ماں کے نافرمان تھے ہم، یہ خطا بھی اپنی تھی
اس کی آنکھوں میں جو نمی تھی، وہ سزا بھی اپنی تھی
جس نے ہر دکھ میں ہمیں سینے سے لگا کر رکھا
اس کے دل کو ہی دکھایا، یہ جفا بھی اپنی تھی
کئی سالوں کی بات ہے ایک دفع میں اپنے والد محترم کے ساتھ گھر جا رہی تھی راستے میں ہمیں بھیڑ نظر آئی جب چل کر بھیڑ کے پاس گئے تو پتہ چلا باپ اور بیٹے میں جھگڑا ہو رہا ہے۔
اور جو الفاظ میرے کان میں پڑے جیسے کسی نے پگھلا ہواشیشہ میرے کانوں میں ڈال دیا ہو۔
وہ الفاظ یہ ہیں 👇
باپ ۔ میں نے تجھے پالا پوسا جوان کیا تجھ پر اپنی کمائی اور اپنی عمر خرچ کی اور آج تو مجھ سے لڑ رہا ہے۔
بیٹے نے کہا ، "تو آپ نے پیدا ہی کیوں کیا اور اگر پیدا کیا اور پالا پوسا تو کون سا احسان کر دیا اپنے فائدے کے لیے ہی پیدا کیا اور سب کے ماں باپ کرتے ہیں آپ نے پال کے احسان نہیں کیا"
اس کے الفاظ سن کے بس ایک ہی بات دل میں آئی یا رب ایسی اولاد سے بہتر ہے کہ تو اولاد ہی نہ دے ، کیا بیتی ہو گی اس باپ پر اس نے تو اپنے باپ کے کلیجے کو چھلنی کر دیا کتنا تڑپا ہوگا وہ باپ اپنے بیٹے کے اس الفاظ سے۔
ابھی کل ہی کی بات ہے محلے کی ایک دادی بیمار تھیں ہم انکی عیادت کیلںٔے ان کے گھر پہنچے تو دیکھا کہ وہ ایک ٹوٹی ہوںٔی چارپاںٔی پر جہاں گھاس بھی اگی ہوںٔی ہے وہیں کونے میں پڑی ہوںٔی ہیں ۔
ان کے پانچ بیٹے ہیں جو کہ عالیشان گھروں میں رہتے ہیں سکون سے بیڈ پرسوتے ہیں اور ماں کو گھاس پر ، ٹوٹی ہوئی چارپائی پر چھوڑ دیا کوئی ماں کو لینے کو تیار نہیں ، اب ماں نے انہیں پال پوس کر جوان کر دیا شادی کر دی اب انہیں ماں باپ کی ضرورت نہیں رہی اب ماں انہیں بوجھ لگنے لگی ہے۔
یہ ہے ہمارا معاشرہ اور ہمارے معاشرے کی حقیقت۔
قدر کرو اپنے والدین کی ، اپنے گھر کے بزرگوں کی ، آج آپ انہیں چھوڑ دیں گے کل جب وہ ہمیشہ کے لیے آپ کو چھوڑ دیں گے تب آپ کو احساس ہوگا ، ماں کی قدر ان سے پوچھو جن کی ماں نہیں ہے۔
ماں باپ ہمیشہ نہیں رہتے ماں باپ چلے جاتے ہیں ان کے بعد صرف پچھتاوے رہ جاتے ہیں آپ نے ابھی ان کی اطاعت میں سر جھکا دینا ہے تاکہ بعد میں ساری عمر ندامت سے سر نہ جھکا رہے ،ماں باپ کی باتیں مانا کریں ، ان کو وقت دیا کریں اور پھر اپنی زندگی میں برکتیں دیکھیں۔
اور پھر اللہ تعالی نے بھی تو حکم دیا ہے نا
ترجمہ ۔ اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تو اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا اور اگر تیری موجودگی میں ان دونوں میں سے کوئی ایک بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے تو ان کے آگے اُف بھی نہ کہنا ، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا۔
اللہ ہم سب کو والدین کی اہمیت اور اس کے حقوق ادا کرنے کی توفیق دے۔
میری ہر خوشی، غم میں ، میری یاد میں بھی تو ہے
میرے قلب میں ،جگر میں ، میری سانس میں بھی تو ہے ❣️
انمول ✍️