی میں جمعیت علمائے ہند کے تحت ہونے والے دو روزہ (٢٩/٣٠ جمادی الاولی مطابق 21/22 نومبر)"مفتئ اعظم کفایت اللہ دہلوی سیمینار" میں استاذِ محترم حضرت مولانا مفتی محمد یوسف قاسمی میواتی (استاذ جامعہ معدن العلوم جھمراوٹ میوات) بھی شریک ہوں گے، نیز حضرت استاذِ محترم اسی غرض سے دہلی تشریف لا چکے ہیں، یہ سن کر دل خوشی سے جھوم اٹھا، چہرہ فرحت ومسرت سے کھل گیا، خوشی کے جذبات بے ترتیب ذہن وخیال میں گردش کرنے لگے، زبان وقلب خوشی ومسرت کے ترانے گنگنانے لگے، قلم لکھنے کے لئے بےتاب مگر الفاظ کے پیچ وخم میں اس طرح کھو گیا کہ سمجھ ہی نہیں آ رہا کیا لکھنا ہے؟ کیسے لکھنا ہے ؟ غرض ہمت کر کے یہ چند سطریں تحریر کر رہا ہوں، میں جب لکھتا ہوں اور خاص طور پر کسی شخصیت سے متعلق تو اکابر کی گستاخی کا ڈر لگا رہتا ہے، اس لئے حضرت استاذِ محترم سے پیش گی معافی کا خواست گار ہوں،  


بہادر شاہ ظفر کہتے ہیں: 

محنت سے ہے عظمت کہ زمانے میں نگیں کو

بے کاوشِ سینہ نہ کبھی ناموری دی


   واقعہ یہی ہے کہ محنت اور کامیابی میں لازم وملزوم والا تلازم ہے، بل کہ کہیے کہ سبب مع المسبّب والا التزام ہے، تشریح اس کی یہ ہے کہ کبھی کبھی کامیابیاں، بلندیاں، ترقیاں، اور شہرت ونام وری بغیر محنت ومشقت کے بھی حاصل ہو جاتی ہیں، بعضے مرتبہ وراثت میں بھی ان سب عہدے ومناصب کا انتقال ہوجاتا ہے، مگر جد وجہد اور محنت ومشقت کرنے والے کے لئے ان سب بلندی و ترقیات کا حصول حتمی اور یقینی ہوتا ہے، حضرت مفتی صاحب کے بارے میں جب یہ خبر سنی تو فوراً ذہن اسی طرف متوجہ ہوا کہ یہ بلا مبالغہ مفتی صاحب کی شب وروز کی جد وجہد، مسلسل محنت اور اور استمرار واستقلال کے ساتھ کۓ ہوئے علمی وعملی مجاہدوں کا ثمرہ اور کئی سالہ کاشت کی آبیاری ہے، کیوں کہ میرے علم کے مطابق حضرت مفتی صاحب اپنے گھرانے میں سب سے پہلے علمِ دین میں لگے فردِ فرید ہیں، اس لئے یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ یہ سب مفتی صاحب کی ذاتی محنت ومشقت اور شوق ولگن کا نتیجۂ خوش کن ہے۔

ابو تراب کی زبانی: 

محنت سے مل گیا جو سفینے کے بیچ تھا

دریائے عطر میرے پسینے  کے  بیچ تھا


    میں نے آپ کے شب وروز بہت قریب سے دیکھے ہیں، ہر وقت آپ علمی کاموں میں مشغول رہتے، چند گھنٹوں کے علاوہ سارا وقت کتب خانہ میں گزرتا، طلبہ کی آمد مستقل آپ کے پاس رہتی، کتنے ہی طلبہ مختلف علوم وفنون کی کتابیں لۓ اکثر وبیشتر آپ کے پاس حاضر ہوتے، کوئی نحو وصرف سمجھ رہا ہے تو کوئی منطق کا قضیہ سمجھنے کے لیے بے تاب ہے، کوئی ترجمہ کہلوا رہا ہے تو کوئی مسائل کا انطباق کرا رہا ہے، وغیرہ وغیرہ، غرض آپ کبھی کسی کو منع نہ کرتے، یومیہ رات کے ایک دو بجے تک پڑھنے لکھنے اور مطالعہ وکتب بینی میں مصروف رہنا تو عام بات تھی، بعضے مرتبہ تو اس سے بھی آگے ہو جاتا، اس معمول میں موسمِ سرماں وگرماں بھی کوئی فرق نہ ڈال پاتے اور کمال یہ کہ پھر فجر کے فوراً بعد سبق بھی پڑھانا، (میوات کے اکثر مدارس میں ناشتہ کا وقفہ بعدِ نمازِ فجر متصل نہیں ہوتا کذا فی الجامعہ) طلبہ کو بھی پڑھنے کی خوب ترغیب دیتے، خوب آمادہ کرتے، دیر رات جب سونے کے لۓ تشریف لے جاتے تو اکثر مسجد کا چکر لگاتے ہوئے جاتے، ایک مرتبہ تو رات کے ڈیڑھ بجے کے قریب مسجد میں تشریف لے گئے اور جو طلبہ اس وقت پڑھ رہے تھے، انہیں شیرینی تقسیم کی، ہم آپسی سر گوشیاں کیا کرتے تھے کہ مفتی صاحب زمانۂ تدریس میں بھی اس قدر محنت وریاضت کرتے ہیں اور ہم زمانۂ طالب علمی میں بھی اس غفلت ولاپرواہی کے شکار ہیں، طلبہ کو خوب سمجھاتے، خوب نصیحتیں کرتے، خاص طور سے لکھنے پڑھنے اور کتب بینی پر تو بہت ہی زور دیتے، یومیہ لکھنے کی بہت تاکید کرتے، نہ جانے کتنی بے شمار مرتبہ اس جملہ کا تکرار کیا ہوگا کہ "لکھتے رہو، لکھتے رہو، لکھتے، لکھتے لکھاری بن جاؤگے" 


   

    یہ بھی نہایت خوشی کی بات ہے کہ ابھی چند دن پہلے ہی حضرت مفتی صاحب نے"مجلسِ علمی میوات" کے نام سے ایک مکتبہ بھی قائم کیا ہے، جس سے ماشاءاللہ تعالیٰ پانچ کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں، یہ ہم شاگردان پر آپ کا احسانِ عظیم ہے، اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحب کو جزائے خیر عطا فرماۓ، آپ کے علمی وعملی کاموں میں برکت عطا فرمائے، ہر قسم کی ترقیات سے سرفراز فرمائے اور ہم نااہلوں کو آپ سے کچھ سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔


یکے از شاگردان: عبد اللہ یوسف 

١/ جمادی الثانی ١٤٤٧ھ۔ 

بہ روز یک شنبہ