اے نشیمن! تیری آغوشِ اُلفت سے رخصت کا یہ ساعت، دل پر ایک عجیب سوزِ ہجراں طاری کر رہا ہے۔ فضا میں بکھری ہوئی وہ مانوس خوشبوئیں، در و دیوار کی خاموش سرگوشیاں، اور یادوں کے وہ نقوشِ جاوداں—سب گویا دامنِ دل سے لپٹ کر روکنا چاہتے ہیں۔ مگر تقدیر کا قلم ایک نئی داستانِ سفر رقم کر چکا ہے، اور اب یہ مسافر ایک نئے افق کی جانب رواں دواں ہے۔
یہ کوچ محض ترکِ مألوف نہیں بلکہ ایک عزمِ راسخ اور جذبۂ خدمتِ دین کی روشن علامت ہے۔ علم کی شمع ہاتھ میں لیے جب کوئی سالکِ راہِ حق سفر اختیار کرتا ہے تو اس کے قدموں کی آہٹ بھی پیامِ ہدایت بن جاتی ہے۔ چنانچہ یہ عاجز، اپنے وطنِ عزیز کی پُر کیف فضاؤں کو الوداع کہہ کر، سرزمینِ چندرپور (مہاراشٹر) کی جانب عازمِ سفر ہے، کہ وہاں اذہانِ نو کو انوارِ علم سے منور کرنا ہے اور دلوں میں ذوقِ معرفت بیدار کرنا ہے۔
یہ لمحات اگرچہ حزن و الم سے لبریز ہیں، مگر باطن میں ایک لطیف سی طمانیتِ قلبی بھی موجزن ہے کہ یہ سفر رضائے الٰہی کی طلب میں ہے۔ ہر قدم ایک سعیِ مشکور، ہر لمحہ ایک سرمایۂ اخلاص، اور ہر سانس ایک خاموش دعا میں ڈھلتی جا رہی ہے۔
اے نشیمن! تُو گواہ رہ کہ تیرا یہ مسافر کسی دنیوی تمنّا کا اسیر نہیں، بلکہ ایک مقصدِ عالی کی جستجو میں محوِ پرواز ہے۔ دعا ہے کہ یہ رختِ سفر خیر و برکت کا پیامبر بنے، اور یہ ادنیٰ خادم جہاں بھی جائے، اپنے نقوشِ قدم سے راہِ علم کو ضیاء بار کرتا چلا جائے۔
نشیمن چھوڑ کر نکلا ہوں میں عزمِ سفر لے کر
دل میں سوزِ طلب، لب پر دعائے معتبر لے کر
کہیں اور بساؤں گا چراغِ علم کی محفل
میں نکلا ہوں سرِ راہِ حق نورِ ہنر لے کر
محمد مصعب پالنپوری